افسوس کرپشن کے سمندر کیساتھ 2017ءمیں داخل ہو رہے ہیں، سب سے پہلے وزیراعظم کا احتساب، قانونی، آئینی اور اخلاقی تقاضہ ہے: سراج الحق

افسوس کرپشن کے سمندر کیساتھ 2017ءمیں داخل ہو رہے ہیں، سب سے پہلے وزیراعظم کا ...
افسوس کرپشن کے سمندر کیساتھ 2017ءمیں داخل ہو رہے ہیں، سب سے پہلے وزیراعظم کا احتساب، قانونی، آئینی اور اخلاقی تقاضہ ہے: سراج الحق

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے کہا ہے کہ افسوس ہے 74 دنوں میں اس کیس کا فیصلہ نہیں ہوا اور کرپشن کے اس سمندر کے ساتھ ہم 2017ءمیں بھی داخل ہو رہے ہیں۔ نئے چیف جسٹس کا 15 دن پہلے نوٹیفکیشن جاری کر کے موجودہ چیف جسٹس کو پیغام دیا گیا کہ آپ یہ کیس نہ سنیں ۔ میرا موقف یہی ہے کہ کمیشن بنے اور 25 دن میں فیصلہ ہو کیونکہ فیصلہ ہونا ضروری ہے، اس کو قیامت تک لے جانا نامناسب ہے ۔

سپریم کورٹ کا پاناما لیکس کیلئے کمیشن نہ بنانے کافیصلہ ، سماعت جنوری 2017ءکے پہلے ہفتے تک ملتوی
تفصیلات کے مطابق میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سراج الحق نے کہا کہ اگر دال میں کچھ کالا کلا نہیں تھا تو کیا تھا؟ لیکن افسوس ہے کہ 74 دنوں میں کیس کا فیصلہ نہیں ہو سکا اور کرپشن کے اس سمندر کے ساتھ ہم 2017ءمیں بھی داخل ہو رہے ہیں۔ حکومت کا خوف ہے لیکن سن لیں، ہم 2017ءمیں بھی کرپشن کا پیچھا کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن کا مطالبہ تمام جماعتوں کا متفقہ تھا اور اگر کمیشن پہلے بن جاتا تو 74 دن ضائع نہ ہوتے۔ جب تک کس جاری ہے وزیراعظم کو اختیارات استعمال نہیں کرنے چاہئیں، ہم سب کا احتساب چاہتے ہیں اور یہ انصاف کا تقاضہ ہے ۔

عمران خان کی آج کی بدتہذیبی بے مثال، و ہ شارٹ کٹ میں شیروانی پہننا چاہتے ہیں، عدالت جب بھی بلائے گی ہم آئیں گے: انوشہ رحمان
سراج الحق کا کہنا تھا کہ کرپشن کے خلاف جماعت اسلامی نے سب سے پہلے علم اٹھایا ہے، ٹرین مارچ کیا، 4 بل اسمبلی میں پیش کئے، سب سے پہلے عدالت میں پٹیشن جمع کرائی اور عوام کو اکٹھا کرنے کیلئے سب سے زیادہ جلسے کئے کیونکہ کرپشن اور پاکستان ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ انہوں نے کہا کہ سب کا انصاف چاہتے ہیں کیونکہ انصاف کا تقاضہ ہے کہ چور اور لٹیرے حکومت میں ہیں یا اپوزیشن میں، ان کا احتساب ہونا چاہئے، لیکن جو بڑا ہے اور سب سے زیادہ ذمہ دار ہے وہ وزیراعظم ہے اور ان کا ٹولہ اور خاندان ہے، سب سے پہلے سپریم کورٹ ان کا احتساب کرے کیونکہ جب تک ان کا احتساب نہ ہوا انصاف کا بول بالا نہیں ہو سکتا اور کرپشن ختم نہیں ہو سکتی۔ قانون، آئین اور اخلاق کا تقاضا ہے کہ سب سے زیادہ ذمہ دار کا سب پہلے احتساب ہو، اس کے بعد جن جن کا نام پانامہ پیپرز میں ہے ان کا احتساب قوم کی آواز اور مطالبہ ہے ۔

مزید :

قومی -اہم خبریں -