ٹریڈ باڈیز کو اپنی کارکردگی ثابت کرنا ہو گی،ینیٹر مرزاآفریدی

  ٹریڈ باڈیز کو اپنی کارکردگی ثابت کرنا ہو گی،ینیٹر مرزاآفریدی

  

کراچی(اکنامک رپورٹر)چیئرمین سینیٹ قائمہ کمیٹی و تجارت و ٹیکسٹائل سینیٹر مرزا محمد آفریدی نے کہا ہے کہ ٹریڈ باڈیز کارکردگی دکھائیں اور FPCCIاس سلسلے میں لیڈکرے‘ یہ ملک کی ضرورت ہے کہ ہمیں بزنس کمیونٹی سے ایک دیرپا فیڈ بیک ملتا رہے‘ جیسا کہ دنیا کی بزنس کمیونٹی میں ہوتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے اجلاس کے بعد ہونے والی غیر رسمی گفتگو میں سابق ممبر ایگزیکٹو کمیٹی ایف پی سی سی آئی میاں عثمان ذوالفقار کی سربراہی میں وفد سے کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈائریکٹر جنرل ٹریڈ آرگنائزیشنز ستائیس دسمبر کو ہونے والے FPCCIکے انتخابات کے سلسلے میں غیر جانبداری کا مظاہرہ کریں‘ اور ایک شفاف طریقہ کار بنائیں تاکہ فیڈریشن امیدواران کو کسی قسم کی کوئی رکاوٹ پیش نہ آئے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے کہا کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ فیڈریشن چیمبر آف کامرس جن مقاصد کے لیے معرض وجود میں آئی تھی وہ اپنے اس ویژن سے ہٹتی جا رہی ہے لہٰذا بزنس کمیونٹی جس کو بھی آئندہ سال کے لیے فیڈریشن کا صدر مقرر کرے اُس کو کارکردگی دکھانی ہو گی اور ایک جامع ٹریڈڈپلومیسی کے لیے روڈ میپ دینا ہو گا۔ یہ لمحہ فکریہ ہے کہ ماضی میں اس ادارے کو بزنس کمیونٹی کے کچھ نمائندگان نے اپنے ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کیا اور اس ادارے کے توسط سے مختلف SROsلیے جس سے حکومت کو ٹیکسوں کی آمدن میں نقصان اٹھانا پڑا۔ حکومت FPCCI کے انتخابات کے سلسلے میں غیر جانبداری کا مظاہرہ کر رہی ہے اور یہ توقع کررہی ہے کہ 2020ء کے سال میں ہمیں FPCCIسے معنی خیز تجاویز میسر ہوں گی۔ سینیٹر آفریدی نے مزید کہا کہ فیڈریشن کے جو آئندہ انتخابات ہوں گے اُس میں ہماری تجویز ہو گی کہ امیدواران کا چناؤ میرٹ پر ہو جن کی شخصیت ہر سکینڈل سے مبرا ہو۔ اس موقع پر میاں عثمان ذوالفقار نے کہا کہ اس وقت ملک کی ٹریڈ باڈیز بشمول فیڈریشن میں بندر بانٹ کا سلسلہ جاری ہے‘ سارا سال پریس ریلیز یا سیمینار منعقد کرنے کے علاوہ یہ لوگ کچھ نہیں کرتے‘ اس سلسلے میں یہ تجویز ہے کہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی وزارت تجارت کو یہ ہدایات جاری کرے کہ ایک جامع طریقہ کار مرتب کر کے ٹریڈ باڈیز پرلاگو کیا جائے تاکہ FPCCIاور دیگر ٹریڈ باڈیز کو یہ پتا ہو کہ ہم نے اس طریقہ کے ساتھ ورکنگ کرنی ہے تاکہ ممبران کو سہولیات اور فائدہ پہنچ سکے۔ میاں عثمان نے یہ مطالبہ کیا کہ 27دسمبر کو FPCCIکے انتخابات کے سلسلے میں وزارت تجارت دو سے تین مبصر نامزد کرے تاکہ FPCCIکے انتخابات کی شفافیت کو غیر جانبدار کے طور پر دیکھا جا سکے اور اس کی پوری رپورٹ وزارت کو پیش کی جا سکے۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -