طوفان سے پہلے کی خاموشی

طوفان سے پہلے کی خاموشی
طوفان سے پہلے کی خاموشی

  

دسمبر کا مہینہ بہت خاموش ہے، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ بڑا طوفان آنے سے پہلے کی خاموشی ہو۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ بظاہر سطح سمندر پر سکوت طاری ہے، لیکن تہہ میں زلزلہ برپا ہونے والا ہے، جس کے بعد ایسا سونامی آتاہے کہ سب کچھ بہا کر لے جاتا ہے۔ پچھلے مہینے کا آغاز بہت مختلف تھا، کیونکہ نومبر، مولانا کے دھرنے سے دھواں دار انداز میں شروع ہوا تھا۔ حکومت، عدالت، عمران خان اور اپوزیشن، سب کے سب چومکھی لڑائی میں مصروف تھے۔ میاں نواز شریف کی صحت تشویش ناک حد تک گر گئی تھی…… اور تو اور آرمی چیف کی توسیع کا معاملہ بھی انتہائی حساس نوعیت اختیار کر گیا تھا جو بظاہر حکومتی نا اہلی کا نتیجہ تھا۔ دو روز تک حکومتی قانونی ٹیم کی سپریم کورٹ میں خوب دھجیاں اڑنے کے بعد مسئلہ اس وقت حل ہوا،جب آرمی چیف خود حکومتی ٹیم اور کابینہ کے ساتھ بیٹھے اور اپنی نگرانی میں درست نوٹیفیکیشن تیار کروایا، ورنہ حکومتی ٹیم نے تو تیسرے دن بھی گونگلوؤں سے مٹی جھاڑ کر ہاتھ ملتے ہوئے عدالت سے مزید سبکی کروا کرمنہ لٹکائے واپس ہی آنا تھا۔دنیا کی نالائق ترین حکومت بھی ساڑھے تین مہینوں میں نوٹیفیکیشن نکال لیتی، یہ نالائقی سے زیادہ نیت کی خرابی لگتی ہے کہ جیسے ٹھیک نوٹیفیکیشن بنانا ہی نہیں تھا۔

اس مسئلے پر نالائقی تھیوری یا بد نیتی تھیوری میں سے کون سی درست ہے اور کون سی غلط؟اس کا علم کچھ ہفتوں یا مہینوں میں ہو ہی جائے گا، لیکن ایک بات تو طے ہے کہ ان دو تھیوریوں کے علاوہ کوئی تیسری وجہ ممکن نہیں۔ میری خواہش ہے کہ نالائقی والی تھیوری ٹھیک نکلے، کیونکہ بدنیتی والی بات اگر نکل آئی تو ایک ایسا بحران شروع ہو جائے گا جس کا اختتام نہ جانے کہاں جا کر ہو، لیکن تصادم بہر حال ضرور ہو گا۔ نااہل سسٹم شاید کبھی چل جاتے ہوں گے اور کبھی ڈھے جاتے ہوں گے، لیکن بدنیت سسٹم تو کسی صورت چل ہی نہیں سکتے اور گرتے ہی گرتے ہیں۔ آرمی چیف والے مقدمے میں سپریم کورٹ کے فیصلے نے حکومت کی پریشانیوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ سپریم کورٹ اگر توسیع منظور کر لیتی تو مسئلہ وہیں کا وہیں ختم ہو جاتا، اگر توسیع مسترد کر دیتی تو حکومت آسانی سے نیا آرمی چیف نامزد کر دیتی۔ حکومت کے لئے ہاں یا ناں، دونوں میں آسانی ہی آسانی تھی، لیکن سپریم کورٹ نے جو فیصلہ دیا ہے،اس میں حکومت کے لئے خاصی مشکلات ہیں۔ اب آرمی چیف کم از کم چھ ماہ کے لئے کہیں نہیں جا رہے، وہ وکٹ پر بدستور کھڑے بیٹنگ کرتے رہیں گے۔

آرمی چیف کو چھ ماہ کی توسیع ملنے کے فوراً بعد سب سے بڑے صوبے پنجاب میں سوا سال سے قائم انتظامی ڈھانچے میں سنجیدہ نوعیت کی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ وفاقی سیکرٹری داخلہ میجر (ر) اعظم سلیمان خان کو فوری طور پر پنجاب سنبھالنے کے لئے چیف سیکرٹری پنجاب بنا کر اسلام آباد سے لاہور بھیج دیا گیا ہے۔ یہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے کورس میٹ (62 لانگ کورس)تھے اور سول سروس میں انڈکٹ ہونے کے بعد پچھلے 30 سال کے دوران زیادہ تر اہم پوزیشنوں پر تعینات رہے۔ان کے والد بریگیڈئر سلیمان خان کا لاہور پر بہت بڑا احسان یہ ہے کہ 6 ستمبر1965ء کو جب رات کی تاریکی میں بھارت نے لاہور پر حملہ کیا تو انجینئرنگ کور سے تعلق رکھنے والے بریگیڈئر سلیمان خان نے بی آر بی نہر کا پل تباہ کرکے لاہور شہر بچا لیا تھا کہ حملہ آور بھارتی فوج بی آر بی نہر کراس نہیں کر سکی تھی۔ لاہور میں آباد ڈی ایچ اے اور ای ایم ای کی ڈیزائننگ اور تعمیر کا آغاز بھی بریگیڈئر سلیمان خان نے کیا تھا۔

اعظم سلیمان کے بڑے بھائی ائر مارشل ریٹائرڈ عاصم سلیمان ہیں،جو پاک فضائیہ کے نائب سربراہ تھے اور بعد میں سول ایوی ایشن اتھارٹی اور پی آئی اے کے چیئرمین بھی رہے۔ ہم لاہور ائرپورٹ سے شہر آتے ہوئے کینٹ کے علاقے میں عابد مجید روڈ سے گزرتے ہیں۔ عابد مجید شہید چیف سیکرٹری اعظم سلیمان کے سگے ماموں تھے۔ اعظم سلیمان کے اپنے ذاتی اور خاندانی حوالے بہت مضبوط ہیں، اب یہ بات یقینی ہے کہ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار عملی طور پر سائڈ لائین ہو گئے ہیں اور عملی طور پر فیصلے چیف سیکرٹری کے چلیں گے۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار کوہمارے وزیراعظم وسیم اکرم پلس کہتے ہیں اور ہمارے صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان، جن کا موازنہ تاریخ میں مشہور شیر شاہ سوری سے کرتے ہیں، لیکن اچانک ایک مرتبہ پھرانہیں غیر رسمی طور پر غیر متعلق کر دیا گیا ہے۔ وہ جم میں جا کر ورزش کریں یا کسی اچھے گالف کورس میں لمبی لمبی شاٹس لگائیں، دل کرے تو اور شادی بھی کر لیں یا جو مرضی کرتے پھریں، لیکن صوبائی امور میں ان کی ضرورت محض دستخطوں تک رہ گئی ہے، یعنی جو بھی فیصلے ہوں، ان کی رسمی منظوری اور دستخط وزیراعلیٰ کی ذمہ داری رہے گی۔

عثمان بزدار پنجاب میں خاتون اول کی پراکسی تھے، بیگم صاحبہ نے اپنے بندے اپنی مرضی کی جگہوں پر فٹ کئے ہوئے تھے، لیکن اب ان سب کو فارغ کر دیا گیا ہے۔ پنجاب میں پوری کی پوری بیوروکریسی میں ایسی اکھاڑ پچھاڑکی گئی ہے کہ ہر سطح پر نئے کی بجائے پرانا پاکستان واپس آ گیا ہے۔ادھر پنجاب میں وزیر اعلیٰ کو سائڈ لائن کیا گیا تو فوری طور پر وفاق میں دو اہم باتیں ہوئیں۔ پہلی یہ کہ احتساب پر مامور معاون خصوصی شہزاد اکبر کو اضافی طور پر وزارت داخلہ میں بھی معاون اعلیٰ لگا دیا گیا،جہاں ان کا عہدہ وزیر مملکت کے مساوی ہو گا۔ اس کا سیدھا سیدھا مطلب یہ ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ بریگیڈئر اعجاز شاہ کی گردن پر ایک غیر منتخب شخص کو سوار کر دیا گیا ہے۔ یہ شہزاد اکبر نہ جانے کہاں سے نازل ہوئے ہیں،

لیکن ان کا طریقہ کار زیادہ تر میڈیا ٹرائل پر مشتمل ہوتا ہے۔ وہ کسی کے خلاف ثبوت اکٹھے کر کے ریفرنس بنانے سے زیادہ پریس کانفرنس میں الزامات کی طویل فہرست پیش کرنے کے شوقین ہیں۔ ہو سکتا ہے بریگیڈئر اعجاز شاہ کو اس بات کی سزا ملی ہو جو انہوں نے ایک انٹرویو میں اعتراف کیا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ کو میاں نواز شریف کی حکومت کے دوران صرف تین چار لوگوں سے مسئلہ تھا اور اگر میاں نواز شریف انہیں سائڈ پر کر دیتے تو وہ چوتھی بار بھی وزیراعظم بنتے۔ اس سے کھل کر یہ بات واضح ہوتی ہے کہ میاں نواز شریف کو ہٹانے کے لئے جان بوجھ کر انہیں پہلے نااہل اور پھر بیٹی سمیت گرفتار کرکے جیل میں ڈالا گیا اور الیکشن میں مسلم لیگ (ن) کو منصوبہ بندی سے باہر کر کے پی ٹی آئی کی حکومت بنوائی گئی۔

