ایس ای سی پی کا قوائد کی خلاف ورزی پر 54 کمپنیوں کو اظہارِ وجوہ کے نوٹس

ایس ای سی پی کا قوائد کی خلاف ورزی پر 54 کمپنیوں کو اظہارِ وجوہ کے نوٹس

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

لاہور (سپیشل رپورٹر) سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے ماہ اکتوبر اور نومبرکے دوران انضباطی قوانین اور قوائد و ضوابط کی خلاف ورزی پر 54 کمپنیوں کی انتظامیہ،آڈیٹرز اور ڈائریکٹرز کو اظہارِ وجوہ کے نوٹس جاری کرتے ہوئے باقاعدہ کارروائی کا آغاز کر دیا ہے جبکہ اسی عرصے کے دوران 50 کمپنیوں کے خلاف تادیبی کارروائی بھی مکمل کی گئی۔ ایس ای سی پی کی طرف سے خاص طور پر کمپنیوں کے مالیات، حسابات، سہ ماہی رپورٹیں کو باقاعدگی سے جمع کروانا اور کمپنیوں کی جانب سے تازہ ترین معلومات کی حامل ویب سائٹ لازماً برقرار رکھنے کی شرائط پر زیادہ نظر رکھی جا رہی ہے۔ ایس ای سی پی نے میڈیا کے ذریعے کمپنیوں کو کئی بار یاددہانی کرائی ہے کہ موجودہ اور امکانی سرمایہ کاروں کے لئے انتہائی ضروری معلومات ویب سائٹ پر فراہم کریں۔ اس ضمن میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام 17 کمپنیوں کے خلاف اظہارِ وجوہ کی کارروائیوں کا آغاز کر دیا گیا ہے، اس عرصہ میں 13 ایسی کمپنیوں کے خلاف کارروائی مکمل کی گئی جو اس سلسلے میں غفلت کی مرتکب ہوئیں۔ کمپنیز کے نئے آرڈیننس 2016ء کے نفاذ کے ساتھ ہی کمپنیوں کے لئے لازمی قرار دیا گیا ہے کہ وہ اپنی ویب سائٹ پر اپنے سالانہ اور سہ ماہی گوشوارے بھی فراہم کریں ساتھ ہی یہ گوشوارے برقیاتی ذرائع بروئے کار لاتے ہوئے ایس ای سی پی اور دیگر حصص داران کو بھی پہنچائیں۔ ایس ای سی پی کے متعلقہ ڈیپارٹمنٹ نے سہ ماہی گوشوارے جمع نہ کروانے یا ان میں تاخیر برتنے پر 14 کارروائیاں پایہ تکمیل تک پہنچائیں اور کمپنیوں پر جرمانے عائد کئے جو یہ اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ اہم معلومات کو چھپائے رکھنے کو قطعاً برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ایس ای سی پی نے ان کمپنیوں کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جنہوں نے حصص داران کی منظوری کے بغیر، غیر معمولی تجارتی قرضوں کی آڑ میں بھاری فنڈز کے ذریعے ان سے منسلکہ کمپنیوں کو ناجائز فوائد کی منظوری دی اور مذکورہ فنڈز، جس نے کمپنی کی لیکویڈیٹی کونامناسب طور پر متحرک اور افشا کیا تھا، پرکوئی بھی مارک اَپ وصول نہیں کیا۔ ایس ای سی پی نے بیشتر کمپنیوں کے آڈیٹرز کے خلاف قابل اطلاق احکامات کے مطابق اپنے فرائض کی ادائیگی نہ کرنے پر اورکمپنی کے حسابات میں غلط بیانی کو ظاہر کرنے میں ناکامی پر کارروائیاں کیں۔ بعض کمپنیوں میں ان حا لات کا جائزہ بھی لیا گیا جہاں 75 لاکھ سے زائد ادا شدہ سرمایہ رکھنے والی نجی کمپنیوں نے نااہل اور نا تجربہ کار اشخاص کواپنے قانونی آڈیٹر کے طور پرتعینات کیا تھا۔ ایسے اشخاض عمومی طو ر پر کمپنیز آرڈیننس 1984ء کے طرف سے مقرر کئے گئے آڈٹ رپورٹ کے مواد اور فارمیٹ سے بھی واقف نہیں۔ اس ماہ ایک نجی کمپنی کے نااہل قانونی آڈیٹر پر جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔ ایس ای سی پی کے متعلقہ ڈیپارٹمنٹ نے ایک کمپنی کی جانب سے عوامی پیشکش کے موقع پر اپنے پراسپیکٹس میں غلط معلومات فراہم کرنے پر اس لسٹڈ کمپنی کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔ اس کمپنی نے ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے مطالبے کے باوجود متعلقہ معلومات ایس ای سی پی کو فراہم نہیں کیں۔ ڈیپارٹمنٹ نے منسلکہ کمپنیوں میں غیر مجاز سرمایہ کاری، اکاؤنٹس میں غلط اور جھوٹے گوشوارے، حصص یافتگان کی منظوری کے بغیر کمپنی کے اثاثہ جات کی فروخت، پرویڈنٹ فنڈ کی رقم کو جمع کروانے میں تاخیر،آڈیٹر کی جانب سے فرائض کی عدم ادائیگی، لسٹڈ کمپنیوں کو عبوری اکاؤنٹس کا اندراج کروانے،سالانہ عمومی اجلاس اور بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس نہ منعقد کرنے، اس کے اپنی حصص دار کمپنی کی کمپنی کی جانب سے غیر مجاز خریداری وغیرہ کے ضمن میں قانونی احکامات کی عدم تعمیل پر /تازہ کارروائیوں کا آغاز کیا ہے۔ سکیورٹیز اینڈا یکسچینج کمیشن آف پاکستان نے اس ضمن میں متاثرہ حصص یا فتگان کے اطمینان کے مطابق 72 حصص یافتگان کی شکایات کا کامیابی سے تصفیہ کیا۔ اس مدت کے دوران، نان لسٹڈ کمپنیوں کے لئے کارپوریٹ گورننس کے اصولوں کے بارے میں آگہی سیشن کروانے کے لئے، سکیورٹیز اینڈا یکسچینج کمیشن آف پاکستان ،بین الا قوامی فنانس کارپوریشن (آئی ایف سی) اور سنٹر آف انٹرنیشنل پرائیویٹ انٹرپرائزز کے درمیان تعاون کے معاہدے پر دستخط کئے گئے۔
ایس ای سی پی