ووٹ کو عزت دو کا یہ سلوگن!

ووٹ کو عزت دو کا یہ سلوگن!
ووٹ کو عزت دو کا یہ سلوگن!

  

آج ایک عجیب واقعہ پیش آیا جو اگرچہ ذاتی نوعیت کا ہے لیکن اس میں ایک دو اخلاقی اسباق ایسے ہیں جو آج کی سیاست گری کے عکاس اور غماز ہیں، اس لئے قارئین سے شیئر کر رہا ہوں۔

صبح 9بجے ناشتہ کر رہا تھا کہ ملازم نے آکر خبر دی کہ کوئی صوبیدار اسلم صاحب آئے ہیں اور آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔ میں نے انہیں لان میں ایک کرسی پر بٹھا دیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ کرنل صاحب سے ملاقات کرنی ہے۔ کچھ دیر بعد جب ان سے جا کر ملا تو انہوں نے ایک تو ماسک پہنا ہوا تھااس لئے ان کو پہچاننے میں دشواری معلوم ہوئی اور دوسرے اسلم کا نام پاکستان کے معروف مردانہ ناموں میں سے ہے۔ 29،30 سال کی سروس میں میرا خیال ہے کئی ایسے صوبیدار صاحبان سے ملاقات رہی جن کا نام محمد اسلم تھا۔ چنانچہ میں نے سلیک علیک کے بعد ان سے پوچھا کہ ہم نے کس جگہ اکٹھے Serve کیا ہے؟ کہنے لگے: ”میں نے آج تک نہ آپ کو دیکھا ہے اور نہ کسی سٹیشن پر اکٹھے رہے ہیں۔ میرا تعلق 6فرنٹیئر فورس رجمنٹ سے ہے۔1962ء میں بھرتی ہوا تھا۔ اس وقت یونٹ کومیلا (سابق مشرقی پاکستان اور موجودہ بنگلہ دیش) میں تھی۔ کرنل حق نواز ہمارے سی او (کمانڈنگ  آفیسر) تھے۔18سال کی نوکری کے بعد میں ریٹائر ہو گیا۔ عمر اب 80برس سے متجاوز ہے۔ ایف اے کرکے فوج جوائن کی تھی اس لئے جلد ترقی مل گئی اور میں صوبیدار بن گیا…… آپ نے میرے جانے کے بعد شاید یونٹ کمانڈ کی ہوگی“۔

”لیکن میرا تعلق نہ تو 6ایف ایف سے ہے اور نہ ہی میں نے کسی بٹالین کی کمانڈ کی ہے“۔ میں نے ان کو جواب دیا…… اس پر وہ گویا ہوئے: ”میں کل ایبٹ آباد میں تھاجو فرنٹیئر فورس رجمنٹ کا رجمنٹ سنٹر بھی ہے۔ وہاں کئی صوبیدار صاحبان سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ آجکل روزنامہ ”پاکستان“ میں کرنل جیلانی کا ایک سلسلے وار مضمون اخبار کے سنڈے میگزین ’زندگی‘ میں چھپ رہا ہے جس میں انہوں نے 6فرنٹیئر فورس کی تاریخ بیان کی ہے۔ اس اخبار کی سنٹر میں بہت مانگ ہے اور مضمون بہت دلچسپی سے پڑھا جا رہا ہے…… میں نے اسلم صاحب سے پوچھا کہ کیا کوئی روزنامہ ”پاکستان“ آپ کی نگاہ سے بھی گزرا ہے؟…… یہ سن کر وہ چپ ہو گئے۔ صرف اتنا کہا: ”میرے ذہن میں یہ تھا کہ اگر سنٹر والے آپ کا حوالہ دے رہے ہیں تو یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ جھوٹ بول رہے تھے…… ہاں شاید مجھے آپ کا نام بھول رہا ہو گا“۔

