اقوام عالم کرپشن کے خاتمہ کیلئے سرگرداں ہے،امریکی پراسیکیوٹر نینسی لینگٹن

اقوام عالم کرپشن کے خاتمہ کیلئے سرگرداں ہے،امریکی پراسیکیوٹر نینسی لینگٹن

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

اسلام آباد(سہیل چوہدری )امریکی جسٹس ڈیپارٹمنٹ کی پراسیکوٹر نینسی لینگٹن کا کہنا ہے کہ اقوام عالم کرپشن کے خاتمہ کیلئے سرگرداں ہے اور اس کے خاتمہ کیلئے تحقیقاتی رپورٹرر اہم کردار ادا کرسکتے ہیں ، وہ گزشتہ روز یہاں امریکی سفارت خانہ میں وڈیو لنک کے ذریعہ 9دسمبر کے’’ عالمی دن برائے کرپشن مکاؤ ‘‘کے تناظر میں پاکستانی سینئر صحافیوں سے گفتگو کررہی تھیں ، اس موقع پر امریکی سفارت خانے میں ڈپٹی ترجمان مارلین ایم نائس اور شہاب ظفر بھی موجود تھے ، یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ امریکی پراسیکیوٹر نینسی لینگٹن منی لانڈرنگ اور مالی کرپشن کی ماہر ہیں ، وہ ماضی میں ایک کہنہ مشن صحافی تھیں اور ان کے کام اور تحقیقات کا دائرہ مالی کرپشن پر محیط تھا ، انہوں نے بطور صحافی امریکہ سمیت بیرون ممالک بشمول پاکستان ،بنگلہ دیش، مصر ،فلپائن اور کرغیزستان میں صحافتی امور انجام دیئے ، وہ بی بی سی میں بھی کام کرتی رہیں ، ان ممالک میں انہوں نے منی لانڈرنگ کے حوالے سے صحافیوں ،ججوں اور پراسیکیوٹروں کی تربیت کے خصوصی پروگراموں میں بطور ٹرینر شرکت کی ، انہوں نے مالی جرائم کی تحقیقات انٹی منی لانڈرنگ اور انسانی سمگلنگ کی روک تھام کیلئے خصوصی پروگرام وضع کیئے ، نینسی نے کہا کہ کرپشن کے لئے لوگ منی لانڈرنگ اور آف شور ٹیکس پناہ گاہیں کے حربے اختیار کرتے ہیں ، جبکہ کرپشن کی ایک بڑی وجہ بنکاری نظام میں موثر’’ ریگولیشنز‘‘کا فقدان ہوتا ہے ، انہوں نے بتایا کہ امریکہ میں بنکوں کے اندر کھاتہ داروں پر بنک حکام نظر رکھتے ہیں اور ان کے اکاؤنٹس میں غیر معمولی رقوم کی غیر معمولی نقل و حرکت کو مانیٹر کرکے ذمہ دار تک پہنچ جاتے ہیں ، انہوں نے بتایا کہ امریکہ میں ایف بی آئی کا کرپشن کے حوالے سے ایک خصوصی یونٹ ہے جبکہ ایف بی آئی کسی پاکستانی کے ملوث ہونے کی صورت میں نیب سے مل کر بھی تحقیقات کرتی ہے انہوں نے بتایا کہ پاکستان کو بیرونی ممالک سے ترسیلات کی مد میں سالانہ 18ارب ڈالر آتے ہیں اور ایک انداز کے مطابق اتنی ہی رقم دیگر غیر رسمی اور غیر قانونی ذرائع سے آتی ہے ، مالی امور پر تحقیقات کیلئے صحافیوں کو کسی ایک ایشو پر طیول مدت تک کام کرنا ہوتا ہے ۔