72 سال کے بگاڑ کا چورن!

72 سال کے بگاڑ کا چورن!
72 سال کے بگاڑ کا چورن!

  

یہ 72 سال کے بگاڑ والا چورن کب تک بیچا جائے گا؟…… یہ چورن صرف حکمرانوں کی سطح پر ہی نہیں بیچا جا رہا،بلکہ افسروں، صنعت کاروں، تاجروں۔ حتیٰ کہ عوام تک میں بھی اس چورن کو بیچنے والے موجود ہیں۔ کیا ہم دنیا کی پہلی قوم نہیں جو پون صدی گزر جانے کے باوجود آج بھی منزل کی تلاش میں ہے۔ آج یہ 72 سال کا بگاڑ ہے تو اگلے سال 73 سال کا ہو جائے گا۔ ہر سال اضافہ ہی ہوگا یا کمی بھی ہو گی؟نیا پاکستان بیچنے والے بھی ناکام ہوتے نظر آتے ہیں، ان سے بھی بہتر سال پرانے پاکستان کا گند صاف نہیں ہو رہا۔ چین میں کیسے تبدیلی آئی، ملائشیا کیسے بدلا، سنگا پور نے ترقی کیسے کی؟

اس سے بھی پیچھے چلے جائیں تو یورپ میں کایا کلپ کیسے ہوئی، انقلاب فرانس کیسے آیا، امریکہ سپر پاور کیسے بنا؟ کسی جگہ تو ہماری نظر ٹھہرنی چاہئے۔72 سال کوئی کم عرصہ تو نہیں، جو قومیں ہم سے بعد میں آزاد ہوئیں،وہ کہاں سے کہاں پہنچ گئیں …… انہوں نے اپنے بگاڑ پر اس طرح قابو پایا کہ پھر اسے اٹھنے نہیں دیا۔ ہم نے صرف بگاڑ کی رٹ لگائے رکھی، اسے سیدھا کرنے کے لئے عملی اقدامات نہیں اٹھائے۔ بگاڑ کو ختم کرنے کے لئے اپنے آپ کو بدلنا پڑتا ہے، کیا ہمارے سیاست دانوں نے خود کو تبدیل کیا، کیا ہماری اشرافیہ تبدیل ہوئی، کیا ہمارے مراعات یافتہ طبقے نے سوچ بدلی، کیا عوام نے اپنا چلن تبدیل کیا، کیا ہماری بیورو کریسی کا قبلہ درست ہوا، کیا فوج کی سوچ تبدیل ہوئی؟…… سب کچھ تو وہیں کا وہیں ہے،سب تو بگاڑ کی روایت کے ساتھ کھڑے ہیں، کوئی بھی تو اس کے خلاف قدم نہیں اٹھانا چاہتا، پھر یہ بگاڑ کیسے ختم ہو، تبدیلی کیسے آئے، ہم آگے کیسے بڑھیں، غربت، افلاس، بد امنی اور نا انصافی کی جس چکی میں قوم پس رہی ہے اس سے نجات کیسے حاصل کرے؟

آپ کسی پولیس افسر سے ملیں تو وہ اپنی سطح پر تبدیلی لانے کے جذبے سے ہی محروم دکھائی دے گا۔ وہ سارا نزلہ گزرے ہوئے برسوں کے بگاڑ پر ڈال کر بری الذمہ ہونے کی کوشش کرے گا……جو برائیاں اس کی ناک کے نیچے ہو رہی ہیں، انہیں ختم کرنے کی بجائے ان کا محافظ نظر آئے گا۔ یہ سوچ سب سے بڑا بگاڑ ہے۔ کوئی اچھا کام کرے تو اس پر الزامات کی بوچھاڑ کر دی جاتی ہے۔یہ بھی 72 سالہ بگاڑ کو برقرار رکھنے کی ایک گھناؤنی روایت ہے۔ آج کل ایک بیانیہ بہت عام ہے۔ یہ بیانیہ حکومتِ وقت کے کارپردازان نے اپنا رکھا ہے۔ اس کا لبِ لباب یہ ہے کہ ملک پر مسلم لیگ (ن) کی تیس برس حکمرانی رہی ہے، اس کے اثرات بیورو کریسی پر بڑے گہرے ہیں،اس لئے وہ تبدیلی نہیں لانے دے رہی۔

