کرونا ویکسین کی تیاری ایک تاریخی لمحہ(2)

کرونا ویکسین کی تیاری ایک تاریخی لمحہ(2)
کرونا ویکسین کی تیاری ایک تاریخی لمحہ(2)

  

 ہمیں پتا ہونا چاہیے کہ ٹی بی اور دمے کا مرض ماضی قریب و بعید میں انتہائی مہلک سمجھا جاتا تھا۔ لوگ ان امراض میں مبتلا خاندانوں کے بچوں اور بچیوں سے رشتے ناطے نہیں جوڑتے تھے کہ یہ متعدی امراض تھے،لیکن آج ٹی بی اور دمہ کے مریض دنیا بھر میں انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں۔ خود ہمارے ہاں پاکستان میں یہ مرض بہت کم ہو چکا ہے۔ اس طرح فالج، کینسر، خسرہ، تشنج، پولیو، ہیپاٹائٹس، شوگر، بلڈ پریشر وغیرہ بھی مہلک سمجھے جاتے ہیں، لیکن آج ان خطرناک امراض پر بھی کنٹرول حاصل کیا جا چکا ہے۔ ہمارا ایمان ہونا چاہیے کہ کرونا وائرس کا قلع قمع بھی جلد ہو کر رہے گا کیونکہ دنیا بھر کی میڈیکل فیکلٹی اسی وائرس کو ختم کرنے کے لئے اربوں ڈالر ریسرچ پر خرچ کرنے میں لگی ہوئی ہے لیکن اس سے بچنے کا واحد ذریعہ رجوع الی اللہ ہی ہو سکتا ہے کیونکہ بڑی بڑی بلائیں اور عذاب عبادات میں مشغول ہونے سے ٹلتے رہے ہیں۔ خضوع و خشوع کے ساتھ عبادات، ذکر اذکار بالخصوص توبہ تائب ہونے سے ہماری کایا پلٹ سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ احتیاط کے بعض تقاضے ملحوظ خاطر رکھ کر بھی کرونا وائرس سے محفوظ رہنے میں مدد مل سکتی ہے۔ مثلاًہم مغربی ممالک کی دیکھا دیکھی جنک فوڈز کے عادی ہوتے جارہے ہیں اور اپنے ہاں دستیاب دیسی قسم کی خوراک شہروں میں نسبتاً کم ہو چکی ہے۔ بچے بھی پیزہ، برگر اور نہ جانے کون کون سی ڈشز استعمال کر رہے ہیں، لیکن ہمیں پتہ ہونا چاہیے کہ کرونا وائرس کے نتیجے میں موت کے منہ میں چلے جانے والے مغربی اور یورپی عوام کے مقابلے پر پاکستان میں کرونا سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد بہت کم ہے۔

اس کی وجہ ماسوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ ہماری سادہ اور عام فہم دیسی غذا کے استعمال کی وجہ سے اندرونی مدافعتی نظام بہت مضبوط ہے ہم کسی بھی مغربی اور یورپی ملک کے مقابلے پر زیادہ طاقتور اور تندرست ہیں۔ ویکسین تو ایک احتیاطی تدبیر اور حفاظتی انتظام ہے جو کسی تندرست شخص کو کسی مہلک مرض سے محفوظ رکھنے کے لئے پہلے ہی کر دیا جاتا ہے جس طرح بچو ں کو پولیو وغیرہ سے محفوظ رکھنے کے لئے بچپن ہی میں ویکسین دے دی جاتی ہے۔ علاج کی نوبت تو بعد میں آتی ہے جب کسی کو مرض لاحق ہو جائے، لیکن احتیاط کے تقاضوں سے تو کسی نے نہیں روکا ہے۔لاک ڈاؤن اس کا کوئی واحد حل نہیں اوراس کے اثرات مثبت کے ساتھ ساتھ ضرر رساں بھی ثابت ہوئے  مثال کے طور پر ہماری 70 فیصد دیہی اور شہری آبادی جس کی زندگیوں کا سو فیصد انحصار ہی روزمرہ آمدنی اور کمائی پر ہے وہ لاک ڈاؤن سے معاشرے سے کٹ کر رہ جاتے ہیں۔ ان کے بیوی بچے نان و نفقہ کے لئے  ترس جاتے ہیں۔ ایک اور اہم بات یہ ہے کہ مشکل کی گھڑی سے اکیلے نمٹنا صرف حکومت ہی کا نہیں،بلکہ معاشرے کے آسودہ حال اور مخّیر حضرات کا بھی کام ہوتا ہے۔

ایسے مواقع پر تلخیاں اور رنجشیں فراموش کرکے ایک دوسرے کا ہاتھ مضبوطی سے تھاما جاتا ہے۔ اس وقت حکومت اور اپوزیشن کے تعلقات نہ صرف مثالی نہیں،بلکہ ان میں بُعد المشرقین پایا جاتا ہے۔ہمیں یاد ہے گزشتہ سال19 دسمبر کے روز بلاول زرداری نے سندھ اسمبلی کے ہال میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان کو ”اپنا وزیراعظم“ کہا تھااور جس طرح مشکل کی گھڑی میں اپنے بیمار بھائی کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ کر میاں محمد شہباز شریف وطن واپس آکر قوم کے شانہ بشانہ کھڑے ہو سکتے ہیں تو وزیراعظم کو بھی کھلے دل سے اپوزیشن کا پیش کردہ دست تعاون تھام لینے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرنی چاہیے۔ اسی طرح ٹائیگر فورس ضرور قائم کی جائے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ بلدیاتی نمائندوں، جو فی الوقت بے اختیار ہیں،کی مدد بھی لی جا سکتی ہے۔ اساتذہ کرام بھی اس وقت سکولوں کالجوں کی بندش کے باعث گھروں پر موجود ہیں۔ ان کی رہنمائی بھی لی جاسکتی ہے۔

اگرچہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق کرونا وائرس ایک عالمی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے اور اسے ناکام بنانے کے لئے سب کو برابر کا شریک ہونا چاہیے ابتدا میں ویکسین کی محدود سپلائی سے کمزور اور ترقی پذیر اور غریب ملک یقینا کما حقہ مستفید نہیں ہو سکیں گے۔ اس کے لئے ترجیحات کا تعین بھی ضروری ہو گا، لیکن اس کے باوجود اس کی تیاری کا خیر مقدم کیا جانا چاہیے کہ یہ کام ایک خیر مستور کی حیثیت رکھتا ہے۔ (ختم شد)

مزید :

رائے -کالم -