امریکی صدر کا طیارہ ا ئیرفورس ون دنیا کا جدید ترین طیارہ، کتنے لوگ سفر کرسکتے ہیں اور اس میں کیا کیا ناقابل یقین سہولیات موجود ہیں؟ تفصیلات منظر عام پر

امریکی صدر کا طیارہ ا ئیرفورس ون دنیا کا جدید ترین طیارہ، کتنے لوگ سفر کرسکتے ...
امریکی صدر کا طیارہ ا ئیرفورس ون دنیا کا جدید ترین طیارہ، کتنے لوگ سفر کرسکتے ہیں اور اس میں کیا کیا ناقابل یقین سہولیات موجود ہیں؟ تفصیلات منظر عام پر

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکہ کا صدر ہمیشہ اپنے مخصوص طیارے ”ایئرفورس ون“ میں سفر کرتا ہے۔ یہ طیارہ لگژری سہولیات اور ٹیکنالوجی کی جدت کے لحاظ سے دنیا کا سب سے اعلیٰ اور مہنگا طیارہ ہے۔ اسے آپ امریکہ کا فضاﺅں میں اڑتا ”وائٹ ہاﺅس“ بھی کہیں تو بے جا نہ ہو گا، کیونکہ اس کے اندربھی وائٹ ہاﺅس کی طرح ایک ”اوول ہاﺅس“ موجود ہے، جس میں دوران سفر امریکی صدور اپنے فرائض سرانجام دیتے ہیں۔میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدور کے اس سرکاری طیارے میں 102لوگوں کی گنجائش ہے جس میں امریکی صدر سمیت 76مسافر اور 26عملے کے اراکین ہوتے ہیں۔اسے 2پائلٹ اڑاتے ہیں، جبکہ ایک فلائٹ انجینئر، ایک سمت انداز (Navigator) اور دیگرکیبن کریو ان کی مدد کے لیے موجود ہوتے ہیں۔
ایئرفورس ون میں کئی کمرے ہیں جن میں کانفرنس اور ڈائننگ روم، کچن، کمیونیکیشنز سوٹ و دیگر شامل ہیں۔ جہاز کے پچھلے حصے میں صحافیوں کے لیے جگہ بنائی گئی ہے۔ اس حصے میں نیلے رنگ کا کارپٹ بچھایا گیا ہے جو صحافیوں کے حصے کی نشاندہی کرتا ہے جبکہ اس حصے میں صحافیوں کے لیے بزنس کلاس سیٹیں لگائی گئی ہے۔ صحافیوں کے حصے میں ہر سیٹ کی پشت پر ایک ٹی وی سکرین لگی ہوئی ہے جس پر وہ اپنی پسند کی فلمیں دیکھ سکتے ہیں۔جہاز کے اگلے حصے میں صدر کا کمرہ موجود ہے جس میں موجود صوفے بیڈکا کام بھی کرتے ہیں۔ جہاز کے اوپری حصے میں تقریباً جہاز کی لمبائی کے برابر ایک بڑا حصہ بنایا گیا ہے جس میں دفاعی سازوسامان موجود ہوتا ہے۔ اس میں ریڈار جیمرز، سائبر حملوں سے بچنے کے لیے سینسرزو دیگر دفاعی آلات شامل ہے۔

’ہاں! دوران پرواز یہ کام ہم اکثر کرتے ہیں‘ دنیا بھر کے 7200 پائلٹس سے سروے میں ایسا انکشاف منظر عام پر آگیا کہ کسی آدمی کا ہوائی جہاز میں بیٹھنے کو دل ہی نہ کرے
ایئرفورس ون میں دیگر طیاروں کے ذریعے فضاءمیں بھی ایندھن بھرا جا سکتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ طیارہ تب تک فضاءمیں اڑ سکتا ہے جب تک اس میں موجود افراد کے لیے خوراک اور پانی موجود ہو۔ عموماً لوگ سمجھتے ہیں کہ ایئرفورس ون ایک ہی طیارہ ہے لیکن درحقیقت یہ ایک ہی طرح کے دو طیارے ہیں جو چند ماہ کے وقفے سے باری باری استعمال کیے جاتے ہیں۔ یہ بوئنگ 747-200Bایئرکرافٹ ہیں جنہیں اپنی ضروریات کے لحاظ سے خصوصی طور پر تیار کیا گیا ہے۔ ان کے ’ٹیل کوڈ‘ 28000اور 29000ہیں۔امریکی انتظامیہ نے حال ہی میں نئے ایئرفورس ون تیار کروانے کے لیے طیارہ سازکمپنی بوئنگ کے ساتھ معاہدہ کیا ہے جس کی نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ دنوں مخالفت کر دی اور کہا کہ 4ارب ڈالر کی لاگت سے نئے طیارے بنوانا مہنگا معاہدہ ہے، یہ منسوخ کر دیا جاناچاہیے۔

رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کا ذاتی جہاز،جسے عموماً ”ٹرمپ فورس ون“کے نام سے پکارا جاتا ہے، ایئرفورس ون سے بھی زیادہ لگژری ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے خود اسے ”ٹی برڈ“ کا نام دے رکھا ہے۔ اس طیارے کی دیواروں پر لکڑی کا کام، مہنگے ترین قالین، ریشم کے پردے اور صوفوں، بیڈز و دیگر چیزوں کے کور اسے ایئرفورس ون سے ممتاز بناتے ہیں۔بہت سے لوگ یہ جان کر بھی حیران ہوں گے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے ذاتی طیارے کے باتھ رومز میں سونا اور سنگ مرمر استعمال کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اس کی سیٹ بیلٹس میں بھی 24قیراط سونا استعمال کیا گیا ہے۔ یہ بوئنگ 757-200طیارہ ہے جو ڈونلڈ ٹرمپ نے 2011ءمیں10کروڑ ڈالرز(تقریباً 10ارب روپے) میں خریدا تھا۔ یہ 500میل فی گھنٹہ کی رفتار سے پرواز کر سکتا ہے اور اس میں 43مسافروں کی گنجائش موجود ہے۔اس میں ایک ویڈیو لاﺅنج موجود ہے جس میں 57انچ کی سکرین لگائی گئی ہے۔ اس لاﺅنج کا ساﺅنڈ سسٹم ہالی ووڈ سکریننگ روم کے سسٹم سے مشابہہ ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ اب اپنا یہ لگژری طیارہ استعمال نہیں کر سکیں گے کیونکہ صدر کا حلف اٹھانے کے بعد انہیں ایئرفورس ون ہی استعمال کرنا پڑے گا۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -