”میں آسٹریلیا کام کرنے گیا تھا چھٹیاں منانے نہیں“

”میں آسٹریلیا کام کرنے گیا تھا چھٹیاں منانے نہیں“
”میں آسٹریلیا کام کرنے گیا تھا چھٹیاں منانے نہیں“

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) وسیم خان نے کہا ہے کہ میں آسٹریلیا چھٹیاں منانے کیلئے نہیں بلکہ کام کرنے کیلئے گیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق قومی کرکٹ ٹیم کے دورہ آسٹریلیا کے دوران وسیم خان بھی وہاں موجود تھے جس پر بہت سے افراد نے تنقید کی کہ وہ چھٹیاں منانے وہاں گئے ہیں۔ وسیم خان نے ناقدین کو جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی کیلئے کوشاں ہیں اور آسٹریلیا بھی اسی مقصد کیلئے گئے تھے جس دوران آسٹریلین کرکٹ بورڈ کی جانب سے بہت مثبت اشارے ملے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ”میں جانتا ہوں کہ کچھ لوگ کہہ تھے کہ میں آسٹریلیا میں چھٹیاں منانے گیا ہوں لیکن یہ میں ہی جانتا ہوں کہ آسٹریلیا کیوں گیا اور کیا کام کیا البتہ جلد ہی میرے دورے کے ثمرات بھی نظر آنا شروع ہو جائیں گے۔“

ان کا کہنا تھا ” دیکھیں، میرے منصوبے بہت واضح ہیں اور ہماری پہلی ترجیح پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی ہے۔ لوگ کیا سوچتے ہیں یہ ہمارے لئے اہم نہیں ہے، ہماری توجہ کرکٹ آسٹریلیا، انگلینڈ اور جنوبی افریقی بورڈ کیساتھ اچھے تعلقات بنانے پر مرکوز ہے۔“

وسیم خان نے دورہ آسٹریلیا کے حوالے سے تین اہم نکات پر بھی بات کی اور کہا ”سب سے پہلے تو ہم نے 2022ءمیں آسٹریلین ٹیم کی پاکستان میں ٹیسٹ سیریز کھیلنے پر بات چیت کی جبکہ اپنی ہوم سیریز بھی پاکستان میں کھیلنے پر بات کی کیونکہ آسٹریلیا میں ہمیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔“

ان کا مزید کہنا تھا کہ ”میں وہاں ساﺅتھ ویلز کے حکام سے بھی ملا جس دوران سکالرشپ ایکسچینج پروگرام پر بات چیت ہوئی اور اس سے ہمارے کھلاڑیوں کو بین الاقوامی سطح پر شہرت حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔ میرا تیسرا نقطہ چار سالہ پروگرام ترتیب دینا تھا جس دوران ہماری انڈر 19 اور اے ٹیم ایک سال میں آسٹریلیا میں ایک دورہ کرے گی۔“

مزید :

کھیل -