کی جاناں میں کون   (1)

کی جاناں میں کون   (1)
کی جاناں میں کون   (1)

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


مشہور صوفی بزرگ بابا بلھے شاہ نے اپنے آپ سے سوال کیا تھا کہ بلھیاکی جاناں میں کون۔ وہ صاحب معرفت تھے اُن کا اشارہ زندگی کی گہری حقیقتوں کی طرف تھا۔ عام آدمی تو زندگی بھر اپنی پہچان کرانے میں لگا رہتا ہے اُسے اپنے اندر جھانکنے کا نہ شعور ہوتا ہے نہ حوصلہ۔ ہم بھی عامیوں کے اسی ریوڑ میں شامل ہیں۔ تعلیمی سفر میں گاؤں سے فیصل آباد اورپھر لاہور پہنچے تو پنجاب یونیورسٹی میں پہلے پولیٹیکل سائنس اور پھر جرنلزم ڈیپارٹمنٹ جا پہنچے۔ درمیان میں ادبی چسکے کی وجہ سے اورینٹل کالج میں بھی جھانکا۔ پھر کینیڈا کی ایک یونیورسٹی میں بھی داخلہ لیا لیکن سیشن شروع ہونے سے پہلے کچھ دوستوں کے اصرار پر جرنلزم ڈیپارٹمنٹ میں داخلہ لے لیا گوماسٹر ڈگری کی تکمیل سے پہلے ہی ملازمت شروع کر لی اگرچہ بعد میں ماسٹر بھی کر لیا۔ جرنلزم پڑھنے سے ذہنی افق کچھ وسیع ہوا کیونکہ جرنلسٹ کی تعریف میں شامل ہے کہ وہ کچھ چیزوں کے بارے میں سب کچھ اور سب چیزوں کے بارے میں کچھ نہ کچھ جانتا ہے۔ 


جب میں جرنلزم پڑھ رہا تھا اُس وقت صحافت کی دنیا میں صورتحال کافی مایوس کن تھی وقت کے ساتھ نجی شعبے میں البتہ ٹیلی ویژن چینلز کی آمد سے میڈیا میں جسے روایتی زبان میں ریاست کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے اگرچہ سمجھا نہیں جاتا ایک انقلاب آ گیا۔ سائیکلوں اور موٹر سائیکلوں والے گاڑیوں کے مالک بن گئے کہیں کہیں تو میڑک پاس اخبار کے ایڈیٹر بن بیٹھے جو ذرا چرپ زبان تھے وہ اینکر اور ”سینئر تجزیہ کار“ بن گئے جن کے ہاتھ کوئی سفارش لگ گئی وہ پی ٹی وی میں گھس گئے۔ ایک دور میں نکلے تو دوسرے میں پھر آ گئے اور پھر تیسری مرتبہ۔ آجکل نجی چینلز پر اینکرز کے جو چہرے نظر آتے ہیں ان میں سے اکثریت نے پی ٹی وی سے ہی اُڑن بھری لیکن یہ بعد کی بات ہے۔


1976ء میں پی ٹی وی میڈیاکے شعبے میں ایک اچھا آپشن تھا یہ ادارہ خطے میں اُبھرتے ہوئے پاکستان کی شناخت تھا اور الیکٹرانک میڈیا کے میدان  میں مناپلی کی وجہ سے اس کی معاشرے میں کافی اہمیت تھی لہٰذا ہم پی ٹی وی کے قافلے میں شامل ہو گئے۔ پی ٹی وی طویل عرصے تک سرکار کے ساتھ ساتھ زندگی کے کئی شعبوں میں قوم کی اُمنگوں کی بھرپور ترجمانی کرتا رہا اس کے پروگراموں سے قومی یکجہتی اور کلچر کو فروغ حاصل ہوالیکن پھر باقی اداروں کی طرح یہاں بھی نشیب کی طرف سفر شروع ہو گیا جو اب شاید کریٹیکل پوائنٹ تک پہنچ گیا ہے اس صورتحال کا تجزبہ اور ذمہ داری کا تعین سب سینئرز پر قرض ہے۔ عملی جرنلزم میں پیشے کے تقاضوں کے تحت چاروں اطراف جھانکنے کا موقع ملا پھر روزی روٹی کا ذریعہ بھی جرنلزم ہی بنا حالانکہ بہت سے علوم میں ڈگری کا عملی زندگی سے کوئی تعلق نہیں بن پاتا۔ جب میں اپنے بارے میں سوچتا ہوں کہ میں کون ہوں اور اس سارے سفر میں کیا کھویا کیا پایا تو جواب مشکل ہو جاتا ہے نسبتاً اچھے وقتوں میں ڈائریکٹر نیوز کی کرسی تک رسائی ہو گئی اور ساتھ ہی اسلام آباد سنٹر کی سربراہی  بھی ملی۔

آفیشلEquivalence کے مطابق کنٹرولر کی پوسٹ گریڈ بیس کے برابر ہوتی ہے۔ پی ٹی وی میں درجہ بندی گروپ سسٹم کے تحت ہوتی ہے اور گروپ ایک سے 9 تک ہوتے ہیں۔ ڈائریکٹر اس سے آگے ایم پی سکیلز میں چلا جاتا ہے۔ میرٹ پر اتنی ہی ترقی ہو سکتی تھی اس سے آگے کے سفر کیلئے آبلہ پائی کا یارانہ تھا۔ اطمینان کا پہلو یہ ہے کہ کبھی کسی علاقائی، لسانی اور مذہبی شناخت کا سہارا نہیں لیا بلکہ ہمیشہ ان چیزوں کی حوصلہ شکنی کرتا رہا۔ کسی اندرونی گروپ کی سرپرستی کا نسخہ بھی نہیں آزمایا۔ رائج الوقت حربوں خوشامد اور سفارش سے بھی حتی الوسع پرہیز کیا  Status Quo کو توڑنے کی کوششوں کی بھی کچھ قیمت ادا کی لہٰذا ضمیرپر کوئی بوجھ نہیں۔ عملی زندگی میں البتہ ایک مخمصہ درپیش ہے کہ سکہ بند سرکاری افسر ہمیں افسر نہیں مانتے کیونکہ ہماری تنخواہ اے جی پی آر سے نہیں آتی تھی۔ دوسری طرف جرنلزم پڑھنے اور ساری عمر اسی شعبے میں جھک مارنے کے باوجود جرنلسٹ برادری ہمیں جرنلسٹ نہیں مانتی کیونکہ سرکار کی چاکری کا ٹھپہ لگ گیا۔(جاری ہے)

مزید :

رائے -کالم -