مقبوضہ کشمیر میں انتخابی حد بندیاں اس ماہ کے آخرمیں ہوں گی

مقبوضہ کشمیر میں انتخابی حد بندیاں اس ماہ کے آخرمیں ہوں گی

  

جموں (آئی این پی) بی جے پی کے جموں و کشمیر ونگ کے جنرل سکریٹری اشوک کول نے کہا کہ حلقہ بندیوں کے بعد اسمبلی انتخابات منعقد ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ شہریت ترمیمی بل 2019 پارلیمنٹ میں منظور ہونے کے بعد جموں و کشمیر میں بھی نافذ ہوگا۔حدبندی کا مقصد انتخابی حلقوں میں ووٹرز کی تعداد اور اس کی حدود متعین کرنا ہوتا ہے۔ اس کے لیے ایک کمیشن قائم کیا جا تا ہے سپریم کورٹ کے جج یا سابق جج کو اس کمیشن کا چئیرمین مقرر کیا جاتا ہے۔اشوک کول نے کہا کہ جموں و کشمیر میں غیر قانونی طور پر رہنے والے روہنگیا اور بنگلہ دیشیوں پر اس قانون کا اطلاق ہوگا، لیکن اس سے مغربی پاکستان کے مہاجرین اور جموں میں مقیم پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے مہاجرین پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ساتھ ایشین وائر کے مطابق انہوں نے کہا کہ روہنگیا صرف جموں خطے میں ہی نہیں بلکہ کشمیر میں رہ رہے ہیں۔ کشمیر میں بس اسٹینڈز پر بھیک مانگنے والے لوگ وہی ہیں۔ تقسیم ہند کے بعد سے 50 ہزار کے قریب مغربی پاکستان مہاجرین جموں میں مقیم ہیں۔انہوں نے کہا کہ دفعہ 370 کو منسوخ کرنے سے پہلے وہ صرف پارلیمانی انتخابات میں حصہ لے سکتے تھے نہ کہ ریاستی اسمبلی انتخابات میں کیونکہ وہ جموں وکشمیر کے مستقل باشندے نہیں سمجھے جاتے تھے۔

مغربی پاکستان پناہ گزینوں کو شہریت دینا بی جے پی کا ایک انتخابی مسئلہ تھا اور پارٹی نے اقتدار میں آنے پر انہیں شہریت کے حقوق دینے کا وعدہ کیا تھا۔

مزید :

علاقائی -