سعودی عرب میں موجود وہ پاکستانی جو اپنے بچوں کا برتھ سرٹیفکیٹ نہیں بنا سکے اور واپس آنا چاہتے ہیں، حکومت نے ان کی بڑی پریشانی حل کردی

سعودی عرب میں موجود وہ پاکستانی جو اپنے بچوں کا برتھ سرٹیفکیٹ نہیں بنا سکے ...
سعودی عرب میں موجود وہ پاکستانی جو اپنے بچوں کا برتھ سرٹیفکیٹ نہیں بنا سکے اور واپس آنا چاہتے ہیں، حکومت نے ان کی بڑی پریشانی حل کردی

  



ریاض(ویب ڈیسک) سعودی عرب میں مقیم پاکستانی جو اپنے بچوں کا پیدائشی سرٹیفیکٹ نہیں بنوا سکے اور وطن واپس آنا چاہتے ہیں ان کے لیے پاکستانی سفارت خانے میں آئوٹ پاس جاری کرنے کا خصوصی انتظام موجود ہے۔عرب میڈیا پر شائع ہونے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایسے بچوں کے لیے جن کے والدین نے شناختی کارڈ یا برتھ سرٹیفکیٹ نہیں بنوائے انہیں محدود پیمانے پر قونصلیٹ کی جانب سے انتظامات فراہم کیے جاتے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب میں مقیم بیشتر پاکستانی ایسے ہیں جنہوں نے اقامہ زائد المعیاد ہونے کے بعد اپنے بچوں کا برتھ سرٹیفیکٹ نہیں بنوایا اور نہ ہی انہیں اسپتال کی جانب سے کوئی لیٹر جاری کیا گیا۔پاکستان منتقل ہونے کے خواہش مند شہری جن کے اقامے زائد المعیاد ہوگئے جنہوں نے خوف یا کسی بھی کی وجہ سے بچوں کے برتھ سرٹیفیکٹ نہیں بنوائے تو وہ اپنی مشکل کے لیے پاکستانی سفارت خانے سے رابطہ کرسکتے ہیں جہاں انہیں فیس کے عوض پاس آئوٹ بنا کر دیے جائیں گے اور پھر وہ سفر کرسکیں گے بصورت دیگر سعودی ائیرپورٹ پر بچوں کو روکا جاسکتا ہے۔پاکستانی سفارت خانے کی جانب سے اس کی فیس پچاس ریال مقرر کی گئی ہے۔

یاد رہے کہ آئوٹ پاس وہ سفری دستاویز ہے جس پر بیرون ملک سے صرف اپنے ملک ہی سفر کیا جا سکتا ہے، آوٹ پاس کی سہولت لینے کا والا شخص کسی دوسرے نہیں بلکہ اپنے ہی ملک جاسکتا ہے کیونکہ اسے سفارت خانے کی جانب سے ہنگامی بینادوں پر پاسپورٹ کا متبادل آئوٹ پاس کی صورت میں دیا جاتا ہے۔واضح رہے کہ سعودی عرب میں متعدد پاکستانی ایسے بھی مقیم ہیں جن کے بچوں کی پیدائش گھروں پر ہوئی اور اسی وجہ سے انہیں برتھ سرٹیفیکٹ بنوانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سینکڑوں ایسے خاندان اب بھی سعودی عرب میں موجود ہیں جنہوں نے بچوں کا اندارج نہ تو ’نادرا‘ میں کرایا اور نہ ہی اپنے بچوں کے لیے شناختی کارڈ کی درخواست دی، اسی کی وجہ ان کے اقاموں کی ایسکپائری ہے۔

مزید : عرب دنیا