انصار برنی کا کشمیر میں انسانی حقوق کی خوفناک صورتحال پر اظہارتشویش 

انصار برنی کا کشمیر میں انسانی حقوق کی خوفناک صورتحال پر اظہارتشویش 

  

سجاول (این این آئی) سماجی رہنما اقوام متحدہ کے سابق مشیر خاص برائے انسانی حقوق ایڈووکیٹ انصار برنی نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خوفناک صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار ظاہر کرتے ہوئے حکومت وقت سمیت عالم امن سے اپیل کرتے کہاکہ انسانی حقوق کے عالمی دن کو کشمیر سے منسلک کیا جائے اور انصار برنی ٹرسٹ 10 دسمبر کو انسانی حقوق کا عالمی دن ٹھٹھہ کے علاقہ دہابیچی پریس کلب میں منانے کا اعلان کیا ہے تاکہ عالمی برادری کی توجہ مقبوضہ کشمیر میں کئی دن سے جاری انسانی حقوق کی سنگین صوتحال کی طرف مبذول کرائی جاسکے اور عالمی برادری کو اس بات کی یاد دہانی کرانے کے لیے اس دن کو مظلوم کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کے طور پر منایا جائے تا کہ کشمیری عوام پر بھارتی مظالم کو روکنا اور تنازعہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق حل ہوسکے جو ہم سب کی ذمہ داری ہے ان خیالات کا اظہار این این آئی خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کیا۔انصار برنی نے اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ علاقے میں بھارتی فورسز کی طرف سے نہتے کشمیریوں کے انسانی حقوق کی پامالیوں کا سنجیدگی سے نوٹس لے۔انصار برنی نے کہاکہ جب دنیا انسانی حقوق کا دن منارہی ہے بھارت کی قابض افواج کشمیری عوام پر ظلم و بربریت کے تمام ریکارڈ توڑ رہی ہیں۔انہوں نے کہاکہ انسانی حقوق کا عالمی اعلامیہ جس کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 10دسمبر 1948 کو منظوری دی تھی، ہر انسان کے حقوق اور آزادی کے لیے یہ دن سنگین میل کی حیثیت رکھتا ہے لیکن اس عالمی دستاویز کے باوجود کشمیر ی عوام کے سیاسی اور انسانی حقوق مسلسل پامال کئے جارہے ہیں۔اس نے کہاکہ کشمیر ی عوام کے حق خود ارادیت سے مسلسل انکار انسانی حقوق کی سب سے بڑی خلاف ورزی ہے اور حق خودارادیت عالمی سطح پر تسلیم شدہ حق ہے جس کا وعدہ اقوام متحدہ نے کشمیر ی عوام سے بھی کیا تھا لیکن بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی کرکے اس حق کو سلب کررکھا ہے۔ سماجی رہنما نے کہاکہ کشمیری عوام گزشتہ 70سال سے بھاتی فورسز کے مظالم کا سامنا کررہے ہیں جو کشمیریوں کو غلام بنانے، ان کی زندگیوں، حقوق، ثقافت اور وقار کو اپنی مٹھی میں کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -