اسلام آباد ہائیکورٹ، پائلٹ لائسنس منسوخی کا سول ایوی ایشن آرڈرکا لعدم قرار 

اسلام آباد ہائیکورٹ، پائلٹ لائسنس منسوخی کا سول ایوی ایشن آرڈرکا لعدم قرار 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


اسلام آباد(آن لائن)اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ کی عدالت نے پائلٹ لائسنس منسوخی کا سول ایوی ایشن کا آرڈر کالعدم قرار دیتے ہوئے پائلٹ سید ثقلین اختر کی لائسنس منسوخی کا 14 جولائی کا آرڈر بھی منسوخ کردیا پائلٹ کی ملازمت سے برطرفی اور لائسنس منسوخی کے خلاف درخواست پر سماعت کے دوران وفاق کی جانب سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق کھوکھر عدالت میں پیش ہوئے عدالت نے استفسار کیاکہ ڈی جی سول ایوی ایشن کی تعیناتی ہوگئی ہے جس پرایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق کھوکھر نے ڈی جی سول ایوی ایشن کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن عدالت میں جمع کرادیا درخواست گزار وکیل نے کہاکہ ڈی جی سی اے اے کی تعیناتی اس عدالتی احکامات کیخلاف ہے چیف جسٹس نے کہاکہ یہ وفاقی حکومت کا کام ہے کہ جیسے چاہے ڈی جی کو تعینات کرے وفاقی حکومت کس کو کیسے ڈی جی تعینات کرے یہ قانوناً واضح نہیں عدالت میں خواجہ آصف کیس کا بھی حوالہ دیتے ہوئے درخواست گزار وکیل نے کہا کہ عدالت درخواست گزار پائلٹ کے لائسنس معطلی کو غیر قانونی قرار دے جس پر عدالت نے کہاکہ پائلٹ لائسنس معطلی یا بحالی کا فیصلہ کون کرے گا عدالت نے درخواست گزار وکیل سے کہاکہ جلد بازی نہ کریں کیا آپ جلدی میں ہے  درخواست گزار وکیل نے کہاکہ دو بار شوکاز نوٹس جاری ہوا جس پر ہم نے جواب جمع کرایا سیکرٹری سول ایوی ایشن کے نگرانی میں بورڈ آف انکوائری کمیشن بنایا گیا عدالت نے کہاکہ بورڈ آف انکوائری کس قانون کے تحت بنی اور کون لوگ اس میں شامل تھے؟یہ سارا مسئلہ اس بورڈ آف انکوائری سے شروع ہوا،بورڈ آف انکوائری کی رپورٹ کہاں ہیں؟وکیل نے کہاکہ بورڈ آف انکوائری کی رپورٹ کبھی ملی نہیں،عدالت نے کہاکہ قانون میں کہاں لکھا ہے کہ وفاقی حکومت عارضی طور پر کسی کو ڈی جی یا سیکرٹری لگا سکتے ہے،لاہور ہائیکورٹ نے سیکرٹری کو شوکاز نوٹس جاری کرنے کا حکم نہیں دیاسیکرٹری سول ایوی ایشن نے خود کو ڈی جی سمجھ کر شوکاز نوٹس جاری کی عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسارکیاکہ بورڈ آف انکوائری کس قانون کے تحت سیکرٹری سی اے اے نے اپوائنٹ کی؟بادشاہت نہیں تھی سیکرٹری نے کیسے اس مسلے کو پروسیڈ کیا؟ا  بورڈ چیئرمین کے پاس ایگزیکٹو اختیار نہیں تو وہ کیا کریں گے؟سیکرٹری سول ایوی ایشن ڈائرکٹ ڈی جی سول ایوی ایشن نہیں ہوسکتا  ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق کھوکھر نے کہاکہ یہی تو وہ مسئلہ تھا جو بنا تھا اور ابھی حل ہوگیاہے چیف جسٹس نے کہاکہ قانوناً سیکرٹری سول ایوی ایشن ڈی جی آفس کو چیئر نہیں کر سکتا عدالت نے سول ایوی ایشن وکیل سے استفسارکیاکہ کیا 262 پائلٹس کے نام بورڈ آف انکوائری نے دئیے؟