سیاسی جماعتیں انسانی حقوق کے چارٹر پر اتفاق کر لیں، سینیٹر فرحت اللہ بابر

سیاسی جماعتیں انسانی حقوق کے چارٹر پر اتفاق کر لیں، سینیٹر فرحت اللہ بابر

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


اسلام آباد(خصوصی رپورٹ)پاکستان پیپلزپارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے سیاسی پارٹیوں سے کہا ہے کہ وہ ایک انسانی حقوق کے چارٹر پر 2016ء ہی میں اتفاق کر لیں جس طرح ایک دہائی قبل 2006ء میں میثاق جمہوریت پر اتفاق رائے ہوا تھا۔ینگ پارلیمنٹیرینز فورم کی جانب سے انسانی حقوق پر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف پارلیمنٹری سروسز میں منعقد کئے جانے والے ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ ینگ پارلیمنٹرینز فورم 80نوجوان اراکین قومی اسمبلی کا ایک ایسا گروپ ہے جس میں تمام پارٹیوں کے اراکین شامل ہیں اور یہ گروپ انسانی حقوق کو درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے قائم کیا گیا ہے۔ سینیٹر فرحت اللہ بابر نے تجویز دی کہ یہ قومی سیاسی چارٹر زندگی کے حق، آزادی کے حق، تحفظ کے حق اور چار بنیادی آزادیاں جن میں آزادی رائے، آزادی اطلاعات، ایک جگہ جمع ہونے کی آزادی اور کسی بھی تنظیم سے منسلک ہونے کی آزادی کے حق کیلئے اپنے کام کی ابتدا کرے۔ یہ تمام آزادیاں جن میں سب سے پہلے آزادی رائے ہے کسی بھی شہری کے لئے ازحد ضروری ہے تاکہ وہ اپنے خدشات اور تحفظات کا اظہار کر سکیں، اپنی امیدیں اور خواہشات کے لئے آواز بلند کر سکیں، قومی ایشوز پر متبادل رائے دے سکیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام آزادیاں مستقل خطرے میں رہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل سکیورٹی کے نام پر یہ آزادیاں اکثر نظرانداز کر دی جاتی ہیں اور انہیں سلب کر لیا جاتا ہے۔ انہوں نے سیاسی پارٹیوں سے اپیل کی کہ وہ قومی سلامتی اور عوامی مفادات کے درمیان توازن پیدا کرنے کے لئے کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ قومی سطح پر انسانی حقوق کا ایجنڈا آگے بڑھانے کیلئے سیاسی پارٹیوں میں اپنے اندر اصلاحات لانی پڑیں گی۔ انہوں نے تمام پارٹی کے نوجوان پارلیمنٹیرینز سے کہا کہ وہ اس مقصد کے لئے ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی پارٹیوں میں جمہوریت نہ ہونے کی وجہ سے وہ گورننس میں جمہوریت پیدا کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو جاتے ہیں اور جمہوریت انسانی حقوق کے لئے انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے سیاسی پارٹیوں سے کہا کہ وہ پارٹی کے اندر انسانی حقوق کے سیل قائم کریں تاکہ وہ ملک کے اندر انسانی حقوق کی صورتحال پر نظر رکھ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ سن سیٹ کلاز کے بعد ہمیں یقینی بنانا چاہیے کہ فوجی عدالتیں ختم کر دی جائیں۔ فوجی عدالتیں بناتے وقت کہا گیا تھا کہ صرف دہشتگردوں کو سزائیں دی جائیں گی لیکن دیگر جرائم پیشہ افراد کو بھی پھانسی دے دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی ایجنسیوں کو قانون کے دائرے میں لایا جائے اور کچھ کالعدم تنظیموں کو ابھی بھی کام کرنے دیا جا رہا ہے۔

مزید :

صفحہ آخر -