افغان مہاجرین کی واپسی کا عمل تیز ہونا چاہیے: وزیر اعلیٰ سندھ

افغان مہاجرین کی واپسی کا عمل تیز ہونا چاہیے: وزیر اعلیٰ سندھ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ صوبہ سندھ گذشتہ 37سالوں سے رجسٹر اور بغیر رجسٹر افغان مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے، مگر اب متعدد اسباب بشمول امن امان کی صورتحال کی وجہ سے انکی واپسی کا عمل تیز ہونا چاہیے۔ انہوں نے یہ بات یونائیٹیڈ نیشن ہائی کمشنر برائے ریفیوجیز مسٹر اندرائیکاراتوتی جنہوں نے اپنے وفد کے ہمراہ وزیراعلیٰ ہاؤس میں ملاقات کی سے باتیں کرتے ہوئی کہی۔ وفد کے اراکین میں ڈپٹی چیف یو این ایچ سی آر مسٹر یاؤ، چیف کمشنر برائے افغان مہاجرین اسلام آباد عمران زیب،ڈپٹی ری پریزنٹیٹویو این ایچ سی آر جوہن سیفونتی،یو این ایچ سی آر فیلڈ آفیس کے ہیڈ یونس صاحبزادہ ،کمشنر افغان مہاجرین غضنفر علی آغا اور یو این ایچ سی آر فیلڈ آفیس کراچی کے فیلڈ ایسوسیئیٹ سید بلال آغا شامل تھے۔وزیراعلیٰ سندھ کی معاونت آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ، پرنسپل سیکریٹری نوید کامران بلوچ، سیکریٹری داخلہ شکیل منگیجو نے کی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ افغان مہاجرین کی ایک بڑی تعداد سندھ باالخصوص کراچی اور اسکے ملحقہ علاقوں گذشتہ 37سالوں سے مقیم ہے، سندھ حکومت انکی کھلے دل کے ساتھ میزبانی کر رہی ہے اور اپنے وسائل جوکہ ہمارے لوگوں کیلئے ہیں ان پر خرچ ہو رہے ہیں انہوں نے کہا کہ صوبہ سندھ گذشتہ کئی سالوں سے امن امان کی ابتر صورتحال کا سامنا رہا، مگر سخت اقدامات اور ٹارگیٹیڈ آپریشن کے باعث امن امان کی صورتحال میں بہتری آئی ہے، انہوں نے کہا کہ صوبے میں ایپکس کمیٹی نیشنل ایکشن پلان (این اے پی) پر عملدرآمد کا اعلیٰ ترین فورم ہے۔جس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ تمام غیر قانونی تارکین وطن بشمول افغانیوں کے واپس بھیجا جائے۔وفاقی حکومت سے انکی جلد واپسی کیلئے رجوع کیا گیا۔مگر وفاقی حکومت نے یو این ایچ سی آر کی درخواست پرانکی واپسی 6ماہ یعنی دسمبر2016تک بڑھادی ۔سید مراد علی شاہ نے یو این ایچ سی آر پر زور دیا کہ وہ انکی واپسی کیلئے ضروری اقدامات کرے تاکہ صوبائی حکومت ایپکس کمیٹی کے اجلاسوں میں ہونے والے فیصلوں پر عملدرآمد کے حوالے سے پیش رفت کر سکے۔یو این ایچ سی آر کے اندرائیکا راتوتی نے کہا کہ پاکستان میں تقریباً6لاکھ افغان مہاجرین رہ رہے ہیں، جن میں سے1.3ملین سندھ میں ہیں۔اس سے وزیراعلیٰ سندھ نے اتفاق نہیں کیا ، انہوں نے کہا کہ واپسی کا عمل جاری تھا اور روزانہ تقریباً2ہزار افغانی اپنے وطن واپس جا رہے تھے،انہوں نے کہا کہ کے پی کے واحد صوبہ ہے جہاں سے 3لاکھ 50ہزار افغانی واپس افغانستان جا چکے ہیں،جہاں تک پنجاب کا تعلق ہے تو یہ دوسرا بڑا صوبہ ہے جہاں سے اچھی خاصی تعداد میں مہاجرین واپس گئے ہیں۔ مگر سندھ سے اب تک صرف 32ہزار افغان مہاجر واپس گئے ہیں۔خیبرپختونخواہ سے بڑی تعداد میں مہاجرین کی واپسی کی تفصیلات بتاتے ہوئے یو این ایچ سی آر کے چیف نے کہا کہ وہاں کے لوگ افغانستان میں اپنے لوگوں کے ساتھ رابطے میں تھے۔مزید براں یہ کہ وہاں سے انکا ملک بھی نزدیک ہے۔ جہاں تک سندھ کا تعلق ہے انہوں نے کہا کہ کراچی میں روزگار کے وسیع مواقعے موجود ہیں اور مہاجرین اپنے ملکی بارڈر سے بہت دور ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ صوبہ سندھ میں بغیر رجسٹریشن کے افغانیوں کی ایک بہت بڑی تعداد رہ رہی ہے، انہوں نے یو این ایچ سی آر پر زور دیا کہ وہ انہیں رجسٹر کریں تاکہ سندھ حکومت کو بھی یہ معلوم ہو سکے کہ کون کہا پر رہ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم انکی خوراک (سبسڈی)پر خرچ کر رہے ہیں، وہ ہماری یوٹیلیز کا استعمال کر رہے ہیں اور حتیٰ کہ انکے بچے ہمارے سرکاری اسکولوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بحیثیت میزبان کے صوبہ سندھ نے افغانیوں کی بہت اچھے طریقے سے دیکھ بحال کی مگر انکی واپسی میں ہمارے لوگ دہشتگردی کی صورت میں بہت زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ بات آپ بہت اچھے طریقے سے جانتے ہیں ،لہذاہ میں تفصیلات میں نہیں جانا چاہتا۔یو این ایچ سی آر کے چیف نے کہا کہ انہوں نے مہاجرین کی تعلیم اور صحت کیلئے 175ملین ڈالر مختص کئے تھے، جس میں سے سندھ کیلئے 30ملین ڈالر مختص کئے گئے تھے۔انہوں نے کہا کہ آپ یہ رقم صوبے میں رہنے والے افغان مہاجرین کی تعلیم، صحت اور دیگر سماجی خدمات پر خرچ کر سکتے ہیں۔وزیراعلیٰ سندھ نے صوبائی سیکریٹری داخلہ کو ہدایت کی کہ وہ صوبہ سندھ میں رہنے والے تمام افغانیوں کی رجسٹریشن کیلئے یو این ایچ سی آر سے رابطے میں رہیں اور انکے تعاون سے انکی واپسی اقدامات کو یقینی بنائیں۔