تقرراورتبادلےسیاسی بنیادوں پرکیوں ؟؟؟

تقرراورتبادلےسیاسی بنیادوں پرکیوں ؟؟؟
تقرراورتبادلےسیاسی بنیادوں پرکیوں ؟؟؟

  



گزشتہ دنوں وفاق اور پنجاب میں کافی بڑے پیمانے پر تقرریاں اورتبادلےہوئےہیں،تو یہ بات ایک مرتبہ پھرواضح ہوگئی کہ ہمارےملک میں اعلیٰ حکام کی تقرریاں اورتبادلےنہ توانتظامی بنیاد پرہوتےہیں اورنہ ہی میرٹ پرہوتےہیں بلکہ سیاسی بنیادوں اورحکمران جماعت کی ضروریات کی وجہ پرہوتےہیں ۔نئے چیف الیکشن کمشنراوراراکین الیکشن کمیشن کی تقرری کامعاملہ بڑی اہمیت کی حامل ہے،حکومت اور حزبِ اختلاف میں دونوں کی بھرپور کوشش ہے کہ نئےلوگ ان کے منظورِ نظر ہوں۔ چیف الیکشن کمشنرجسٹس(ر)سرداررضا مورخہ 5 دسمبرکوریٹائرڈہوگئےہیں اوراِس وقت عملی طورپرالیکشن کمیشن آف پاکستان قائم مقام چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ الطاف ابراہیم قریشی کےتقررکےباوجودغیرفعال ہوچکاہےکیونکہ اس وقت پانچ رکنی کمیشن میں سےدواراکین ہی موجود ہیں۔

تین نئےاراکین کی تقرری کےلیےسیاسی جماعتوں میں تاحال اتفاق نہ ہوسکا,جس کی ذمہ داری سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر ڈالنےکےلیےبیان بازی میں مصروف ہیں۔حزبِ اختلاف کی جماعت مسلم لیگ ن چاہتی ہےکہ نیاالیکشن کمیشن ایسابنےکہ تحریک اِنصاف کےخلاف فارن فنڈنگ کیس کافیصلہ ن لیگ کی توقعات کےعین مطابق آئے۔اِسی طرح تحریک انصاف چاہتی ہےکہ نیاالیکشن کمیشن اِن کےحسبِ منشابنےتاکہ فارن فنڈنگ کیس سےبچنےمیں مدد مل سکے۔الغرض فریقین میرٹ پرفیصلہ نہیں ہونےدیناچاہتے۔حزبِ اختلاف کی رہبرکمیٹی نےچیف الیکشن کمیشن اوراراکین کی تعیناتی کامعاملہ سپریم کورٹ میں چیلنج کردیاہےکہ چیف الیکشن کمشنراوراراکین کی تعیناتی کےمتعلق قائم پارلیمانی کمیٹی میں عدم اتفاقِ رائےکےبعدآئین کاآرٹیکل213خاموش ہے, لہٰذا عدالت عظمیٰ رہنمائی کرے جبکہ پارلیمانی کمیٹی کی چیئرپرسن اوروفاقی وزیرشیریں مزاری کا موقف ہےکہ پارلیمانی کمیٹی مشاورت کاعمل جاری رکھےہوئےہےتوسپریم کورٹ کیسے مداخلت کرسکتی ہے ؟؟؟

اِس سے کئی سوالات نے جنم لیاہےکہ کیابلدیاتی اِنتخابات وقت پرہوسکیں گے؟؟؟ کیا سیاسی جماعتیں الیکشن کمیشن میں سیاسی مفادات کےتحفظ کےلیے  تقرریاں چاہتی ہیں اوریہ کہ مروجہ طریقہ کارکےتحت قائم ہونےوالاالیکشن کمیشن کیاواقعی آزادانہ کردارکاحامل ہوتاہے؟؟؟ کیا وہ انتخابی عمل میں واقعی غیرجانبدارانہ کردار اداکرسکتاہے؟؟؟ بہتریہ ہےکہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کےتمام ممبران بشمول چیف الیکشن کمیشن کاتقررحکومت اورحزبِ اختلاف کی باہمی مشاورت کی بجائے سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے کیاجائے۔

