نوٹ بحران ،مودی باہر بولتے اور پارلیمنٹ میں بات کرنے سے گھبراتے ہیں ،میں بولا تو ہندوستان میں بھونچال آ جائے گا:راہول گاندھی

نوٹ بحران ،مودی باہر بولتے اور پارلیمنٹ میں بات کرنے سے گھبراتے ہیں ،میں ...
نوٹ بحران ،مودی باہر بولتے اور پارلیمنٹ میں بات کرنے سے گھبراتے ہیں ،میں بولا تو ہندوستان میں بھونچال آ جائے گا:راہول گاندھی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک)بھارتی وزیر اعظم 500اور 1000کے نوٹوں پر پابندی کے ایک ماہ بعد بھی بحران سے نہ نکل سکے ،عوام اور اپوزیشن کی جانب سے مسلسل تنقید اور احتجاج نے مودی سرکار کی مت مار دی ،کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی نے ایک مرتبہ پھر ہندوستانی وزیر اعظم پر تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ نوٹ بندی ہندوستانی تاریخ کا اب تک کا سب سے بڑا سکینڈل ہے ،مودی حکومت نوٹ بندی پر پارلیمنٹ میں بات کرنے سے مسلسل بھاگ رہی جبکہ اپوزیشن اس ایشو کو پارلیمنٹ میں زیر بحث لانا چاہتی ہے ،مودی سرکار ہمیں اس ایشو پر بات نہیں کرنے دے رہی کیونکہ اسے پتا ہے کہ میں بولا تو انڈیا میں بھونچال آ جائے گا ۔

بھارتی نجی چینل ’’این ڈی ٹی وی ‘‘ کے مطابق راہول گاندھی نے میڈیا سے گفتگو میں 500اور ہزار کے نوٹ ختم کرنے کو ہندوستانی تاریخ کا سب سے بڑا سکینڈل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن اس ایشو پر پارلیمنٹ میں بات کرنا چاہتی ہے مگر ہمیں بولنے نہیں دیا جارہا ،مودی سرکار کو پتا ہے کہ جب میں بولا تو پورے ہندوستان میں بھونچال آ جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ مودی سرکار نوٹ بندی کے مسئلے پر پارلیمنٹ میں بات کرنے سے کترا رہی ہے ،اپوزیشن ایوان میں اس ایشو سے عام آدمی کو پیش آنے والی مشکلات پر بات اور بحث کرنا چاہتی ہے مگر حکومت اس سے بھاگ رہی ہے ،انہیں پتا ہے کہ جب میں اس سکینڈل پر بات کروں گا تو پھر پورے ہندوستان میں بھونچال آ جائے گا ۔راہول گاندھی کا کہنا تھا کہ نریندر مودی نوٹ بندی پر پارلیمنٹ سے باہر بولتے ہیں مگر ایوان میں میں بولنے سے ڈرتے ہیں ،مودی مجھے بولنے سے روک رہی ہے ،جب میں بولا تو پورا انڈیا ہل جا ئے گا ۔یاد رہے کہ کہ گذشتہ روز راہول گاندھی نے نوٹ بندی کے فیصلے کو بھارتی وزیر اعظم کا ’’پاگل پن ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس احمقانہ فیصلے نے پورے بھارت کو برباد کر کے رکھ دیا ہے ،اس کے ساتھ ساتھ راہول گاندھی نے مودی کو ’’پی ٹی ایم ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا مطلب ہے کہ ’’پے ٹو مودی ‘‘ ۔