قبائل کی اکثریت فاٹا کو ضم کرنے کی حمایت نہیں کر تی ، ملک نادر منان مہمند

قبائل کی اکثریت فاٹا کو ضم کرنے کی حمایت نہیں کر تی ، ملک نادر منان مہمند

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مہمند ایجنسی ( نمائندہ پاکستان) مہمند ایجنسی، فاٹا کے اکثریت قبائل اور عمائدین صوبے میں ضم کرنے کو تسلیم نہیں کرتے۔ وقت اور حالات کے مطابق اصلاحات لا کر ترقیاتی اور عدالتی بہتری لائی جائے۔ قبائلی مشران مفادات کی نہیں زمینی حقائق کے مطابق جوانوں کا بہتر مستقبل چاہتے ہیں۔ طلباء اور جوانوں کو سیاسی مقاصد کیلئے گو ملک گو اور گو ایف سی آر گو کا نعرہ دیا گیا ہے۔ جو قبائلی علاقہ میں بد امنی کا سبب بن سکتی ہے۔ قبائل کا الگ تشخص بر قرار رکھ کر دوبارہ آباد کاری کی جائے۔ فاٹا حالات جنگ میں ہے۔ مناسب وقت پر اصلاحات اور صوبے میں ضم ہونے کی حمایت یا مخالفت پر ووٹنگ کی جائے۔ ان خیالات کا اظہارجمعرات کے روز مہمند پریس کلب میں منعقدہ مہمند ایجنسی کے مختلف تحصیلوں اور اقوام کے سرکردہ مشران پر مشتمل گرینڈ جرگہ اور نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ملک نادر منان مہمند، ملک حاجی احمد خویزئی، ملک امیر نواز خان حلیمزئی، ملک عطا ء اللہ ترگزئی، ملک آیاز خان، ملک اسماعیل شیر، ملک فیاض خان، ملک صاحب داد ، ملک نثار احمد، ملک زیار گل، ملک اورنگزیب، ملک حاجی جان خان، ملک زیارت گل، ملک سلیم سردار اور دیگر نے کیا۔جرگہ میں ایک سو بیس تک قبائلی عمائدین و مشران نے شرکت کی۔مقررین نے کہا کہ علاقے کے امن و امان ، علاقائی رسم و رواج اور حکومت کا ساتھ دینے کیلئے ڈیڑھ سو تک قبائلی مشران نے قربانیاں دی ہے۔ سیکورٹی فورسز اور انتظامیہ کے ساتھ بھر پور تعاون کرتے آرہے ہیں۔ مگر سیاست کا ناجائز فائدہ اُٹھا کر سیاسی پارٹیاں جوانوں کو ورغلا رہے ہیں۔ ان کے منہ میں نفرت پر مشتمل نعرے ڈال کر اکثریت قبائل موجودہ نظام میں اصلاحات اور ایف سی آر صوبہ خیبر پختونخواہ میں ضم ہونا کسی طور پر فاٹا کے لوگوں کے مفاد میں نہیں۔ بلکہ اکثر سیاسی پارٹیاں سیاسی مفادات کیلئے اپنا ایجنڈا مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ جس کی بھر پور مخالفت کر ینگے۔انہوں نے کہا کہ قبائل موجودہ وقت میں حالت جنگ جیسی صورتحال سے گزر رہے ہیں۔ اس لئے حکومت دوبارہ آباد کاری اور ترقی پر توجہ دے۔ کیونکہ ایف سی آر اور قبائلی مشران ترقیاتی منصوبوں کے مخالف نہیں۔قبائل پٹواری، کچہری، تھانہ وغیرہ کا عادی نہیں اور نہ ہی پسند کرتے ہیں۔ اس لئے ایک کروڑ قبائل اور ان کے مشران کو اعتماد میں لئے بغیر کسی مسلط کردہ فیصلے کو تسلیم نہیں کیا جائیگا۔ صوبے میں ضم ہونے کی اکثریت کے دعویدار ہمارے ساتھ حمایت اور مخالفت میں رائے شماری کریں۔ تمام قومی مشران نے آئندہ جرگوں اور جے یو آئی کی قبائل کانفرنس میں بھر پور شرکت اور نمائندگی کرنے کا اعلان کیا۔