اسلام آباد، ون ویلنگ پر لاکھوں روپے کے جوئے میں اہم شخصیات کی پشت پناہی کا انکشاف

اسلام آباد، ون ویلنگ پر لاکھوں روپے کے جوئے میں اہم شخصیات کی پشت پناہی کا ...

  

اسلام آباد(آن لائن)وفاقی دارالحکومت میں موٹرسائیکل پر ”ون ویلنگ“موت کا کھیل کھیلنے والوں نے ایک مافیا کی شکل اختیارکر لی۔ون ویلنگ پر لاکھوں روپے جواء لگائے جانے اوراہم شخصیات کی پشت پناہی کا بھی انکشاف ہواہے جبکہ یہ موت کا کھیل کھیلتے ہوئے کئی نوجوان اپنی قیمتی جانیں بھی گنواچکے ہیں اورکئی عمربھرکے لئے معذورہوگئے ہیں۔ون ویلنگ کے لئے موٹرسائیکل تیارکرنے والے مکینک نے مری روڈ، گلبرگ، کورال اوربہارہ کہو میں اپنی دکانیں چمکائی ہوئی ہیں جہاں وہ اس کھیل کے شوقین نوجوانوں سے ہزار روں روپے بٹورکران کے موٹرسائیکل میں الٹریشن کرتے ہیں۔ معلوم ہواہے کہ جڑواں شہروں میں موٹرسائیکل پر کھیلے جانے والے موت کا کھیل”ون ویلنگ“ کے شوقین نوجوانوں کے کئی گروہ اس وقت مختلف ناموں سے یہ کھیل کھیلنے میں مصروف ہیں۔موت کے اس کھیل کو انتہائی خفیہ طریقے سے اورغیرمحسوس انداز میں چند اعلیٰ شخصیات کی سرپرستی بھی حاصل ہے۔ون ویلنگ پر لاکھوں روپے جواء لگائے جانے کے ساتھ ساتھ اس کھیل کے لئے موٹرسائیکل کو الٹریشن کرنے کے لئے خصوصی مکینک بھی مقرر ہیں۔ذرائع کاکہناہے کہ مری روڈ اوربہارہ کہومیں ایسے موٹرسائیکل شاپ موجود ہیں جہاں موٹرسائیکل تیارکئے جاتے ہیں۔ دیکھنے میں آیاکہ اسلام آباد ایکسپریس وے، کورال چوک،،مری روڈ،ملپور اورراول ڈیم کے ایریا میں ون ویلنگ اورموٹرسائیکل ریس کا کھیل زیادہ کھیلاجاتاہے۔زیادہ تر رات دس بجے کے بعد یہ نوجوان لڑکے موٹرسائیکل پر خوفناک کرتب کرتے ہوئے ریس لگارہے ہوتے ہیں۔ون ویلنگ اورریس لگانے کے دوران کئی قیمتی جانیں ضائع ہوچکی ہیں اورسینکٹروں کی تعداد میں نوجوان عمربھرکے لئے معذورہوچکے ہیں۔ معلوم ہواہے کہ ون ویلنگ کے لئے استعمال ہونے والے موٹرسائیکل مری روڈ اوراسلام آباد کے مختلف ایریاز میں قائم موٹرسائیکل کی دکانوں سے کرائے پربھی دیئے جاتے ہیں۔موٹرسائیکل دکانوں کے مالکان چھوٹے بچوں کو گھنٹوں کے حساب سے رینٹ پر موٹرسائیکل فراہم کرتے ہیں جبکہ اسلام آباد ایکسپریس وے پر راولپنڈی کی حدود سے  موٹرسائیکل داخل ہوتے ہیں اورریس لگاتے ہیں۔

ون ویلنگ

مزید :

علاقائی -