میر ظفر اللہ جمالی بھی چلے گئے!

میر ظفر اللہ جمالی بھی چلے گئے!
میر ظفر اللہ جمالی بھی چلے گئے!

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


گزشتہ دِنوں پاکستان کے15ویں وزیراعظم میر ظفر اللہ جمالی طویل علالت کے بعد چل بسے۔ میر ظفر اللہ جمالی،جمالی قبیلے کے سردار اور بڑے مرنجان مرنج انسان تھے۔جمالی صاحب نے کارزار سیاست میں پچاس سال گزارے، لیکن اپنے دامن پر کوئی داغ نہ لگنے دیا۔ جمالی صاحب نے 1970ء کے انتخابات میں قسمت آزمائی کی، لیکن ناکام رہے اور اس کے بعد پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر 1977ء کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔ پھر مارشل لاء کے دور میں غیر جماعتی انتخابات میں بھی کامیابی حاصل کی اور وفاقی وزیر کے منصب پر فائز ہوئے۔ 1988ء میں جب جنرل ضیا الحق نے محمد خان جونیجو کی حکومت کو برطرف کردیا تو ظفر اللہ خان جمالی کو نگران وزیراعلیٰ بلوچستان بنایا گیا اور عام انتخابات میں کامیابی کے بعد وہ وزیراعلیٰ بلوچستان منتخب ہوئے تاہم ان کی وزارت کا دور محض 14 دن رہا۔وہ 1994ء اور 1997ء میں سینیٹ کے رکن بھی رہے اور 1997ء میں دوبارہ نگران وزیراعلیٰ بلوچستان رہے۔

میر ظفراللہ خان جمالی 23 نومبر 2002ء کو پاکستان کے 15ویں وزیراعظم منتخب ہوئے تاہم 26 جون 2004ء کو وزرات عظمیٰ کے منصب سے مستعفی ہوگئے تھے۔وہ بلوچستان سے منتخب ہونے والے پاکستان کے اب تک کے واحد وزیراعظم ہیں۔مختلف مناصب پر فائز رہنے کے باوجود ان کا دامن کسی قسم کی کرپشن اور الزامات سے پاک تھا۔ اپنے پرائے سمیت کوئی بھی ان پر مالی یا اخلاقی کرپشن کا الزام عائد نہ کر سکا۔  سادگی، تواضع اور انکساری ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی، لیکن اس سب کے باوجود ان کا اللہ پر ایمان اور نبیﷺ سے محبت جس کی خاطر انہوں نے اسمبلی چھوڑ دی وہ ان کی سب صفتوں پر بازی لے گیا۔ 2015ء میں مسلم لیگ (ن) کے دورِ حکومت میں ختم نبوت کے قانون کو بدلنے کی کوشش کی گئی، جس پر عقیدہ ختم نبوت پر یقین اور ایمان رکھنے والے سبھی سیاست دانوں نے احتجاج کیا، لیکن جو گفتگو اور عمل میر ظفر اللہ جمالی نے کیا وہ شاید ہی کسی کے نصیب میں آیا ہو۔

انہوں نے 2015ء میں اسمبلی میں جو الفاظ ادا کئے وہ سونے کے پانی سے لکھے جانے کے قابل ہیں۔ جمالی صاحب نے اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں متواتر 37برس سے مکہ اور مدینہ جا رہا ہوں اور اس اسمبلی میں اللہ اور اس کے نبیﷺ کے خلاف قانون پاس ہو رہے ہیں مَیں اگر روضہئ رسولؐ پر  گیا تو انہیں کیا جواب دوں گا اور کس منہ سے مدینے جاؤں گا۔ یہ کہہ کر میر ظفر اللہ جمالی نے اسمبلی سے استعفیٰ دے دیا اور کہا کہ وہ دوبارہ اس  اسمبلی میں نہیں آئیں گے۔ پھر پاکستان نے دیکھا کہ بلوچ سیاست دان نے اپنے الفاظ کا پاس رکھا اور اسمبلی میں دوبارہ آنا گوارہ نہ کیا۔ میر ظفر اللہ جمالی جیسے سیاست دان اور انسان اب ہمارے معاشرے میں چراغ لے کر ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتے۔ اب تو محلے کا کوئی کونسلر ہو تو اس پر کرپشن اور بد عنوانی کے لاتعداد الزامات لگ جاتے ہیں،وہ پاکستانی سیاست کے چہرے پر ایک روشن چراغ کی مانند تھے اور جس طرح انہوں نے اسمبلی میں ناموس رسالتؐ پر ممبر شپ چھوڑ کر گھر کی راہ لی یہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ ان کا دل بھی حب نبیؐ سے معمور تھا اور وہ نہیں چاہتے تھے کہ کل قیامت کے روز ان کو اس معاملے پر جواب دہ نہ ہونا پڑ جائے۔

وزیراعظم بنے تو ان کے دور میں ان کے ساتھ کام کرنے والے ملازم اور ان کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ وہ پروٹوکول کی پرواہ نہیں کرتے تھے۔اس کے علاوہ وہ شاید پاکستان کے واحد وزیراعظم تھے،جو اکثر ٹرین کے ذریعے ہی اپنے گھر سے اسلام آباد یا کراچی آتے جاتے تھے ان کے بعد یہ روایت بھی دم توڑ گئی۔جمالی صاحب جیسے شریف سیاست دان ہماری سیاست میں مس فٹ تھے اس لئے انہیں کبھی وزارتِ اعلیٰ پر کام نہیں کرنے دیا گیا تو کبھی وزارتِ عظمیٰ پر بھی ان کی موجودگی سب کو کھٹکتی رہی۔وہ جتنا عرصہ وزیراعظم کے منصب پر فائز رہے ان کے خاندان کے افراد نے وزیراعظم ہاؤس میں رہنے کی بجائے اپنے گھروں میں رہنے کو ترجیح دی۔ میر ظفر اللہ جمالی کے جانے سے پاکستانی سیاست سے شرافت کا ایک باب ختم ہو گیا ہے اور ان کے جانے سے پاکستانی سیاست میں جو خلا پیدا ہوا ہے وہ اس گھٹن زدہ سیاست کے لئے ایک ناقابل ِ تلافی نقصان ہے۔اللہ جمالی صاحب کو غریق رحمت کرے اور ان کے لواحقین کو صبر جمیل دے آمین۔

مزید :

رائے -کالم -