پاکستان کی ترقی کے ابتدائی 18 سال

پاکستان کی ترقی کے ابتدائی 18 سال
پاکستان کی ترقی کے ابتدائی 18 سال

  


ہمارا مُلک 1947ء میں عالمِ وجود میں آیا ۔ بے سر وسامانی کی انتہا تھی۔ سرکاری دفتر کو چلانے کے لئے نہ مناسب دفتر تھے، نہ اسٹیشنری تھی اور نہ ہی مڈل اور چھوٹے درجے کے سرکاری اہلکار تھے، جو ہر ایڈمنسٹریشن کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں۔ اُوپر سے بے آسرا مہاجروں کی آباد کاری۔ خزانہ خالی۔ ہماری ائیر فورس اور نیوی ابھی غیر مکمل تھیں، کیونکہ اِن کا آدھا عملہ برٹش تھا۔

ابھی ہمارا سٹیٹ بینک بھی نہ بنا تھا۔ برطانوی ہند کے بینک نوٹوں اور ڈاکخانے کے ٹکٹوں پر 1948ء تک پاکستان کی مہر لگا کر کام چلایا جا رہا تھا۔

اُوپر سے ہندوستان نے ہمارے حصے کا کیش اور اسلحہ دینے میں لیت و لعل کیا اور اُدھر سے کشمیر کی 1948ء کی جنگ ہم پر مسلط کر دی گئی۔ سیاسی طور سے بھی ہم اپنے دستور کی تشکیل آٹھ سال تک نہ کر سکے تھے۔

لیکن یہ معجزہ نہیں تو کیا ہے کہ اس بے سروسامانی کی اِنتہاؤں میں سے پاکستان کی ٹھوس ترقی کے سامان نکلے۔ ہمارے اُس وقت کے سیاست دان بد عنوان نہ تھے۔

آپس میں لڑتے تھے، اسمبلیوں میں ہاتھا پائی بھی کرتے تھے، لیکن پاکستان کی ترقی سے غافل نہ تھے۔ ہم ملک غلام محمد کو بطور گورنر جنرل بُرا کہہ سکتے ہیں،لیکن بطور وزیر خزانہ اُس نے ہماری ناکارہ کرنسی کو ڈالر اور پاؤنڈکے قریب لا بٹھایا۔

کوریا کی جنگ (1950-51ء) میں جوں ہی ہماری کاٹن اور جیوٹ کی طلب بڑھی، پاکستان کے وزیرخزانہ نے پاکستانی روپے کی قدر بڑھا دی۔ دُنیا کی تمام کرنسیاں اُس وقت گراوٹ کا شکار ہو رہی تھیں، لیکن بین الاقوامی تجارت کے اصولوں کے تحت پاکستان کی کرنسی کی طلب ہماری روئی اور جیوٹ (پٹ سن) پر اجارہ داری ہونے کے باعث تھی۔

بین الاقوامی تجارت نے پاکستان میں مضبوط تاجر طبقہ پیدا کر دیا، اس طبقے کے سرمائے کو صنعت کاری میں لانے کی ضرورت تھی۔ صنعت کاری کے گُر اور ضروریات سے ہماری نئی نئی Marcantile کلاس ابھی نا آشنا تھی۔ ہماری میمن اور چنیوٹی برادری تجارت کے گُر تو جانتی تھی، لیکن صنعتکاری کی طرف برصغیر کے مسلمانوں کا رجحان کبھی نہ بن سکا۔ پاکستان بننے سے قبل صرف ایک Orient Airline تھی، جو 1946ء میں کلکتہ میں جناب ایم اے اصفہانی نے بنائی تھی اور مسلم کمرشل بینک تھا جو کلکتہ میں آدم جی نے بنایا تھا اور ایک حبیب بینک تھا جو بمبئی میں 1943ء میں سیٹھ حبیب نے بنایا۔ باقی جو بھی مسلمان سرمایہ دار پاکستان ہجرت کر کے آئے وہ دوسری جنگِ عظیم کے ٹھیکوں سے امیر ہوئے تھے اور اُنہیں صنعت کاری کا کچھ پتہ نہ تھا۔

خوش قسمتی سے انگریز کی امپرئیل سروس کے تربیت یافتہ بہترین ICS اَفسران ہمارے ملک کے حصے میں آئے، جن کی تعداد 92 تھی۔ یہ پُر خلوص قابل اور دُور رس،Bureaucracy ہمارے مُلک کا بڑا اثاثہ بنی اِن Pioneers میں غلام محمد ، چودھری محمد علی کے علاوہ عزیز احمد ، سید فدا حسین، غلام اسحاق خان، قدرت اللہ شہاب، جناب اختر حسین، عباس خلیلی، ممتاز حسین، ایس ایس جعفری ، غلام فاروق خان، اے جی این قاضی، اختر علی خان، آئی اے عثمانی اور ظفر الحسن لاری جیسے اہلِ بصیرت ، دیانتدار اور قابل افسران شامل تھے۔

