تو پھروہ کون تھی؟

تو پھروہ کون تھی؟
تو پھروہ کون تھی؟

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

(محمد وقاص)

سبز رنگ کے یونی فارم میں ملبوس مضبوط اعصاب کا وہ نوجوان صبح صبح ہی اس بینچ پر پریشان کیوں بیٹھا ہے؟ اسے اجنبی سمجھتے ہوئے پہلے تو میں اس کے پاس سے گزرنے لگا۔ لیکن پھر اس کے سینے پر لگے بیج نے مجھے رکنے پر مجبور کر دیا ۔وہ 1122کا ایک اہلکار تھا۔ اس نے اگرچہ ابھی تک میری طرف نہیں دیکھا تھا لیکن میں خود ہی اس کی طرف بڑھ گیا تاکہ خدا کے اس فرشتے سے پوچھ سکوں کہ آخر آج دوسروں کے دکھ و درد اور مشکل میں کام آنے والا خود کیوں مایوسی کا بت بنا بیٹھا ہے۔
میں نے اس کے قریب جا کر سلام کیا تو اس نے اپنے دونوں ہاتھوں میں تھامے ہوئے سر کو اوپر اٹھا کر میری طرف ایک نظر دیکھا اور وعلیکم اسلام کہہ کر بینچ کی ایک طرف سرکگیا ۔میں بھی بغیر کسی توقف کے بینچ پر بیٹھ گیا اور اپنے ہاتھوں کو گرم کرنے کے لیے آپس میں مسلنے لگا۔ جو سردی کی وجہ سے ٹھٹھرے ہوئے تھے۔ اسی دوران میں نے اس کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھا تو وہ میری طرف ہی دیکھ رہا تھا۔ میں نے جلدی سے مسکراہٹ سجاتے ہوئے اس کا حال دریافت کرنا چاہا لیکن اس نے میرے سوال کا جواب دیئے بغیر اسی مایوس چہرے سے بڑبڑانا شروع کیا
”یہاں پے تو کوئی بھی نہیں رہتا پھر وہ کون تھی؟ میں نے سب سے پوچھا بلکہ خود جا کر بھی دیکھا ہے لیکن اس مکان میں تو کوئی بھی نہیں رہتا“
میں بڑا حیران تھا کہ آخر یہ کس کے بارے میں بات کر رہا ہے۔ تھوڑی دیر کے لیے یوں محسوس ہوا جیسے کسی گھریلو پریشانی سے اسے کوئی نفسیاتی مسئلہ ہوگیا ہے۔
پھر مجھے یوں لگا جیسے وہ مجھ سے کچھ پوچھنا چاہ رہا ہے۔ میں بینچ پر سے سرکتے ہوئے اس کے قریب ہوگیا۔ اس نے میری طرف دیکھ کر اپنا منہ دوسری طرف اس بڑے سے گھر کی طرف پھیر دیا جہاں پر کافی گھنے درخت لگے ہوئے تھے ۔چند لمحے کے توقف کے بعدوہ میری طرف پلٹا۔
”بھائی آپ ٹھیک تو ہیں؟ “میرے سوال کا جواب اس نے اپنا سر ہلا کر دیا اور پھر اپنی آنکھوں کو ہاتھوں کی پتیلیوں سے مسلنے لگا۔ جو شاید نیند پوری نہ ہونے کی وجہ سے سرخ ہو رہی تھیں۔
میں خاموش ہوگیا مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے وہ میرے ساتھ بات نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن پھر اس نے خود ہی بولنا شروع کر دیا۔
اس نے مجھے بتایا ”یار میں میں ون ون ٹو ٹو(1122)میں ڈرائیور ہوں پچھلی رات کو رات کے تقریباً ڈیڑھ بجے فون آیا کہ ایمرجنسی ہے۔ گاڑی میں اس وقت میں چونکہ اکیلے ہی بیٹھا ہوا اونگ رہا تھا۔ اس لیے مجھے ہی وہ فون سننا پڑا۔ رسیور اٹھاتے ہی مجھے کسی عورت کے چلانے کی آوازیں سنائی دینے لگیں ۔میری ساری نیند اڑ گئی۔ اور میں نے جلدی سے اپنی گاڑی کے عملے کو آواز دے کر گاڑی سٹارٹ کر لی۔ اتنے میں وہ لوگ بھی آگئے۔ میں نے اپنے سینئر کو رسیور تھماتے ہوئے گاڑی کو عمارت کے احاطے سے باہر کی طرف بھگا دیا۔جب ہم روڈ پر آگئے تو میں نے اپنے سینئر سے راستہ کا پوچھا کہ ہمیں کس طرف جانا ہے۔ اس کے کہنے کے مطابق میں نے گاڑی کو ملتان روڈ پر بھگانا شروع کر دیا۔ جو اس وقت ٹریفک کم ہونے کی وجہ سے خالی دیکھائی دے رہی تھی۔ گاڑی کو دائیں بائیں موڑتے ہوئے جب ہم پارک کے اس گیٹ کے پاس اپنی گاڑی کو روک کر متعلقہ نمبر پر بیک کال کی تو وہ نمبر بند جا رہا تھا۔ بار بار ٹرائی کرنے کے باوجود جب وہ نمبر بند ملا تو ہم نے ویسے ہی آگے بڑھنا شروع کر دیا کیونکہ ہمیں فون پر اس پارک کا ہی ایڈریس بتایا گیا تھا۔