لطیفہ یہ ہے کہ اس بار پنجاب میں بڑے پیمانے پر جو تبادلے ہوئے ہیں، ان میں وہ سب افسران تعینات کر دیئے گئے ہیں جو مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے ادوار میں کلیدی عہدوں پر تعینات رہے۔ یہ کیا دو عملی ہے؟……“ بیمار ہوئے جس کے سبب اسی عطار کے لونڈے سے دوا لینے کا سبق کس نے پڑھایا“……جو لوگ بگاڑ کا باعث تھے، وہ اصلاح کا فریضہ کیسے انجام دیں گے؟ پہلے تو لیڈر کا وژن آتا ہے اس کے بعد سرکاری مشینری اس پر چلتی ہے۔ ڈاکٹر مہاتیر محمد نے ملائشیا کو اپنے وژن سے تبدیل کیا۔ بیورو کریسی بھی وہی تھی اور سرکاری مشینری بھی، لیکن وژن بدل گیا تھا۔ ماؤزے تنگ نے چین کو زمین سے اٹھا کر آسمان کی طرف گامزن کر دیا، آج وہی افیونی قوم دنیا کی سپر پاور ہے۔ یہ بگاڑ ہمارے ہاں ہی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ سیاسی رہنما کے وژن پر حاوی ہو جاتی ہے۔ ایک قائداعظمؒ کی مثال ہی رہ گئی ہے، جو ایک منتشر ہجوم کو قوم بنا گئے اور پھر اس کے لئے آزاد ملک بھی حاصل کر لیا، وگرنہ یہاں تو سب لکیر کے فقیر بنے رہے۔ بگاڑ کو آگے بڑھانے والے، اس کے راستے میں بند نہ باندھنے والے۔

ذوالفقار علی بھٹو کتنا بڑا لیڈر تھا۔ کتنے وژن اور طاقت سے اقتدار میں آیا تھا۔ اس میں ڈاکٹر مہاتیر بننے کی پوری پوری صلاحیت موجود تھی، حالات بھی اس کے کنٹرول میں تھے،وہ ماضی کے بگاڑ کو روک سکتا تھا، ملک کو آگے بڑھا سکتا تھا…… مگر سب نے دیکھا کہ وہ بھی مصلحتوں کا شکار ہو گیا۔ اسے بھی قدم قدم پر اسٹیبلشمنٹ کے سامنے مصلحت آمیز فیصلے کرنے پڑے۔ وہ جو اصلاحات کرنا چاہتا تھا، ان کا رخ بدل دیا گیا، بالآخر ایک وقت ایسا آیا کہ ساری گیم اس کے ہاتھ سے نکل گئی۔ چونکہ زمین پر اس کے وژن کا کوئی ایک نشان بھی موجود نہیں تھا، حتیٰ کہ اس کے نعرے روٹی، کپڑا اور مکان کی بھی صرف پرچھائیاں باقی رہ گئی تھیں، اس لئے جب اس کی بساط لپیٹی گئی تو یوں لگا جیسے اس سے ناکام لیڈر اور کوئی نہیں تھا۔

