جے یو آئی (س) شمالی وزیرستان کا انتظامیہ پر تحفظات کا اظہار  

جے یو آئی (س) شمالی وزیرستان کا انتظامیہ پر تحفظات کا اظہار  

  

بنوں (بیوروچیف) جے یو آئی (س) شمالی وزیرستان کا انتطامیہ پر تحفظات کا اظہار، قبائل صوبے میں ضم ہونے کے باوجود شمالی وزیرستان میں چالیس ایف سی آر کا قانون رائج ہے علاقے کی تعمیر وترقی میں کوئی دلچسپی نہیں لے رہے اور اسی طرز پر بھتہ وصولی مہم جاری ہے ان خیالات کااظہار جمعیت علماء اسلام (سمیع الحق) ضم قبائلی اضلاع امیر و شمالی وزیرستان کے امیر مولانا عبدالحئی حقانی نے بنوں ٹاؤن شپ میں مشران کے منعقدہ احتجاجی جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا جرگہ سے مولانا عبدالحئی حقانی، ملک آمین خان، ملک شریف اللہ اور دیگر مشران نے کہا کہ قبائلی عوام نے بیش بہا قربانی دیکر اس ملک کو محفوظ بنایا اور ملک دشمن عناصر کی سرکوبی کیلئے پاک فوج اور عوام کا بھرپور ساتھ دیا اور اپنے گھر بار چھوڑ کر خیموں میں زندگی گزاری اور دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا اب چونکہ قبائلی علاقہ جات صوبے میں ضم کردیئے گئے ہیں جس قبائل کو اُمید پیدا ہوگئی کہ قبائلی عوام کو ملک کے دیگر حصوں کے عوام کے برابر حقوق ملیں گے لیکن افسوس کا مقام ہے کہ ڈپٹی کمشنر سمیت دیگر انتظامیہ وزیرستان کے عوام کو سہولیات دینے میں مکمل ناکام دیکھائی دے رہے ہیں اور آج بھی چالیس ایف سی آر کے طرز پر اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں شاہراہ غلام خان کو ناجائز طریقہ سے جیبوں کیلئے آمدن کا ذریعہ بنایا گیا ہے علاقے کو اسی طرح پسماندہ رکھا جارہا ہے اور ترقیاتی عمل پر سنجیدہ کام نہیں ہورہا یہاں پر عوام صحت تعلیم پانی و بجلی وغیرہ کے بہت سے مسائل کا سامنا ہے حکومت شمالی وزیرستان کے قبائلی عوام کا معیار زندگی بہتر بنانے کیلئے فوری اقدامات اُٹھائے اور یہاں کے انتظامیہ کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کا پابند بنائیں 

مزید :

پشاورصفحہ آخر -