کوئٹہ،10سالہ بچی کے اغوا کا مقدمہ سینیٹر میر سرفراز بگٹی و دیگر کیخلاف درج 

کوئٹہ،10سالہ بچی کے اغوا کا مقدمہ سینیٹر میر سرفراز بگٹی و دیگر کیخلاف درج 

  

کوئٹہ (این این آئی)کوئٹہ میں پیشی پر آنے والی دس سالہ بچی کو والد کی جانب سے زبردستی ساتھ لے جانے کا مقدمہ نانی کی مدعیت میں سینیٹر میر سرفراز بگٹی و دیگر کے خلاف درج کر لیا گیا، سینیٹر سرفراز بگٹی نے ان پر لگائے جانے والے الزامات کی تردید اور مذمت کی ہے۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز کو سابق وزیر داخلہ بلوچستان سینیٹر میر سرفراز بگٹی کے خلاف اغواء کا مقدمہ بجلی روڈ تھانہ میں 10 سالہ بچی ماریہ کی نانی کی مدعیت میں درج کیا گیا، مدعی یاسمین اختر نے الزام عائد کیا ہے کہ 10سالہ بچی ماریہ کو عدالتی حکم نامہ پر دو گھنٹے کیلئے ان کے والد توکل بگٹی کے حوالے کیا گیا تھا جسے وہ اپنے ساتھ لے کر فرار ہو گیامدعی کا الزام ہے کہ بچی کے والد توکل بگٹی کو سینٹرمیر سرفراز بگٹی کی پشت پناہی حاصل ہے، ماریہ کی نانی کا کہنا ہے کہ ماریہ کی والدہ کو دس سال قبل اس کے شوہر توکل علی بگٹی نے ڈیرہ بگٹی میں قتل کیا تاہم انہیں خدشہ ہے کہ اب وہ ماریہ کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے دوسری جانب سینیٹر سرفرازبگٹی نے ان پر لگائے گئے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا اس واقعہ سے کوئی تعلق نہیں توکل علی صرف میرے دوست قوم کے بگٹی ہیں اس واقعہ سے میرا کوئی تعلق نہیں اس معاملے پر لاتعلقی کا اظہار کرتا ہوں یہ باپ کو بیٹی کی کسٹڈی دینے کا معاملہ ہے جو عدالت میں زیر سماعت ہے جس کا دل کرتا ہے شریف آدمی کی پگڑی اچھلانے لگاتا ہے میں اس امر کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔

مقدمہ درج

مزید :

صفحہ آخر -