مہمند اور اورکزئی ایجنسیوں میں 252 سکولوں کی بند ش کیخلاف حکم امتناعی میں توسیع

مہمند اور اورکزئی ایجنسیوں میں 252 سکولوں کی بند ش کیخلاف حکم امتناعی میں ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

پشاور(نیوزرپورٹر)پشاورہائی کورٹ کے جسٹس یحیی آفریدی اورجسٹس اکرام اللہ خان پرمشتمل دورکنی بنچ نے مہمند اور اورکزئی ایجنسیوں میں252سکولوں کی بندش کے خلاف جاری حکم امتناعی میں توسیع کرتے ہوئے سیکرٹری سیفران سے جواب مانگ لیاہے فاضل بنچ نے یہ احکامات گذشتہ روز درخواست گذار ملک دوست محمد ساکن مہمندایجنسی اور نذیر منشاء ساکن ہنگواورکزئی کی جانب سے شاہ نواز ٗ خالدرحمان اوررضا خان صافی ایڈوکیٹس کی وساطت سے دائررٹ پٹیشن پرجاری کئے اس موقع پرعدالت کو بتایاگیاکہ 16 جنوری2016ء کو فاٹاسیکرٹریٹ نے ایک پالیسی دی کہ فاٹا میں جن سکولوں میں طلباء کی تعداد کم ہوانہیں بند کرکے وہاں کے طلباء اورعملے کو دیگرسکولوں کومنتقل کیاجائے اورمہمند اوراورکزئی ایجنسی میں ایسے کل252 سکول قرارپائے انہوں نے عدالت کو بتایا کہ فاٹاکی ریشنلائزیشن پالیسی غیرآئینی اورغیرقانونی ہے کیونکہ جو سکول قائم کئے گئے ہیں وہ 2003ء کی مردم شماری کے مطابق بنائے گئے ہیں اوراب2016میں آبادی دگنی ہوچکی ہے اس طرح یہ ریاست کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ تعلیم کی فراہمی کومفت اورآسان بنائے جبکہ چھوٹے بچوں کوکس طرح دوسرے سکولوں کومنتقل کیاجاسکتاہے جبکہ آپریشن کے باعث قبائلی عارضی طورپربے گھرہوچکے ہیں اوران قبائلیوں کے واپس آنے پرپھران کومشکلات کاسامناہوگا فاضل بنچ نے سکولوں کی بندش کے حوالے سے جاری کردہ حکم امتناعی میں توسیع کرتے ہوئے سیکرٹری سیفران سے جواب مانگ لیاہے ۔