تجارت سے کمائی ہوئی دولت کو صنعت کی طرف موڑنے کے لئے 1952ء میں PIDC بنائی گئی۔ 1948ء میں قائداعظمؒ کے ہاتھوں پاکستان کے مرکزی بینک SBP کی بنیاد رکھ دی گئی تھی۔ زراعت کی ترقی کے لئے ADBP کی بنیاد 1953ء میں رکھ دی گئی۔

ہمارے پرائیویٹ سیکٹر کو صنعت کاری کی تکنیکی معاونت کے لئے PCSIR 1953,ء میں بنادی گئی،جو آج بھی پاکستان کے چاروں صوبوں اور آزاد کشمیر میں خدمات انجام دے رہی ہے۔ اِنڈسٹری کی مالی معاونت کے لئے تین اِدارے 1961ء تک بن چکے تھے۔ چھوٹی صنعتوں کی اِمداد کے لئے مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان سمال انڈسٹریز کارپوریشن بنیں، درمیانی صنعت کے لئے IDBP (1961) اور PICIC 1957, میں بن چکے تھے۔

PCSIR کا ایک شعبہ ہے، جو عوام کی دلچسپی کا باعث ہو گا۔ پاکستان میں پیکنگ کی شکل میں بکنے والے دودھ کے 19 برانڈ میں سے صرف6 برانڈ ہیں،جو مُضر صحت نہیں ہیں۔ فوڈ اتھارٹیز ہر صوبہ میں18ویں ترمیم کے بعد بنی ہیں ورنہ 65 سال سے یہ خدمات PCSIR ہی انجام دے رہا تھا بے شمار پرائیویٹ صنعتوں کی تشکیل میں PCSIR نے ریسرچ کے ذریعے مدد دی ہے۔ مثلاًدانے دار سریش بنانے کی اِنڈسٹری، انڈسٹریل چربی(Tallow) بنانے کی اِنڈسٹری، جانوروں کی انتڑیوں سے تندی بنانے کی اِنڈسٹری،صاف پانی کی صنعت۔

اس کے علاوہ PCSIR کا ایک ذیلی شعبہPITAC کے نام سے بنایا گیا جو چھوٹے بڑے صنعت کاروں کو Tools خصوصی طور پر بنا کر دیتا ہے۔ PCSIR کے پہلے سربراہ ہمارے مُلک کے مایہ نازسائنسدان جناب سلیم الزماں صدیقی تھے۔ انہوں نے ہی PCSIR اور PITAC کو ٹھوس بنیادیں مہیا کیں۔ حیدرآباد دکن سے ہجرت کر کے آئے تھے اور اتنے عظیم سائنس دان، موجد اور پروفیسر اور سربراہ PCSIR ہونے کے باوجود ڈاکٹر صاحب کرایہ کے مکان میں رہے۔ اَب کہاں ہیں ایسے عظیم اور محب الوطن پاکستانی؟ ہمارا اٹامک انرجی کمیشن 1956ء میں بن چکا تھا۔ اِس کے سربراہ ڈاکٹر آئی۔ اے عثمانی تھے۔ فزکس کے سائنسدان بھی تھے اور ICS بھی تھے۔

واپڈا کی کاغذی بنیاد 1958ء میں رکھ دی گئی تھی، لیکن Functional فیلڈ مارشل ایوب خان کے زمانے میں ہوا۔ واپڈا کی کارکردگی اِبتدائی 10برسوں میں بہترین رہی، کیونکہ اس کے سربراہ پاکستان کے قابل ترین اشخاص رہے، جن میں غلام فاروق خان شامل ہیں واپڈا کے بڑے منصوبے ان 10 برسوں ہی میں مکمل ہوئے۔

وارسک ڈیم، چشمہ بیراج، منگلا ڈیم، تربیلا ڈیم، رسول اور قادرِ آباد کے ہیڈورکس کی وسعت بھی اِن ہی سالوں میں ہوئی۔ ایوب ایگریکلچر ریسرچ انسٹیٹیوٹ لائل پور (اب فیصل آباد) ایوب خان کے زمانے ہی میں بنی،جو آج مُلک کی بہترین زرعی یونیورسٹی بن چکی ہے۔ ہمیں انصاف سے کام لیتے ہوئے، ایوب خان کی صدارت کے دَور کو سراہنا چاہئے۔