میں نے ان کو بتایا کہ: ”یہ مضمون دراصل میجر جنرل ظہور ملک کا تھا۔ میں نے جنرل صاحب کے ساتھ GHQ میں Serveکیا تھا اور وہ مجھ سے بہت محبت سے پیش آتے تھے۔ میرا اپنا اکلوتا بیٹا بھی ایف ایف میں Serveکر چکا ہے۔ لیکن اس کی یونٹ 46 ایف ایف تھی۔6ایف ایف تو میجر شبیر شریف نشانِ حیدر اور ان کے بھائی جنرل راحیل شریف سابق آرمی چیف کی یونٹ ہے۔ اس یونٹ کا نام اور مقام تو اب ایک تاریخ بن چکا ہے۔ جنرل ظہور سے میری اَن گنت ملاقاتیں تھیں۔ ان کا بیٹا اور بیٹی سکاٹ لینڈ (UK) میں ہیں اور پچھلے دنوں ان کا وہیں انتقال ہوا۔ روزنامہ ”پاکستان“ کے سنڈے میگزین میں ان کے بارے میں جو کچھ چھپ رہا ہے وہ ان کی خودنوشت کے دو باب ہیں۔ یہ تحریر مرحوم نے میری ہی سفارش پر لکھنی شروع کی تھی۔ تیسرا باب زیرِ تحریر تھا کہ ان کا اچانک انتقال ہو گیا…… میں نے آپ کی یونٹ کی تاریخ بھی لکھی ہے جو جنرل راحیل شریف کی ایما پر لکھی گئی تھی۔ یہ ٹاسک انہوں نے آرمی چیف بننے سے تین چار ماہ پہلے مجھے سونپا تھا۔ تب وہ GHQ میں IGT&Eتھے جہاں میں نے 1985ء سے لے کر 1996ء تک کے 12برس گزارے تھے“۔

صوبیدار اسلم صاحب یہ باتیں سن کر سوچ میں پڑ گئے۔ ان کے چہرے سے ایک گونہ حیرت کا اظہار ہو رہا تھا۔ان کے دونوں ہاتھوں میں رعشہ تھا۔ میں نے پوچھا: ”یہ رعشہ کا مرض کب سے ہے؟“ …… انہوں نے دائیں پاؤں سے شلوار کا پائچہ اوپر اٹھایا اور کہا: ”گزشتہ ہفتے ایک کار کا ٹائر اس پاؤں پر سے گزر گیا تھا جس کے بعد یہ رعشہ شروع ہو گیا“۔ پھر میں نے یہ پوچھا کہ میرے ہاں آنے کا مدعا کیا ہے تو کہنے لگے: ”میرا ایک ہی بیٹا ہے جو بڑھاپے کا سہارا ہے۔ اور کوئی اولاد نہیں۔ میں آج کل کراچی میں آغا خان ہسپتال میں سیکیورٹی سٹاف میں ہوں۔ میرا بیٹا پاکستان سٹیل مل (کراچی) میں ڈمپر (Dumper) کا ڈرائیور تھاجسے موجودہ حکومت نے نوکری سے فارغ کر دیا ہے“…… یہاں میں نے ان کو ٹوکا اور کہا کہ حکومت نے تو 4500لوگوں کو پاکستان سٹیل مل ملازمت سے فارغ کر دیا ہے لیکن ہر ملازم کو 23لاکھ روپے معاوضہ بھی دینے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے یہ سن کر اثبات میں سر ہلایا اور کہا: ”سر! وہ تو جب ملیں گے، تب ملیں گے۔ اس وقت تو وہ بیٹا میرے پاس ہے اور میری قلیل تنخواہ میں ہم دونوں کا گزارہ نہیں ہو رہا۔ پنشن اور آغا خان ہسپتال کی تنخواہ مل کر بھی گھر کا خرچ پورا نہیں ہوتا۔ میں آپ کے پاس اس لئے حاضر ہوا تھا کہ آپ کو اپنا سابق C.O سمجھا تھا“۔

اس کے بعد انہوں نے 1962ء سے لے کر 1980ء تک کے 18برسوں میں 6ایف ایف جہاں جہاں رہی، اس کے حالات بیان کئے اور میں نے چونکہ اس بٹالین کی ایک مبسوط تاریخ لکھی تھی، اس لئے مجھے معلوم تھا کہ وہ حرف بحرف سچ کہہ رہے ہیں۔ میں نے ایک بار پھر ان سے آنے کا مدعا دریافت کیا تو کہنے لگے: ”میرا بیٹا ایمن آباد (نزد گوجرانوالہ) میں ٹرک پر جا رہا تھا کہ ایک موٹرسائیکل سوار ٹرک کی زد میں آ گیا۔ وہ خود تو بچ گیا لیکن موٹرسائیکل چکنا چور ہو گیا۔ اس کے لواحقین میرے پاس پہنچے اور کہا کہ اگر میں ان کو نیا موٹرسائیکل لے کر دے دوں تو وہ پرچہ نہیں کٹوائیں گے اور نہ ہی کوئی اور کارروائی کریں گے۔ میں نے آرمی ویلفیئر ٹرسٹ سے قرضِ حسنہ کی درخواست کی جو منظور ہو گئی۔ وہاں سے مجھے 60ہزار قرض مل گیا۔ لیکن موٹر سائیکل 70، 80 ہزار کا آتا ہے۔ میں اب کسی سے 15،20ہزار روپوں کا امیدوار ہوں۔ اگر کوئی خداترس مجھے یہ رقم بطور قرضِ حسنہ دے دے تو میں ان کا مشکور ہوں گا۔ میں آپ سے قرض لینے نہیں آیا۔ میں صرف اس لئے حاضر ہوا ہوں کہ اگر گوجرانوالہ کا کوئی SPیا SSPیا DIG آپ کا واقف ہے تو ازراہ مہربانی اسے فون کر دیں کہ مجھے صرف تین ماہ کی مہلت اس لڑکے کے لواحقین سے لے دیں تو میں اس دوران یہ 20ہزار روپے اکٹھے کرکے ان کو نیا موٹرسائیکل لے دوں گا“۔