جیسے ہی ہم اس سامنے والے گھر کے پاس پہنچے تو گیٹ کے باہر ہمیں نیم مردہ حالت میں پڑی ہوئی ایک عورت دیکھائی دی۔ ہم نے اٹھا کر اس کو اسٹریچر پر لٹایا ، فرسٹ ایڈ کے طور پر اسے کچھ انجیکشن لگا دیئے اور احتیاطً آکسیجن بھی لگا دی گئی لیکن اصل علاج چونکہ اسپتال میں ہی ہونا تھا اس لیے میں نے گاڑی کی سپیڈ تیز کر دی ۔ابھی ہم تھوڑی ہی دور گئے کہ اس عورت نے چلانا شروع کر دیا۔ لیکن میں نے اس کی طرف توجہ نہ دی پھر اچانک مجھے یوں محسوس ہونے لگا جیسے اس عورت کی آواز بھاری ہونے لگی ہے۔
تب تک ہم لوگ ہسپتال پہنچ چکے تھے۔ جلدی سے میں نے ایمبولینس کا دروازہ کھولا اور اپنے ساتھیوں کی مدد سے اس عورت کو اٹھا کر ہسپتال کے باہر پڑے ہوئے اسٹریچر پر ڈال دیا۔ لیکن اب وہ ایسے زور لگا رہی تھی جیسے ہم اسے زبردستی اٹھا کر لے آئے ہوں۔ ہم نے چونکہ ہسپتال میں موجود ایمرجنسی عملے کو پہلے ہی مطلع کر دیا تھا۔ اس لیے ڈاکٹر بھی اسپتال کے باہر پہنچ چکا تھا۔ ڈاکٹر نے ہمیں ہدایت کی کہ ہم اسے اسٹریچر کے ساتھ لگے بیلٹ سے باندھ کر جلدی سے اندر لے آئیں کیونکہ نفسیاتی دورہ کی وجہ یہ ایسی حرکتیں کر رہی ہے۔ ہم لوگ آئی سی یو میں اسے چھوڑ کر واپس چلے گئے لیکن میرے ذہن میں کئی باتیں آنے لگیں۔ کہ اس عورت نے خود ہی ہمیں فون کیا ۔جب ہم اس کے گھر کے قریب پہنچے تو اس کا نمبر بند ہوگیاتھا۔ پھر جب ہم اس کے گھر کے پاس پہنچے تو اسے گھر کے باہر نیم مردہ حالت میں پایا لیکن سب سے اہم بات کہ اس کے گھر سے نہ کوئی بندہ باہر آیا اور نہ ہی کسی نے ہم سے رابطہ کیا۔
خیر اس کشمکش میں میری ساری رات گزر گئی لیکن صبح ہوتے ہی جب میں ڈیوٹی سے فری ہو کر ہسپتال پہنچا تو پتا چلا کہ وہ تو رات کو ہی آئی سی یو کا مرکزی دروازہ کھول کر بھاگ گئی تھی۔ لیکن اچنبھے کی بات یہ ہے کہ دروازہ باہر سے لاک تھا اور سارا عملہ اس کی حرکتوں سے خوفزدہ ہو کر باہر آگیا تھا لیکن پھر دروازہ خود ہی کھلا اور جب ہم نے اندر جا کر بیڈ پر دیکھا تو وہاں پر کوئی نہیں تھا ۔ڈاکٹر کی بات سن کرمیں پریشان ہوگیا۔ میں فوری طور پر ہسپتال سے نکلا اور یہاں پر پہنچ گیا لیکن یہاں آکر پتا چلا کہ اس گھر میں تو کوئی رہتا ہی نہیں ۔یہ تو کئی سال سے بند پڑا ہوا ہے۔“وہ ہونقوں کی طرح کہانی سنا کر میری جانب سوالیہ انداز میں دیکھنے لگا۔
” یہاں پر تو کوئی نہیں رہتاتھا تو پھر وہ کون تھی؟ ،کون تھی وہ۔کیا آپ بتاسکتے ہیں “اس نے میرابازو ہلا کر پوچھا۔
” گھر تو یہ کئی سال سے خالی ہے۔میں بھی حیران ہوں کہ وہ کون تھی جسے آپ لیکر گئے تھے“میں اسے حیران و پریشان چھوڑ کر اٹھا اور بڑبڑانے لگا” واقعی یار وہ کون تھی“

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والی تحریریں لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