امریکہ کے نومنتخب صدر ٹرمپ کا پھر یو ٹرن، جس ملک کو انتخابی مہم میں’’رگڑا ‘‘ لگاتے رہے ،اسی ملک کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کو سب سے بڑی ضرورت قرار دے دیا

امریکہ کے نومنتخب صدر ٹرمپ کا پھر یو ٹرن، جس ملک کو انتخابی مہم میں’’رگڑا ...
امریکہ کے نومنتخب صدر ٹرمپ کا پھر یو ٹرن، جس ملک کو انتخابی مہم میں’’رگڑا ‘‘ لگاتے رہے ،اسی ملک کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کو سب سے بڑی ضرورت قرار دے دیا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

آئیووا (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر یو ٹرن لیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کو چین سے اپنے تعلقات کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق آئیووا میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ جس ملک کے ساتھ ہمیں رشتے بہتر بنانے کی ضرورت ہے وہ چین ہے اور ہمیں چین کے ساتھ تعلقات میں بہتری لانا ہوگی، چین بازار پر مبنی معیشت نہیں ہے، اِنہوں نے ضابطوں کے حساب سے کام نہیں کیا ہے، لیکن مجھے پتہ ہے کہ وہ اب اسے شروع کرنے والے ہیں۔واضح ر ہے کہ اپنی انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ چین پر شدید  تنقید کرتے رہے ہیں اور گزشتہ ہفتے تائیوانی صدر سائی انگ ون سے ٹرمپ کی ٹیلی فونک گفتگو پر بھی چین نے سخت اعتراض کیا تھا۔

ٹرمپ نے اپنے خطاب کے دوران بعض معاملات پر چین پر تنقید کے’’ نشتر‘‘ بھی چلائے۔ انہوں نے کہا کہ چین میں بڑے پیمانے پراملاک دانش کی چوری ہوتی ہے، ہماری کمپنیوں پر غیر مناسب ٹیکس لگایا جاتا ہے، وہ دانستہ طور پر کرنسی قدر میں کمی کے ساتھ ساتھ مصنوعات کی ڈمپنگ بھی کرتے ہیں، شمالی کوریا کے خطرے سے نمٹنے میں چین کو جیسی مدد کرنی چاہیے وہ ویسا نہیں کرتے ہیں، ان مسائل کو چھوڑ دیں تو وہ اچھے ہیں۔یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے آئیووا کے گورنر ٹیری برانسٹینڈ کو چین میں امریکہ کا سفیر بنانے کے لئے چنا ہے۔

انہوں نے مسٹر برانسٹینڈ کو اسٹیج پر بلاتے ہوئے کہا کہ برانسٹینڈ نے ان سے ہمیشہ کہا ہے کہ ان کی ریاست (آئیووا) میں چین کی کوئی برائی نہ کرے، نو منتخب صدر نے کہا کہ چین میں میرے کئی دوست ہیں۔ واضح رہے کہ آئیووا کے گورنر ٹیری برانسٹینڈ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ چینی صدر کے 30سالہ پرانے اور گہرے دوست ہیں اور ٹرمپ نے انہیں چین میں امریکہ کا سفیر لگانے کا فیصلہ بھی دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کو کم کرنے کے لئے کیا ہے ۔