جب آپ گند صاف کرتے کرتے خود اس کا حصہ بن جاتے ہیں تو گویا ماضی کے تمام غلط کاموں میں برابر کے شریک ہو جاتے ہیں۔ ایک افسر اگر کسی دفتر میں تعینات ہوتا ہے اور اپنا ذہن استعمال کرنے کی بجائے پہلے گزر کر جانے والے افسروں کے نقش قدم پر ہی چلتا ہے تو وہ نہ صرف ان کے اعمال میں حصہ دار ہے،بلکہ مٹی کا مادھو بھی ہے، وہ کیا تبدیلی لائے گا، اس کا حال تو ایک روبوٹ جیسا ہو گا، جو کرسی سے اٹھ کر جانے والے کی جگہ بیٹھ کر وہی کام کرتا ہے۔ ہمارے ہاں سب سے بڑی تبدیلی حکمران یہ کرتے ہیں کہ بڑے پیمانے پر افسروں کی اکھاڑ پچھاڑ کر دیتے ہیں۔ کروڑوں روپے ٹی اے ڈی اے کی مد میں ضائع کر دیتے ہیں۔ایک ڈپٹی کمشنر نے اگر ملتان میں کوئی تیر نہیں مارا تو وہ لاہور کا ڈی سی بن کر کون سا انقلاب لے آئے گا؟ وہ تو بگاڑ کے تسلسل کا محافظ بن کر بیٹھے گااور قسم کھالے گا کہ اس نے ریڈ بک سے آگے سوچنا تو درکنار دیکھنا بھی نہیں۔

وزیراعظم عمران خان کے ساتھ بھی وہی ہوا ہے، جو ہماری 72 سالہ تاریخ میں ہر سول و آمر حکمران کے ساتھ ہوتا آیا ہے۔انہیں بھی وہی کھوٹے سکے جیب میں ڈال کر چلنا پڑا ہے، جن کے بارے میں قائداعظمؒ بہت پہلے کہہ گئے تھے۔ وہی ماضی کے وزیر و مشیر ان کے ارد گرد بھی موجود ہیں۔بیورو کریسی کے پرانے ہونے کا کیا شکوہ، یہاں تو پوری سیاسی لاٹ ہی پرانی ہے۔ اب اس پرانی لاٹ سے 72 برسوں کا بگاڑ ختم کرنے کی امید رکھنا لطیفہ ہی کہا جا سکتا ہے۔ ہر کوئی پوچھتا ہے تبدیلی کہاں آئی ہے، کرپشن کہاں کم ہوئی ہے، گڈ گورننس کہاں گم ہے؟…… اگر ان اس سوالوں کا جواب کسی کے پاس ہو تو وہ دے۔ بس ایک ہی جواب آتا ہے، 72 برسوں کا بگاڑ ایک دن میں ٹھیک نہیں ہو سکتا۔ کیا صرف یہی ایک جواب ہے، کیا اس سے عوام کو مطمئن کیا جا سکتا ہے، کیا تحریک انصاف کی حکومت ہر سال یہی کہتی رہے گی اور پانچ سال کی مدت پوری کر کے گھر چلی جائے گی؟ پھر نئی حکومت آئے گی اور وہ 77 سال کے بگاڑ کا رونا روئے گی۔

خیر اشرافیہ کو معلوم ہے کہ اس بگاڑ میں عوام بھی شامل ہیں، اس لئے کچھ نہیں بگڑے گا، پھر اگلی بار وہ انہی لوگوں کو ووٹ دے کر اسمبلیوں میں لے آئیں گے۔الیکٹ ایبل کی اصطلاح بھی ہمارے ہاں ہی رائج ہے۔ یہ لوگ جتھے کی صورت میں نئی آنے والی حکومت سے ڈیل کرتے ہیں اور وزارتیں لے کر اس کا حصہ بن جاتے ہیں۔ ان کے بغیر حکومت بنتی ہے اور نہ چلتی ہے۔ انہیں کبھی لوٹا کہا گیا، کبھی فصلی بٹیرے کہا گیا، کبھی ضمیر فروش کا نام دیا گیا، مگر ان کا بال بھی بیکا نہ ہوا، کیونکہ عوام انہیں پسند کرتے ہیں، سو ایک دائرہ ہے، جس میں ہمارا نظام، ہمارا ملک اور ہماری حکمرانی مقید ہے۔ شاید 72 سال اور گزر جائیں گے، مگر ہم اس دائرے کو توڑنے میں کامیاب نہیں ہوں گے اور 72 سال کے بگاڑ کا چورن اسی طرح بکتا رہے گا۔

مزید :

رائے -کالم -