طیارے کا حادثہ، تحقیقات کا حکم، فیصلہ پہلے ہی بتا دیا

طیارے کا حادثہ، تحقیقات کا حکم، فیصلہ پہلے ہی بتا دیا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

تجزیہ:چودھری خادم حسین

حویلیاں کے قریب چترال سے اسلام آباد آنے والا جہاز پہاڑیوں میں گر کر تباہ ہو گیا اس حادثے میں عملے کے پانچ اراکین اور مسافروں سمیت 47 افراد شہید ہو گئے، اس حادثے میں جہاز میں موجود کوئی ایک فرد بھی نہیں بچ سکا بلکہ طیارے میں آگ لگنے سے کئی نعشیں قابل شناخت نہیں رہیں۔ ڈی۔ این۔ اے اور نادرا کے تعاون سے شناخت کی کوشش جاری ہے۔ یہ انتہائی دکھ والا المیہ ہے اس میں جنید جمشید بھی شہادت پا گئے اور ایک معروف خاندان کے فرد ڈپٹی کمشنر چترال اسامہ احمد وڑائچ بھی بیوی، بچی کے ساتھ اللہ کو پیارے ہو گئے ہیں۔ مرد، خواتین اور بچے بھی شہید ہوئے ہیں روایت کے مطابق حادثے کے بعد قیاس آرائیاں شروع اور بہت کچھ کہا جا رہا ہے جبکہ پی۔ آئی۔ اے انتظامیہ کی طرف سے تحقیقات کا بھی حکم دے دیا گیا ہے۔
ہمیں اس تحقیقات کی ہدایت یا حکم کے حوالے سے کچھ کہنا ہے کہ پہلے ہونے والے حادثات اور ان کے بلیک بکس ملنے کے باوجود ہر تحقیقات کی تان جہاز کے پائیلٹ پر ٹوٹتی چلی آ رہی ہے۔ حتیٰ کہ مارگلہ کی پہاڑیوں میں گرنے والے ایئر بلیو کے طیارے کی تحقیقات کا بھی نتیجہ یہی تھا کہ پائیلٹ سے اندازے کی غلطی ہوئی اور وہ بر وقت جہاز کو اوپر نہ اٹھا سکا یہ بہت ہی تسلسل کا معاملہ ہے کہ ہر تحقیق کی تان پائیلٹ پر ٹوٹتی چلی آ رہی ہے۔ اور یقیناً اس تحقیق کا نتیجہ بھی یہی ہوگا۔ لیکن ہمارا سیدھا سا سوال یہ ہے کہ اس بدقسمت طیارے کے کپتان صالح جنجوعہ کی چار بیٹیاں یتیم ہوئیں کیا اسے معلوم نہیں تھا کہ جہاز کریش ہونے کی صورت میں عملے سمیت وہ بھی موت سے ہمکنار ہوگا یا پھر یہ بتائیں کہ کسی تباہ ہونے والے طیارے کا کپتان اور عملہ بچ گیا ہو اور مسافر مارے گئے ہوں، اس لئے کپتان کی نیت پر شبہ کرنا درست نہیں کہ کوئی بھی جان بوجھ کر موت کو گلے نہیں لگاتا۔
ان اے ٹی آر طیاروں کے حوالے سے پہلے بھی بہت کچھ کہا گیا۔ اعتراض کئے گئے کہ یہ پرانے طیارے مشکوک ہیں اور مسلسل سفر کے قابل نہیں جبکہ ان کے کئی کئی چکر لگوائے جاتے ہیں خصوصاً لاہور، اسلام آباد، اسلام آباد، پشاور، چترال اور گلگت کے لئے انہی کو استعمال کیا جاتا ہے۔ ہم نے لاہور سے اسلام آباد اور اسلام آباد سے لاہور کے لئے اس طیارے سے سفر کیا ہوا ہے۔ جب بھی گئے اور جہلم کا علاقہ آیا تو یہ طیارے ایئر پاکٹ میں نیچے تک چلے آتے اور خوفزدہ کر دیتے ہیں۔ جہاں تک متاثرہ طیارے کا تعلق ہے تو کہا گیا ہے کہ تخریب کاری کے پہلو کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ یہ بھی تحقیق کو ایک اور رخ دینے اور عوام کی توجہ بٹانے والی بات ہے ورنہ اب تک یہ بات سامنے آ چکی ہے کہ کپتان نے انجن خراب ہونے کی شکایت کی کہ ایک انجن کام نہیں کر رہا پھر کئی اور حضرات نے بھی یہی تاثر دیا کہ جہاز ٹھیک نہیں تھا۔ سابق سیکریٹری سطح کی شخصیت نے بتایا کہ ایک انجن میں خرابی تھی۔ اسی بناء پر تو یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ چترال سے جہاز کی اڑان سے پہلے اس کی پڑتال ہوئی یا نہیں۔ اگر ہوئی تو یہ نقص کیوں سامنے نہیں آیا اور بہتر یہ ہے کہ اس پہلو کو زیر تحقیق لایا جائے کہ خراب انجن کے طیارے کو پرواز کے لئے کلیرنس کیوں اور کس نے دی؟
جہاں تک میڈیا کے ذریعے واقعات اور حالات کا اندازہ ہو رہا ہے تو عینی شاہدین نے یہ بتا کر کپتان صالح جنجوعہ کے لئے خراج عقیدت کا حق پیدا کر دیا کہ جہاز آبادی کے قریب خراب ہو کر گرنے لگا تھا کہ کپتان نے اسے پہاڑی کی طرف موڑ دیا۔ اگر یہ آبادی پر گر جاتا تو نقصان کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
ہم ذرا ماضی پر نظر ڈالیں تو بڑے مشہور اور مضبوط کہلانے والے فوکر طیاروں کے 96- 89- 72- 70 اور 2006ء میں جانکاہ حادثات ہو چکے ہوئے ہیں۔ 25 اگست 1989ء کو اسلام آباد سے گلگت جانے والا فوکر گلگت کی پہاڑیوں میں گم ہو گیا تھا۔ آج تک اس کا نشان نہیں ملا اور پر اسرار کہانیاں اب تک سنائی جاتی ہیں۔ یہ طیارہ اور مسافر اب تک لاپتہ کہلاتے ہیں۔ ہمیں یاد ہے کہ اس حادثے کے بعد فوکر طیاروں کے بارے میں بحث شروع ہوئی اور قرار دیا گیا کہ فوکر پرانے ہو چکے، یہ حادثات کا سبب بنتے ہیں۔ چنانچہ فوکر استعمال کرنا بند کر دیئے گئے تھے لیکن تھوڑے ہی عرصہ بعد پھر پروازیں شروع ہو گئیں لوگ بھی بھول گئے کہ ان طیاروں کی پرواز بند کر دی گئی تھی۔ حتیٰ کہ نوبت یہ پہنچی کہ 96 میں پھر فوکر تباہ ہوا اور اس کے بعد 2006ء میں ملتان میں گرا اور مسافروں سمیت تباہی کا سامان کیا گیا۔
المیہ یہ ہے کہ پی آئی اے بوجہ ادارے کے طور پر تباہ ہو چکی ہے اور اس کے پاس جہاز بھی پرانے ہیں۔ حکومتوں کی دلچسپی ملازمین یا نجکاری میں رہی اس کی اصلاح کی طرف توجہ نہ دی گئی۔ بتدریج اس میں بہت سرمایہ غرق کیا گیا لیکن کاروباری نُقطہ نظر سے یہ نہ ہوا کہ ایک ہی دفعہ بڑی رقم دے کر عملے سے گولڈن ہینڈ شیک کے تحت مناسب حجم کر لیا جاتا اور پرانے جہاز متروک کر کے نئے خریدے جاتے، لیکن ایسا نہیں ہو سکا اور اب بھی اس کی نجکاری ہی کا سوچا جا رہا ہے اور اس حادثے کے بعد تو دلیل بھی دی جائے گی۔ ہماری گزارش ہے کہ قومی اور ملی نقطہ نظر اور جذبے سے سوچیں اور اس کا ایک ہی بار حل نکالیں ورنہ تو پی آئی اے حادثات میں بھی ترقی کرتی چلی جا رہی ہے۔
طیارہ حادثہ

مزید :

تجزیہ -