نواز شریف کی کبھی کسی جنرل سے نہیں بنی اسی لیے انہوں نے وزیر اعظم ہاؤس میں جاسوسی کے آلات لگا رکھے ہیں: شیخ رشید

نواز شریف کی کبھی کسی جنرل سے نہیں بنی اسی لیے انہوں نے وزیر اعظم ہاؤس میں ...
نواز شریف کی کبھی کسی جنرل سے نہیں بنی اسی لیے انہوں نے وزیر اعظم ہاؤس میں جاسوسی کے آلات لگا رکھے ہیں: شیخ رشید

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آ ن لائن) پاکستان عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ نواز شریف کی کبھی بھی کسی جنرل سے نہیں بنی، وہ خود کو غیر محفوظ تصور کرتے ہیں اس لیے انہوں نے وزیر اعظم ہاؤس میں جاسوسی کے آلات لگا رکھے ہیں۔
نجی ٹی وی نیو نیوز کے پروگرام ” لائیو ود نصراللہ ملک “ میں انٹرویو دیتے ہوئے شیخ رشید کا کہنا تھا کہ جسٹس ثاقب نثار صاحب کو نیا چیف جسٹس بننے پر مبارکباد پیش کر رہا ہوں ، نئے چیف جسٹس کے آنے سے حالات بہتری کی طرف جائیں گے۔حکومت نے قطری شہزادے کا خط پیش کرکے پوری دنیا میں پاکستان کا تماشہ بنادیا ہے، سوشل میڈیا پر لوگ قطری صابن اور پتا نہیں کیا کیا بنا رہے ہیں۔ یہ کیس ان کے گلے پڑ جائے گا اور انہیں الیکشن کی طرف لے جائے گا۔

پاک فوج کے سپر سیڈ ہونے والے دونوں لیفٹیننٹ جنرلز نے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے لی
سول و عسکری تعلقات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید کا کہنا تھا کہ عسکری اداروں سے حکومت کے تعلقات پٹھان کوٹ واقعے کے بعد بالکل ٹھیک ہوگئے تھے لیکن انہوں نے سری لنکا سے مودی کو فون کیے اور حالات خراب کر لیے ۔ اس کے بعد اڑی واقعے کے بعد بھی تعلقات بہتر ہوگئے لیکن انہوں نے پھر ڈان لیکس کا پنگا لے لیا ۔

عالمی بینک نے پاکستان کے 10کروڑ ڈالر قرضہ دینے کا ارادہ ترک کردیا
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم ہاؤس میں جاسوسی کے آلات لگے ہوئے ہیں ، محمد زبیر نے ایک چینل پر انٹرویو میں یہ بات تسلیم کی ، وزیر اعظم ہاو¿س میں جو بھی کال جاتی ہے اسے ٹیپ کیا جاتا ہے۔ نواز شریف کبھی بھی عسکری اداروں کے ساتھ مطمئن نہیں رہے اور خود کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں ، ان کی کبھی بھی کسی جرنیل سے نہیں بنی ، اس لیے انہوں نے وزیر اعظم ہاؤس میں جاسوسی کے آلات لگا رکھے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آرمی چیف بدلنے سے فوج کی پالیسیوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی ، وہی وردی اور وہی لوگ ہوتے ہیں ، فرق صرف اتنا پڑتا ہے کہ ایک چیف دوسرے چیف کو اپنی لاٹھی تھمادیتا ہے۔ جنرل راحیل شریف نے آخری دن بہت تنگ و ترش گزارے ہیں ، ابھی میرا بات کرنا مناسب نہیں ہے لیکن دو تین ماہ گزر گئے تو پھر باتیں کروں گا۔

مزید :

قومی -اہم خبریں -