میں نے کہا: ”کیا آپ نے ایمن آباد کے کسی MNA یا MPA سے بھی رابطہ کیا ہے؟…… وہ موٹرسائیکل والوں سے آپ کے کیس کا تصفیہ کرا دیں گے“۔یہ سن کر صوبیدار اسلم نے جواب دیا: ”جی سر! میں نے گوجرانوالہ کے ایک MNA جناب خرم دستگیر صاحب سے جا کر درخواست کی تھی کہ وہ میری مدد کریں“…… ”تو پھر انہوں نے کیا جواب دیا؟“ میں نے پوچھا۔

”سر! خرم دستگیر صاحب نے فرمایا کہ ہم سیاسی لوگ ہیں۔ ہم نے لوگوں سے ووٹ لینے ہوتے ہیں۔ میں ان کو مجبور نہیں کر سکتا کہ وہ دس بیس ہزار کا تقاضا چھوڑ دیں۔ وہ بھی تو غریب ہوں گے۔ غلطی آپ کے بیٹے کی تھی۔ آپ خود مان رہے ہیں۔ اس لئے میں کچھ نہیں کر سکتا۔ آج کل سیاسی حالات ویسے بھی جس طرح جا رہے ہیں، ہمیں لوگوں کے ووٹوں کی ضرورت ہے“۔

میں نے یہ سن کر کہا کہ یہ دس بیس ہزار روپے ایک معمولی رقم تھی۔ خرم دستگیر صاحب اپنے پاس سے بھی آپ کی مدد کر سکتے تھے۔ میری بات سن کر اسلم صاحب نے کہا:”شایدمیرا قصور یہ بھی ہے کہ میں ایک سابق فوجی ہوں!“……انہوں نے یہ بات بڑے ہی مایوسانہ لہجے میں کہی…… میں نے یہ سن کر اپنا پرس منگوایا اور جو مدد کر سکتا تھا، وہ کی اور صوبیدار صاحب کو رخصت کر دیا۔

اس داستان کا مارل (اخلاقی سبق) یہ ہے کہ کسی فوجی کا رینک کچھ بھی ہو، وہ کسی سے ’خیرات‘ مانگنا گوارا نہیں کرتا۔ ہاں قرضِ حسنہ کی بات دوسری ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ میں نے ان کو جو کچھ دیا، وہ انہوں نے کس انکار اور کس مجبوری کے بعد ’قبول‘ کیا…… اور دوسرا مارل یہ ہے کہ سیاست بڑا ہی سنگدل پروفیشن ہے…… اس میں اخلاقیات کو ووٹ پر ترجیح دینے کا چلن ایک روائت بن گیا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اگر خرم دستگیر صوبیدار اسلم کو  20ہزار دینے کی کوشش کرتے تو وہ اس کو ہرگز قبول نہ کرتے۔ لیکن ان کو تکلیف یہ تھی کہ اس ”ووٹ“ نے ان کی ایک جائز درخواست کو بھی اس لئے درخوراعتناء نہ سمجھا کہ کل کلاں ان کو ووٹ لینے انہی لوگوں کے پاس جانا تھا۔

……”ووٹ کو عزت دو“ کا نعرہ اس اعتبار سے بھی کھوکھلا ہے کہ یہ ووٹ کے تقدس کو Upholdکرنے کے لبادے میں کسی ووٹ نہ دینے والے حاجت مند کی حاجت روائی کرنے کی راہ میں حائل ہوتا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -