منجمد کر کے محفوظ کی گئی غذاؤں کی مارکیٹ کا حجم 50 ارب روپے ہوگیا

   منجمد کر کے محفوظ کی گئی غذاؤں کی مارکیٹ کا حجم 50 ارب روپے ہوگیا

  

اسلام آباد  (اے پی پی)پاکستان میں منجمد کر کے محفوظ کی گئی غذاؤں کی مارکیٹ کا حجم 50 ارب روپے سالانہ ہے۔ جس میں ایک بڑا حصہ دار گوشت ہے،  مقامی مارکیٹ میں ویلیو ایڈیڈ مصنوعات کی بڑی مقدار بھی فروخت کی جارہی ہے۔ماہر رفیق رنگون والا نے کہا ہے کہ گوشت کے بعد ویلیو ایڈیڈ مصنوعات میں گندم سے تیار کی جانے والی تیار غذائیں شامل ہیں جبکہ منجمد غذاؤں میں تیسرا بڑا حصہ سنیکس کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں تیار کی جانے والی منجمد غذاؤں کی مجموعی پیداوار کا صرف 10 تا 15 فیصد حصہ ہی برآمد کیا جارہا ہے تاہم برآمدات میں سو فیصد سے زیادہ اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ منجمد کر کے محفوظ کی گئی غذاؤں کے شعبہ کی ترقی کے لئے حکومت کی سرپرستی کی ضرورت ہے جس سے مجموعی پیداوار کے 30 تا 40 فیصد کے مساوی تیار اور منجمد غذائیں برآمد کی جاسکیں گی۔ جو  نہ صرف قیمتی زرمبادلہ کمانے کا ذریعہ بنیں گی بلکہ اس سے روزگار کے لاکھوں نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے اور قومی معیشت پر خوشگوار اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شعبہ کی ترقی سے غذائی تحفظ کو بھی یقینی بنایا جاسکے گا۔

مزید :

کامرس -