پاکستان ہائی کمیشن لندن میں اندھیر نگری چوپٹ راج، ویزوں کے اجراءکیلئے غیر قانونی دستاویزات جاری کرنا شروع کردئیے، وزارت خارجہ نے انکوائری شروع کردی

پاکستان ہائی کمیشن لندن میں اندھیر نگری چوپٹ راج، ویزوں کے اجراءکیلئے غیر ...
پاکستان ہائی کمیشن لندن میں اندھیر نگری چوپٹ راج، ویزوں کے اجراءکیلئے غیر قانونی دستاویزات جاری کرنا شروع کردئیے، وزارت خارجہ نے انکوائری شروع کردی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

لندن(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان ہائی کمیشن لندن میں اندھیر نگری چوپٹ راج،ویزوں کے اجراءکے لئے غیر قانونی دستاویزات جاری کرنا شروع کردئیے،قومی اخبارات میں خبریں شائع ہو نے کے بعد وزارت خارجہ نے انکوائری شروع کردی۔
تفصیلات کے مطابق گذشتہ ماہ پاکستان ہائی کمیشن لندن کی طرف سے برطانوی ہائی کمیشن اسلام آباد کو ایک خط زیر دستخطی ہیڈ آف چانسری آصف خان بھیجا گیا جس میں برطانوی ہائی کمیشن اسلام آباد سے استدعا کی گئی کہ پاکستان ہائی کمیشن نومبر میں ہائی کمیشن میں ایک میوزیکل پروگرام منعقد کروا رہا ہے جس کیلئے پاکستانی گلوکاروں ظہور احمد،ریاست علی اور محمد مشتاق کو ویزے جاری کئے جائیں۔جس پر برطانوی ہائی کمیشن اسلام آباد نے تینوں افراد کو وزیرے جاری کردئیے۔جبکہ ذرائع نے کنفرم کیا کہ نومبر میں کوئی میوزیکل شو پاکستان ہائی کمیشن میں منعقد ہی نہیں ہوا۔ بلکہ ان فنکاروں کو ایک پرائیویٹ پروگرام ”پاکستان اچیومنٹ ایوارڈ“ کے نام پر ہونیوالے پروگرام میں پرفارمنس کیلئے بلایا گیا تھا اور ان تینوں گلوکاروں نے اس ایوارڈ شو میں اپنی پرفارمنس پیش بھی کی ،جو کہ برطانوی قانون کے مطابق غیر قانونی عمل ہے اور کوئی بھی گلوکار یا فنکار سپانسر کے علاوہ کسی اور جگہ پر پرفارم نہیں کرسکتا۔جبکہ اس شو سے حاصل ہونیوالی آمدنی بھی قانونی طریقے سے پاکستان میں منتقل کرنا ضروری ہوتا ہے۔
پاکستان ہائی کمیشن لندن کی طرف سے ایسے سنگین مذاق کے بعد برطانیہ میں پاکستا نی ہائی کمیشن کی طرف سے ایسے غیر قانونی خطوط جاری کرنے پر ایک نئی بحث شروع ہو چکی ہے۔ہائی کمیشن کے سینئر ڈپلومیٹ کے ذرائع کے مطابق یہ خط ایک کمرشل شو کیلئے جاری کیا گیا ہے جو کہ سراسر غیر قانونی ہے اور پاکستان ہائی کمیشن ایسے کسی کمرشل پروگرامز کا پارٹنر نہیں بن سکتا،اور نہ ہی کوئی ایسا لیٹر جاری کرنے کا مجاز ہے۔ یہ بات اس وقت منظر عام پر آگئی جب پاکستان سے آئے ہوئے لوک گلورکار نے سائیں ظہور اور ان کے ساتھیوں نے سڑک پر کھڑے ہوکر پریس کانفرنس کی اور میڈیا کو بتایا کہ انہیں پاکستان ہائی کمیشن کی طرف سے لندن بلایا گیا ہے اور ان سے وعدہ کیا گیا تھا کہ انہیں چار لاکھ پاکستانی معاوضہ دیا جائیگا۔ لیکن ان سے گذشتہ روز دو دسمبر کو ایوارڈ شو میں پرفارمنس کروا لی گئی ہے لیکن ان کو ایک پائی بھی نہیں دی گئی جبکہ انہیں ایک ہوٹل میں چھوڑ دیا گیا جہاں وہ گذشتہ دو دن سے بھوکے ،پیاسے ہیں۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہیں نہ ہائی کمیشن کی طرف سے معاوضہ دیا گیا اور نہ ہی اچومنٹ ایوارڈ والے ان سے رابطہ کررہے ہیں۔اس موقع پر پاکستان پریس کلب کی سینئر خاتون سفارت کار بھی موقع پر پہنچ گئیں اور انہیں زور دینا شروع کردیا کہ وہ میڈیا سے کسی قسم کی گفتگو نہ کریں ہم ان سے معاملات طے کرتے ہیں۔
سائیں ظہور نے اس موقع پر میڈیا سے گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ میں نے سن رکھا تھا کہ بیرون ممالک پاکستانی فنکاروں اور اداکاروں کے ساتھ فراڈ کئے جاتے ہیں لیکن آج میرے ساتھ جو ہوا ہے وہ انتہائی غیر انسانی سلوک ہے اور میرے ساتھ فراڈ ہوا ہے اور اس میں پاکستانی ہائی کمشنر برابر کی شریک ہے۔ہائی کمیشن کے ذرائع نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ ”پاکستان اچومنٹ ایوارڈ “ کے نام سے جو ایوارڈ شو ہوا ہے اس کا آرگنائزر عطا الحق ایک بنک کرپٹ ہے اور اسکے خلاف لندن کی کاونٹی کورٹ فیصلہ جاری کرچکی ہے۔اس فیصلے کی روشنی میں یہ شخص برطانیہ میں کسی قسم کا کوئی کاروبار یا کمرشل شو نہیں کرو اسکتا۔ ان کا کہناتھاکہ اگر پاکستان ہائی کمیشن کی طرف سے یہ خط چیلنج کردیا گیا تو پاکستانی ہائی کمیشن کے لئے برطانیہ میں بے پناہ مسائل کھڑے ہو سکتے ہیں۔