خدمات فراہم کرنیوالے اداروں کو روایتی طور پر چلانے کا دور گزر چکا ہے ، عنایت اللہ

خدمات فراہم کرنیوالے اداروں کو روایتی طور پر چلانے کا دور گزر چکا ہے ، عنایت ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

پشاور( سٹاف رپورٹر ) خیبر پختونخوا کے سینئر وزیر بلدیات عنایت اللہ خان نے کہا ہے کہ اداروں میں سیاسی مداخلت ختم کر کے بہتری لائی ہے جسے عوام محسوس کر رہے ہیں خدمات فراہم کرنے والے اداروں کو روایتی طور چلانے کا دور گزرچکا ہے وقت کے تقاضوں کے مطابق شہری ودیگر خدمات کی فراہمی کے لئے کارپوریٹ کلچر کو اپنانا ہوگا۔وہ کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے وفد سے بات چیت کر رہے تھے جس نے منیجنگ ڈائریکٹر مصباح الدین فرید کی قیادت میں ان سے ملاقات کی، وفد میں ڈائریکٹر ریونیو محمد شکیل قریشی، پراجیکٹ ڈائریکٹر حسن اعجاز کاظمی، ڈپٹی پراجیکٹ ڈائریکٹر محمد ایوب شیخ اور ٹیکنیکل سٹاف آفیسر خرم شہزاد شامل تھے، واٹر اینڈ سینی ٹیشن سروسز پشاور کے چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر خانزیب خان اور عالمی بنک کے نمائندے مسرو ر احمد بھی اس موقع پر موجود تھے۔ سینئر وزیر نے وفد کو ڈبلیو ایس ایس پی کے قیام ومقاصد سے آگاہ کیااور کہا کہ کمپنی کے قیام سے شہری خدمات میں بہتری آئی ہے ڈبلیو ایس ایس پی میں کارپوریٹ کلچر اپنانے کے مثبت نتائج نکلے ہیں حکومت اب ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز میں واٹر اینڈ سینی ٹیشن سروسز کمپنیز پر توجہ دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے تجاوزات کے خلاف تاریخی آپریشن کیا با اثر افراد سے سرکاری جائیداد واگزار کرائی خود مختار اداروں کو تسلسل اور پائیداری کے لئے حکومت پر انحصار کے خاتمے کے لئے کارکردگی بہتری بنانا ہوگی حکومت اداروں کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے، کم وسائل میں زیادہ کام کیا ہے، صوبائی حکومت نے اختیارات نچلی سطح پر منتقل کر دیئے ہیں مقامی سطح پر لوگوں کے مسائل حل ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ڈبلیو ایس ایس پی کے امور میں کوئی مداخلت نہیں کر رہی، بہتر خدمات کے لئے اہداف کا تعین کر کے کمپنی کوذمہ داری سونپ دی ہے، کمپنی کے لئے مواقع موجود ہیں جن سے استفادہ کرنے کے لئے حکومت مدد کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔ کارکردگی کی بنیاد پرڈبلیو ایس ایس پی کو تمام اداروں، ضلعی حکومت اور چاروں ٹاؤنز انتظامیہ سمیت ہر سطح پر حمایت موجود ہے جس کی واضح مثال یہ ہے کہ تمام متعلقہ اراکین صوبائی اسمبلی اور بلدیاتی منتخب نمائندے کارکردگی کو دیکھ کر ان کے علاقوں کو ڈبلیو ایس ایس پی کی حدود میں شامل کرنے کے مطالبے کرتے آرہے ہیں،ڈسٹرکٹ ناظم بورڈ ممبر ہیں متعلقہ ٹاؤن ناظمین کو بھی بورڈ شامل کرنے کافیصلہ ہوگیاہے۔ انہوں نے دیگر صوبوں سے روابط اور ایک دوسرے کے تجربات سے استفادے کو وقت کی ضرورت قرار دیااور کہا کہ اس کے شہری خدمات میں بہتری لانے پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ قبل ازیں ایم ڈی کراچی واٹر بورڈ مصباح الدین فریدنے اپنے ادارے میں اصلاحات لانے بارے صوبائی وزیر کو بریفنگ دی اور کہا کہ سندھ حکومت کراچی واٹر بورڈ کی کارکردگی میں بہتری لانے کے لئے مختلف آپشنز پر غور کر رہی ہے عالمی بنک اس مقصد کے لئے حکومت کے ساتھ تعاون کرے گا۔ انہوں نے شہری خدمات میں بہتری لانے کے لئے اٹھائے گئے خیبر پختونخوا حکومت کے اقدامات کو سراہا اور کہا کہ کراچی واٹر بورڈ ڈبلیو ایس ایس پی کے تجربات سے استفادہ کرے گا۔ وفد نے صوبائی وزیر کو سندھی اجرک اور روایتی ٹوپی کا تحفہ بھی پیش کیا۔