لائن لاسسز کا بوجھ صارفین پر ڈالنے کا اقدام ہائیکورٹ میں چیلنج

لائن لاسسز کا بوجھ صارفین پر ڈالنے کا اقدام ہائیکورٹ میں چیلنج

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 پشاور(نیوزرپورٹر)پیسکو کی جانب سے بجلی چوروں کو چھوٹ دینے اور ان کے خلاف کاروائی کرنے کی بجائے لائن لاسز کا بوجھ بجلی بل باقاعدگی سے ادا کرنے والے صارفین پرڈالنے کے اقدام کوپشاورہائی کورٹ میں چیلنج کردیاہے عام شہری کی جانب سے دائررٹ میں یہ بھی کہا گیاہے کہ خیبرپختونخوامیں پن بجلی تیاہوتی ہے جبکہ فیول چارجز کے نام پرغریب صارفین سے اربوں روپے ماہوار بٹورے جارہے ہیں پشاورہائی کورٹ کے جسٹس نثارحسین اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پرمشتمل دورکنی بنچ نے رٹ پٹیشن پرپیسکو اورمتعلقہ حکام کونوٹس جاری کرکے جواب مانگ لیا ہے قاضی جواداحسان اللہ ایڈوکیٹ کی وساطت سے سید ظفر کی جانب سے دائررٹ میں پیسکو اوردیگرحکام کوفریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیاگیاہے کہ پیسکو نے اب یہ پالیسی اختیار کر رکھی ہے کہ جن علاقوں میں بجلی چوری زیادہ ہوتی ہے وہاں زیادہ لوڈشیڈنگ کی جاتی ہے اوراس طرح جہاں لائن لاسز زیادہ ہوں وہ لائن لاسزبجلی بل باقاعدگی سے ادا کرنے والے صارفین پرتقسیم کردئیے جاتے ہیں اوراس طرح ان پر اضافی بوجھ ڈال دیاجاتا ہے جبکہ ٹیکنیکل لاس بھی صارف پرڈالاجاتاہے جبکہ پیسکو بجلی چورکوپکڑنے کی بجائے بل ادا کرنے والے صارف پربوجھ ڈال دیتی ہے رٹ میں یہ بھی کہاگیاہے کہ خیبرپختونخواکی بجلی پانی سے پیداہوتی ہے لیکن اس کے باوجود بجلی کے بل میں صارفین سے فیول چارجزبھی وصول کئے جاتے ہیں جو کہ غیرقانونی اور غیرآئینی اقدام ہے لہذاپیسکو کے ان اقدام کو غیرآئینی اورغیرقانونی قراردیاجائے فاضل بنچ نے رٹ کی ابتدائی سماعت کے بعد متعلقہ حکام کونوٹس جاری کرکے جواب مانگ لیاہے