بہرحال اب بریگیڈئر اعجاز شاہ جانیں اور ان کی گردن پر سوار ا شہزاد اکبر جانیں۔ دوسری اہم پیش رفت یہ ہوئی کہ ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل بشیر میمن کو زبردستی مستعفی ہونے پر مجبور کیا گیا، کیونکہ ان پر پچھلے ایک سال سے پی ٹی آئی حکومت مسلسل دباؤ ڈال رہی تھی کہ اپوزیشن لیڈروں پر ناجائز مقدمات بنا کر جیلوں میں سڑنے دیا جائے۔جیسے مبینہ طور پر خواجہ آصف پر آرٹیکل 6 کے تحت بغاوت کا مقدمہ بنانے کا دباؤ مسلسل رہا۔ بشیر میمن نے اپنا شمارپاکستان کے ان بہادر سپوتوں میں کرا لیا ہے،

جنہوں نے ناجائز دباؤ اور جبر کا مقابلہ کیا، لیکن جھکنے کی بجائے عزت سے استعفا دے کر گھر جانے کو ترجیح دی۔ چونکہ ایف آئی اے سے ناجائز مقدمات بنوانے میں حکومت ناکام رہی تھی تو اس نے نیب کے ذریعے لوگوں کو جھوٹے کیسوں میں گرفتار کیا۔ جیسے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل، یا پھر انٹی نارکوٹکس سے رانا ثنا اللہ کے خلاف جھوٹا مقدمہ بنوایا۔ بشیر میمن کی جگہ جے آئی ٹی میں عمران سیریز جیسے محیر العقول کمالات دکھانے والے واجد ضیاء کو ایف آئی اے کا نیا سربراہ بنایا گیا ہے اور انہیں پہلا ٹاسک پشاور بی آر ٹی میں حکومت کو ”کلیئر“ کرنے کا دیا گیا ہے۔ جی ہاں! یہ وہی پشاور بی آر ٹی ہے جس میں ہونے والی کرپشن، نا اہلی، تاخیر اور جگ ہنسائی ضرب المثل بن چکی ہے۔

سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد کے واقعات نے ثابت کر دیا ہے کہ بین الاقوامی شہرت یافتہ صفحہ بوسیدہ ہو چکا ہے۔ صفحہ کے ایک طرف والوں کو ادراک ہو چکا ہے کہ معاملات میں نالائقی سے زیادہ بد نیتی تھی،اس لئے صفحہ کے دوسرے طرف بیگم صاحبہ کی ٹیم فارغ ہوئی ہے۔ صفحہ کے دوسری طرف والوں نے بھی وفاقی وزیر داخلہ کی گردن پر اپنا بندہ بٹھا دیا ہے اور ایف آئی اے کا سربراہ بھی ذرا وکھری ٹائپ کا لے آئے ہیں۔ کرکٹ کی اصطلاح میں اسے ”گیم آن ہے“ کہتے ہیں۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ چیف ایگزیکٹو یعنی وزیر اعظم کے لئے قطعاً اچھی خبر نہیں ہے، کیونکہ اس فیصلے نے اختیار ایگزیکٹو سے لے کر پارلیمنٹ کو دے دیا ہے۔ اسی فیصلے کی وجہ سے دیوار سے لگی اپوزیشن جماعتیں اچانک relevant ہو گئی ہیں کہ ان کے بغیر قانون سازی ممکن نہیں۔

حکومتی قانونی ٹیم ایک بار پھر حکومت کو گمراہ کرے گی کہ صرف آرمی ایکٹ میں تبدیلی کو سادہ اکثریت سے منظور کرکے مسئلہ حل ہو جائے گا،لیکن پچھلے تمام مشوروں کی طرح یہ بھی ایک غلط مشورہ ہوگا جو حکومت کو بند گلی میں دھکیل دے گا اور سپریم کورٹ میں حکومتی ٹیم کی قوالی وہیں سے دوبارہ شروع ہو جائے گی، جہاں یہ فیصلہ دینے والے دن تک ہوتی رہی تھی۔ دسمبر کا مہینہ خاموشی سے ضرور شروع ہوا ہے، لیکن یہ خاموشی بڑے طوفان سے پہلے والی ہے۔ طوفان بھی وہ تہہ میں برپا ہونے والے زلزلے کی وجہ سے سونامی کی شکل میں سامنے آئے گا۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تصادم بھی ہو گا اور بوسیدہ صفحے کے دونوں طرف کارروائیاں بھی، اور ان سب کا مرکز یقینا پنجا ب ہو گا، اور اس میدان جنگ میں گجرات کے چودھریوں کا کردار بہت اہم ہو گا۔ دیکھتے ہیں طوفان سے پہلے کی خاموشی اور کتنے دن رہتی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -