معاشرتی رویے خواتین کی با اختیاری میں اہم رکاوٹ ہیں، ماروی میمن

معاشرتی رویے خواتین کی با اختیاری میں اہم رکاوٹ ہیں، ماروی میمن

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) معاشرتی رویے خواتین کو با اختیار بنانے میں اہم رکاوٹ ہیں،سماجی رویے تبدیل کیے بنا خواتین کی سماجی و معاشی حالات میں بہتری خواب سے زیادہ کچھ نہیں۔ عورتوں کی حقیقی با اختیاری میں سب سے بڑی رکاوٹ ہمارے معاشرتی رویے ہیں۔ ہمیں عورتوں کے سماجی و معاشی حالات بہتر بنانے کے لیے دوسرے اقدامات کے علاوہ سماجی رویوں میں تبدیلی پر خصوصی توجہ دینی ہو گی۔ ا ن خیالات کا اظہار بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کی چئیرپرسن ماروی میمن نے پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی ) کی19 ویں سالانہ کانفرنس کے تیسرے و اختتامی روز ’ جنوبی ایشیا میں غربت اور عدم مساوات اور دیہی و شہری روابط ‘ے موضوع منعقدہ نشست سے خطاب کے دورانکیا۔ کانفرنس کے دوران موسمیاتی تبدیلیوں، قدرتی آفات کے خطرات کے مقابلے، جنوبی اشیا میں امن و سلامتی، برابری پر مبنی شہریت اور شہری حقوق، جنگ اور آفت زدہ علاقوں میں غذائی تحفظ کی صورت حال کے علاوہ صحت، توانائی، معیشت اور خدمات کے موضوعات پر گفتگو کی الگ الگ نشستوں کے دوران مختلف ترقیاتی شعبوں کے ماہرین نے اظہار خیال کیا۔ماروی میمن نے مذکوہ نشست سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بی آئی ایس پی غریب ترین خواتین کو نقد مالی معاونت ہی بہم نہیں پہنچا رہا بلکہ اس کے اقدامات عورتوں سے متعلق سماجی رویوں میں تبدیلی لانے کا باعث بن رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی آئی ایس پی کے پاس ملک کی غریب ترین آبادی کے اعدادوشمار جو 5.3 خاندانوں پر مشتمل ہے، کے حوالے سے انتہائی مستند اعداو شمار ہیں جو اس وقت وفاقی اور صوبائی حکومتوں ، سول سوسائٹی اور تحقیق سے وابستہ 40 سے زیادہ اداروں کے استعمال میں آ رہے ہیں۔ماروی میمن نے کہا کہ بی آئی ایس پی کا وسیلہ تعلیم پروگرام ملک کے پسماندہ ترین اضلاع میں لڑکیوں کی تعلیم کی صورت حال بہتر بنانے میں کردار ادا کر رہا ہے۔ نشست کے دوران تحسین احمد، مصطفے تالپور، ڈاکٹر محمد یاسین، حمید لغاری اور جنید زاہد نے بھی اظہار خیال کیا اور جنوبی ایشیا میں غربت اور معاشی ناہمواریوں کی مختلف جہتوں کو اجا گر کرتے ہوئے کہا کہ مناسب حکومتی اقدامات کی بدولت غربت اور عدم مساوات میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ عالمی ترقیاتی مقاصد کے ترجیحاتی اقدمات کے موضوع پر نشست سے اظہار خیال کرتے ہوئے مقررین جن میں سینئر ریسرچرآمنہ خان، ڈاکٹر ، ایس ڈی پی آئی داکٹر وقار، ڈاکٹر نعیم ظفر، ڈاکٹر ربیعہ ملک اور سابق سینیٹر روشن خورشیس بروچا نیزور دیا کہ دنیا کی تمام حکومتو ں کوغریب اور کمزور طبقات کی حالت بہتر بنانے پر خصوصی توجہ دینی چاہئے۔جنگ اور آفت زدہ علاقون میں روزگار کے وسائل کے بارے میں نشست سے خطاب کرتے ہوئے سینٹر فار پاورٹی انیلاسس، سری لنکا کی ڈاکٹر وگیشا گنا سکیرا نے کہا کہ سری لنکا کے جنگ زدہ علاقے جیفنا میں بعد از جنگ صورت حال میں بہتری آئی ہے۔ سیاحت کے علاوہ مقامی آبادی کے لیے روززگار کے دوسرے مواقع بھی بہتر ہوئے ہیں۔ راشل گورڈن نے اپنی گفتگو آفت زدہ علاقوں میں صحت، تعلیم اور روزگار کی سہولتوں میں بہتری کے لیے حکومتوں کے کردار پر روشنی ڈالی۔ ایس ڈی پی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عابد سلہری نے کہا کہ مختلف معاشی سطحوں کے ساتھ پولیٹکل اکانومی کے مختلف پہلوؤں کو مربوط کرنے کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان میں نئی مردم شماری کی جائے۔انہوں نے کہا کہ قدرتی آفات کی صورت میں خواتین اور بچوں کو زیادہ سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس لیے پالیسی سازی کے وقت ان کی ضروریات پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ شمولیتی جنوب ایشیائی معاشروں کے موضوع پر ایک دوسری نشست سے خطاب کرتے ہوئے سینئر صحافی آئی اے رحمان نے کہا کہ اقلیت اصل میں ایک مذہبی نہیں بلکہ سیاسی معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سب سے مراعات یافتہ شخص امیر مسلمان مرد اور سب سے کمزور غیر مسلم غریب عورت ہے۔ معروف مصنف احمد سلیم نے کہا کہ برصغیر میں تشدد کی جڑیں تقسیم کے وقت سے جڑی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اب ہم اس پر گفتگو کی بجائے کہ کس نے کس کو مارا، کس نے کس کو بچایا پر کی جائے۔ ڈاکٹر نتھا لین رینالڈز، ڈاکٹر نوشران سنگھ، ڈاکٹر عیشاترین نے بھی اس موقع پر گفتگو کی۔ آفات کے خطرات کو محدود کرنے (ڈی آر آر) پر منعقدہ ایک دوسری نشست سے اظہار خیال کرتے ہوئے ایس ڈی پی آئی کے شفقت منیر نے کہا کہ خطے میں آفات سے مؤثر طور پر نمٹنے کے لیے پیشگی اطلاع کے نظام میں بہتری اور علاقائی تعاون کی صورت حال کو بہتر بنانا پڑے گا۔ نشست سے ڈاکٹر عمران خالد، زینب نعیم اور سلمان دانش نے بھی اظہار خیال کیا اور آفات کی صورت میں مقامی آبادیوں کو محفوظ بنانے کے لیے مختلف تجاویز و سفارشات پیش کیں۔