دوسرا سب سے اہم معاملہ نئے ڈی جی آئی ایف اے کی تقرری کے حوالے سے رہاہے۔سابقہ ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن اپنی ریٹائرمنٹ سے چند روز قبل محض اپنےعہدے سےمستعفی ہوگئےکہ وہ مستقبل کےڈی جی ایف آئی اےواجدضیاءکےحوالےسےتحفظات رکھتےتھے۔اِنہیں لگتاتھاکہ حکومت حزبِ اختلاف کو انتقامی کارروائی کانشانہ بنانےکےلیےایک جانبدارانہ تقرری کررہی ہے۔ بشیر میمن صاحب کےموقف سے بالکل اتفاق نہیں کیاجاسکتا ہے۔ موصوف خودبھی توحزبِ اختلاف کےرہنماخواجہ آصف کی حمایت میں مستعفی ہوئے ہیں کیونکہ وہ نہیں چاہتے تھےکہ خواجہ آصف کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت مقدمہ درج ہو، اگرایساہےتوبشیرمیمن صاحب خود بھی جاتےجاتےجانبداری ہی کا ثبوت دےکرگئےہیں۔ہمارے ملک میں اعلیٰ سول حکام آخرکیوں سیاسی طور  پر غیرجانبدارانہ نہیں رہ سکتے،ہر آنےوالی حکومت اپنےمنظورِنظرافراد کو نوازتی ہے۔اِس کے بعد ایک اورسیاسی ہلچل پنجاب کی سول سروس میں اکھاڑ بچھاڑ نے بھی پیدا کی ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار وزیراعظم پاکستان عمران خان کی رہنمائی میں تقرریاں اور تبادلےکرتےنظر آئے۔سوال تو پیدا ہوتا ہےنا کہ کیاوزیراعلیٰ پنجاب تختِ لاہور کو سنبھالنے اورفیصلےکرنےسےقاصرہیں؟؟؟ جووزیراعظم پاکستان کی پنجاب کےصوبائی معاملات میں مداخلت ضروری پڑتی ہے؟؟یا پھروزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزبزداربااختیارنہیں ہیں؟؟؟

پنجاب میں سب سے زیادہ متنازعہ نامزدگی چیف سیکرٹری پنجاب کے عہدے کےلیے میجرریٹائرڈاعظم سلیمان کا نام ہے۔اِن کا ماضی کیسا رہا ہے ؟؟؟ کیا وزیراعظم عمران خان اوروزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدارکو یہ علم نہیں کہ میجرریٹائرڈاعظم سلیمان سانحہ ماڈل ٹاون کیس میں بطورملزم نامزد ہیں  کیونکہ وہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے وقت ہوم سیکرٹری پنجاب تھے اور شہبازشریف کے دست راست سمجھے جاتے تھے۔اگراِس سب کچھ کے باوجود یہ تعیناتی ہوجاتی ہے تو پھر شہباز  شریف کی اِن ہاؤس تبدیلی والی بات کون سی غلط ثابت ہوتی ہے؟؟؟ سچ تو یہ ہے کہ پنجاب میں آج بھی شہبازشریف کےمنظورِ نظراعلیٰ سول حکام موجود ہیں ۔ فی الحقیقت عثمان بزدارکی ٹیم میں کام کرنےوالےلوگ وہی ہیں جوکہ شہبازشریف کی ٹیم میں تھے۔توپھرپوچھناتو بنتا ہے کہ تبدیلی کا کیا بنا پھر؟؟؟ وزیراعظم عمران خان صاحب آپ جس طرح شہدائے ماڈل ٹاون کے لواحقین کو انصاف دلانے کے وعدے بھولے ہیں,اِس پر دلی رنج ہوا۔ آپ نے پورا پنجاب سانحہ ماڈل ٹاون کیس کے نامزد ملزم کوکس جوازکے تحت سونپ دیا؟؟؟ آپ کے اس عمل سے شہدائے ماڈل ٹاون کے لواحقین کو کتنا دکھ ہوا ہوگا؟؟؟ کبھی فرصت ملے تو سوچیے گا ضرور !!!

یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید : بلاگ