کیا یہ ملک قانون کے تحت چلتا ہے یا کسی ایک شخص کی خواہشات پر؟آپ کو اس مسلے کی نوعیت کا نہیں پتہ، کیا آپ کو نئے ڈی جی نے اس طرح دلائل دینے کا کہا؟کیا سپریم کورٹ نے سیکرٹری سول ایوی ایشن کو انکوائری کا کہا ہے؟کیا سپریم کورٹ نے سیکرٹری سول ایوی ایشن کو اختیارات کا غلط استعمال کا کہا ہے؟سی اے اے کے وکیل کی طرف سے سپریم کورٹ فیصلہ کا حوالہ دینے پرعدالت نے برہمی کا اظہار کیا سول ایوی ایشن اتھارٹی کے وکیل نے کہاکہ انٹرنل انکوائری کے فیکٹ فائنڈنگ کے بعد 28 پائلٹس سامنے آگئے اب یہ بھی کلیئر ہوا کہ وہ 262 تعدادہی غلط تھا اسکا کون ذمہ دار ہوگا؟ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہاکہ نیا ڈی جی سول ایوی ایشن ہی اس معاملے کو اب دیکھیں گے، درخواست گزار وکیل نے کہاکہ پائلٹ لائسنس معطلی غیر قانونی تھا،عدالت نے کہاکہ اس معاملے کو واپس سول ایوی ایشن اتھارٹی کو بھجوا دیتے ہیں کیا سپریم کورٹ نے سیکرٹری سول ایوی ایشن کو ڈی جی کے اختیارات استعمال کرنے کا کہا ہے؟ عدالت نے ایوی ایشن وکیل سے کہاکہ دوسروں کو چھوڑیں پہلے آپ اپنا کنڈکٹ کلئیر کریں جس طرح پائلٹس لائسنس کے معاملے کو ہینڈل کیا گیا بہت مایوس کن ہے،نیشنل ائیر لائن کی سروس کو معطل ہے بیرون ممالک میں موجود ہمارے پائلٹ متاثر ہوئے، وکیل ذیشان ہاشمی نے کہاکہ پائلٹس کو سول ایوی ایشن اتھارٹی نے جنوری 2019 کو شوکاز نوٹس جاری کیا گیا،شوکاز نوٹس ایڈیشنل ڈائریکٹر لائسنسنگ اتھارٹی نے جاری کیا، سیکرٹری ایوی ایشن نے بورڈ آف انکوائری کی تشکیل کی، عدالت نے استفسارکیاکہ کیا اس بورڈ آف انکوائری کی وجہ سے یہ سارا معاملہ شروع ہوا ہے؟قانون میں کہاں لکھا ہے کہ وفاقی حکومت ڈی جی کا اضافی چارج دے سکتی ہے، سیکرٹری نے اپنے آپ کو ڈی جی سمجھ کر شوکاز نوٹس جاری کردیا،سیکرٹری کی تعیناتی بطور ڈی جی اضافی چارج قانون کے خلاف ہے بورڈ آف انکوائری کس قانون کے تحت سیکرٹری نے تشکیل دی تھی یڈیشنل اٹارنی جنرل طارق کھوکھر نے کہا کہ اگر عدالت کچھ وقت دے دے تو میں ہدایات لیکر عدالتی معاونت کر سکتا ہوں،عدالت نے کہاکہ سیکرٹری کے اس طرح کے فیصلے سے نیشنل ائیر لائن پر برے اثرات پڑے،فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے مذکورہ بالا اقدامات کے ساتھ22 فروری کی بورڈ آف انکوائری کا آرڈر بھی کالعدم قرار دے دیااور کہاکہ پائلٹ سید ثقلین اختر کا معاملہ نیا ڈی جی سول ایوی ایشن دیکھے گا،جب تک پائلٹ کا لائسنس کلئیر نہیں ہوتا یہ ہوائی جہاز نہیں چلا سکے گا،عدالت پی آئی اے کو نوکری پر بحالی سے متعلق ابھی کوئی ہدایت نہیں دے گی،سول ایوی ایشن اتھارٹی کو یہ معاملہ بھیج رہے ہیں نیا ڈائریکٹر جنرل اس کو دیکھے گااور عدالت اس کو سراہتی ہے کہ حکومت نے نئے ڈی جی کی تعیناتی کی ہے۔
کالعدم قرار