سابق وزیر قانون کے حلقہ کے بچے کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور

 سابق وزیر قانون کے حلقہ کے بچے کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 
کوھاٹ (بیورو رپورٹ) سابق صوبائی وزیر قانون کے حلقہ کے بچے کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور‘ چھتر میلہ پرائمری سکول میں نہ کلاس روم ہے اور نہ بیٹھنے کے لیے ٹاٹ ایک استاد 50 سے زیادہ بچوں کو پڑھانے پر مجبور‘ تفصیلات کے مطابق سابقہ صوبائی وزیر قانون امتیاز شاہد قریشی جو پانچ سال تک اقتدار کے مزے لوٹتے رہے اور ان کے بھائی اشتیاق قریشی جو اس علاقے کے تحصیل ناظم رہے ہیں مگر افسوس ان کے دور اقتدار میں بھی رحمان آباد شکردرہ سے آگے چھتر میلہ پرائمری سکول کے بچے بغیر کسی عمارت کے کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں جن کے لیے نہ کوئی فرنیچر ہے اور نہ بیٹھنے کے لیے ٹاٹ ہے اور نہ ہی معصوم بچوں کے لیے کوئی واش روم کی سہولت موجود ہے جو کہ تعلیمی ایمرجنسی کے حامل صوبے کے سابقہ وزیر قانون کے لے باعث شرم ہے اس حوالے سے جب محکمہ تعلیم مردانہ کے پلاننگ آفیسر سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ مذکورہ گورنمنٹ پرائمری سکول چھتر میلہ رحمان آباد سکول کا سب سیکشن ہے جو سال 2015-16 میں قائم کیا گیا مگر چونکہ اس علاقے میں کوئی انتقال والی 2 کنال زمین دینے کو تیار نہیں اس لیے یہاں پر سکول کی عمارت نہیں ہے گزشتہ دور میں سابقہ وزیر قانون امتیاز قریشی کے احکامات پر ہم نے اس علاقے کا وزٹ بھی کیا تھا مگر زمین نہ دینے کی وجہ سے یہ مسئلہ حل نہ ہو سکا اگر اب بھی کوئی دو کنال زمین دے تو یہاں کے بچوں کے لیے سکول کی تعمیر کی جا سکتی ہے دوسری جانب علاقے کی عوام سے جب چھتر میلہ میں فی کنال زمین کی قیمت معلوم کی گئی تو انہوں نے بتایا کہ یہاں پر زمین دس سے بیس ہزار روپے کنال مل جاتی ہے چھتر میلہ کی غریب عوام نے موجودہ ممبر صوبائی اسمبلی شاہ داد خان سے اپیل کی ہے کہ وہ زمین خرید کر اس علاقے میں پرائمری سکول کی تعمیر کو یقینی بنائیں تاکہ بچوں کو اچھا ماحول مل سکے۔