سیاسی غلطیاں کس سے نہیں ہوتیں۔ کیا قائداعظمؒ کا ڈھاکہ یونیورسٹی میں 21 اپریل 1948ء میں یہ اعلان کرنا کہ پاکستان کی قومی زبان اُردو ہوگی۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا پہلا بیج ثابت نہیں ہوا؟کیا قائداعظمؒ کا خان عبدالغفار (باچا خان)کی مہمان داری کی دعوت کو خان عبدالقیوم خان کے مشورے پر رد کر دینا سیاسی غلطی نہ تھی؟ کیا بھٹو صاحب کی ضد اور’’اِدھر ہم اور اُدھر تم‘‘ کا نعرہ فاش سیاسی غلطی نہ تھا؟۔

کیا ضیاء الحق کا افغان جنگ میں پاکستان کو رگیدنے سے ہمارے مُلک کو خون کی ہولی نہیں کھلا ئی گئی؟ روسیوں سے کسی قسم کا بقائے باہمی کا ڈائیلاگ بھی ہو سکتا تھا، لیکن جنرل ضیاء الحق کی ناممکن خواہش کہ اسلام کی نشاۃ ثانیہ وسطی اشیاء تک لے جانی ہے اور ساتھ ہی افغان وار کے بہانے امریکہ سے رقمیں بٹورنی ہیں۔

کیا یہ بہت بڑی سیاسی غلطی نہ تھی؟ اِسی طرح فیلڈ مارشل کی سیاسی بلنڈرز تھیں، لیکن اُس نے پاکستان کی معیشت اور صنعت کی ترقی کو مزید زو ر و شور سے جاری رکھا۔ پاکستان کے اِبتدائی 18 سال(1947-1966ء)ہمارے مُلک کے سنہری دَور کے سال ہیں۔ہم واقعی ایشین ٹائیگر بننے والے تھے۔مغربی طاقتوں کو ایک نوزائیدہ مسلمان مُلک کی برق رفتار ی سے ترقی کرتی ہوئی معاشی ترقی پسند نہ آئی۔ بھٹو صاحب کے ذریعے اس تیز رفتار ترقی کے آگے بند بنا دیئے گئے ۔

ہمارے اِبتدائی لیڈران بھی ایماندار تھے،حالانکہ قائد اعظمؒ کے انتقال اور لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد ہمارے پاس درجہ دوئم کے سیاسی لیڈر رہ گئے تھے، جو حقیقی طور پر ابھی قومی سطح کے قابل نہ تھے، لیکن وہ سب ادارے جو مَیں نے اُوپر گنوائے ہیں اِن ہی درجہ دوئم کے سیاست دانوں کے زمانے میں عالمِ وجود میں آئے۔ البتہ فیلڈ مارشل نے اِن اِداروں کو ٹھوس بنیادیں فراہم کیں،جہاں آج کوریا، ملایشیاء چائنہ اور تھائی لینڈ کھڑے ہیں ، ہم شائد 1980ء تک پہنچ چکے ہوتے ۔

بھٹو اور جنرل ضیاء کرپٹ نہیں تھے، لیکن اُن کی ذاتی سوچ اور اَن ہونی خواہشیں پاکستان کی ترقئ معکوس کا سبب بنیں۔بھٹو صاحب کو کیا ضرورت تھی کہ تمام چھوٹی بڑی صنعتوں کو اور سکولوں کو قومیا لیا گیا بغیر اپنے نظریاتی Cadres تیار کئے۔ ہمارے تجربہ کار صنعتکار بے عزت ہو کر نکالے گئے۔ جنرل ضیاء کے آخری دور میں کچھ صنعتکار واپس آئے ورنہ ہم آج بھی اندھیروں میں رہنے والی قوم ہوتے۔

جنرل ضیاء کا ایک کارنامہ تاریخ میں یاد رکھا جائے گا کہ اُنہوں نے افغان جنگ کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے پاکستان کو نیوکلیر طاقت بنا دیا۔ بعد میں آنے والے سیاسی لیڈر فوج سے ہی لڑتے رہے ایک ایسی جمہوریت کے لئے، جس کا اُن میں خود بھی فقدان رہا اور اَب بھی ہے ۔

کون سی جمہوریت اور کیسی جمہوریت ۔ جمہوریت کی افزائش کے لئے تعلیم اور اچھے ، بُرے کا شعور در کار ہے جو ہمارے عوام میں ناپید ہے ۔ بات بات پہ لڈی ڈالنے والے عوام ، قانون کی دھجیاں بکھیرنے والے عوام اپنا اُلّو سیدھا کرتے ہیں اور پھر باری اگلے سیاست دانوں کو دے دیتے ہیں۔ اِن عوام کو ہمارے آج کے لیڈر خچروں کی طرح استعمال کرتے ہیں۔

مزید : رائے /کالم


loading...