نیب اپنی غیرجانبداری ثابت کرے،سیاست دانوں کےساتھ ججز،بیوروکریٹس اورجرنیلوں کابھی اِحتساب ہونا چاہیے:سراج الحق

نیب اپنی غیرجانبداری ثابت کرے،سیاست دانوں کےساتھ ججز،بیوروکریٹس ...
نیب اپنی غیرجانبداری ثابت کرے،سیاست دانوں کےساتھ ججز،بیوروکریٹس اورجرنیلوں کابھی اِحتساب ہونا چاہیے:سراج الحق

  



لاہور(ڈیلی  پاکستان آن لائن)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نےکہا ہے کہ جب تک اپوزیشن کے ساتھ ساتھ حکمرانوں کا احتساب نہیں ہوتا،لوگ اسے یک طرفہ احتساب کہیں گے،نیب کو اپنی غیر جانبداری ثابت کرنا ہوگی،نیب کی اب تک کی کارکردگی چند لوگوں کی گرفتاری کے علاوہ کچھ نہیں ،سیاست دانوں کے ساتھ ساتھ ججز،بیوروکریٹس اورجرنیلوں کابھی اِحتساب ہوناچاہیے،جب تک سب کابلاامتیازاِحتساب نہیں ہوتا،اِحتساب کےپورے نظام پرانگلیاں اُٹھتی رہیں گی،نیب کے چیئرمین کا یہ بیان کہ نیب ابھی کارروائی نہیں کرتا اور چند وزراءاعلانات پہلےکردیتےہیں نےبھی اِس اِدارے کوفریق بنادیاہے۔

سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ کرپشن بڑےلوگ کرتے ہیں اوراِس کےبرے اَثرات غریب پرپڑتےہیں،ملکی دولت لوٹنےوالوں کاآج تک کسی نےہاتھ نہیں روکا، ملک کےاَربوں کھربوں ڈکارلیےگئےلیکن اِحتساب کےتمام تردعوی نقشِ برآب ثابت ہوئے،موجودہ حکومت کی اَب تک کی کارکردگی تقاریر کے علاوہ کچھ نہیں۔اُنہوں نےکہاکہ کرپشن کےمگرمچھ اِسی طر ح دندناتےپھرتےہیں،ملک میں ہونےوالی روزانہ12ارب روپے کی کرپشن رُک جاتی توشایدعوام کومہنگائی کےموجودہ عذاب سے نہ گزرنا پڑتا،نیب کے پاس کرپشن کے150میگاسکینڈلز کی فائلیں پڑی ہیں مگراُن پرکارروائی سے متعلق کسی کو نہیں بتایا جاتا۔اُنہوں نے کہاکہ پانامہ لیکس کے436ملزموں کےخلاف بھی کوئی کارروائی نہیں ہورہی،وزیراعظم کہتےتھے کہ میں لوٹی دولت واپس لاؤں گامگرآج تک کوئی ایک پیسہ واپس نہیں لاسکے ۔

سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ تبدیلی سے عام آدمی پر بوجھ پڑا ہے اُمراءپر نہیں،غریب کےلیےزندگی گزارنا اَجیرن ہوچکاہے، تعلیم ،صحت اور روزگار کی سہولتیں ختم ہوکر رہ گئی ہیں،عام آدمی کے لیے دو وقت کے کھانے کا انتظام کرنا اورسفیدپوش کےلیےاپنی سفید پوشی کابھرم رکھنا مشکل ہوگیاہے۔اُنہوں نےکہاکہ حکومت احتساب کے تمام وعدے بھول چکی ہے،وزیراعظم اگرواقعی احتساب کاشفاف نظام چاہتے ہیں توسب سےپہلےخودکو پیش کریں اورجن وزیروں مشیروں پرکرپشن یا لوٹ کھسوٹ کے الزامات ہیں،اِنہیں اِحتساب کے اِداروں کے حوالےکریں۔ 

مزید : قومی


loading...