دستور میرے ساتھ، میں پراعتماد، اپوزیشن کو بیرون ملک سے سپورٹ حاصل، عدم استحکام پید ا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے؛ عمران خان 

    دستور میرے ساتھ، میں پراعتماد، اپوزیشن کو بیرون ملک سے سپورٹ حاصل، عدم ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ   اپوزیشن  کو بیرون ملک سے  سپورٹ حاصل ہے،  پاکستان کے اندر    جو کچھ بھی  ہو رہا ہے اسکے پیچھے  بھی کوئی سورس ہے،ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، وزیر اعظم نے اعتراف کیا  آئی ایم ایف میں جانے میں تاخیر اور  اداروں کی اصلا حات کا عمل  شروع نہ کرنا   حکومت کی  غلطی تھی،  حکومت این آراواورکرپشن کے علاوہ حکومت اپوزیشن سے  ہرموضوع  پر بات کرنے کوتیارہے،لاہورجلسے کی اجازت نہیں دی،لیکن روکیں گے بھی نہیں، اپوزیشن پراعتماد ہے تو میں بھی پراعتماد ہوں، اپوزیشن نے استعفے د ئیے توالیکشن کرادوں گا،مجھے فوج کی جانب سے ہر پالیسی پر مکمل حمایت حاصل رہی ہے، کورونا کو  عوام کی مدد کے بغیر  شکست نہیں دی  جا سکتی۔مکمل لاک ڈاون   پاکستان   جیسے ملک کے لیے تباہی   ہو گا ۔    ان خیالات کا اظہار انہوں نے    کالم نگاروں اور اخبارات کے ایڈیٹرز سے ملاقات   میں کیا۔ وزیر اعظم نے کہا این آراواورکرپشن کے علاوہ حکومت اپوزیشن سے  ہرموضوع  پر بات کرنے کوتیارہے۔کوروناکوعام آدمی اوراپوزیشن سنجیدہ نہیں لے رہے۔لاہورجلسے کی اجازت نہیں دی،لیکن روکیں گے بھی نہیں۔عمران خان نے کہا  نیب کوآج ختم کردیں، اپوزیشن اسمبلیوں میں آکربیٹھ جائیگی۔معاشی طورپراب ہم سیدھے رستے پرچل پڑے ہیں۔وزیراعظم نے کہا  کرپٹ پولیٹیکل ایلیٹ نظام نہیں چلنے دی رہی، لیکن یہ نظام چلے گا۔ ہمیں پتاہے کہ مشکل وقت ہے،لیکن مجھے یہ بھی پتاہے کہ جیت میری ہوگی۔اپوزیشن انتشار پھیلانا چاہتی ہے،اپوزیشن چاہتی ہے کہ ہم طاقت کا استعمال کریں،حکومت طاقت کا استعمال نہیں  کریگی۔ اپوزیشن  والے ہمیں الجھاناچاہتے ہیں، حکومت کی رٹ کمزورنہیں ہے۔عدالت کے فیصلے کااحترام کریں گے۔عمران خان نے کہا اگر اپوزیشن پراعتماد ہے تو میں بھی پراعتماد ہوں،      اپوزیشن نے استعفے د ئیے توالیکشن کرادوں گا، ہوسکتاہے کچھ ملک اپوزیشن کے پیچھے ہوں،مجھے پتہ ہے اپوزیشن  کو بیرون ملک سے بھی سپورٹ حاصل ہے۔کچھ ملک ایسے ہیں جو پاکستان کو ترقی کرتا ہوا نہیں دیکھنا چاہتے۔ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت مسلم ممالک کو غیر مستحکم کیا گیا،اور پاکستان میں بھی یہ سازش ہورہی ہے۔ عراق میں جو کچھ ہوا وہ بھی اسی وجہ سے ہو۔ عراق  اور ایران کو آپس میں لڑا کر دونوں ملکوں کو توڑنے کی کوشش کی گئی۔ سعودی عرب اور  ایران کے درمیان کشیدگی پیدا کرکے  دونوں ملکوں کو کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔اس   سارے عمل کے کے پیچھے  ایک پورا   پلان  موجود ہے۔ پاکستان کے اندر بھی  جو کچھ ہو رہا ہے اسکے پیچھے  بھی کوئی سورس ہے۔ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔عمران خان نے کہا  سینیٹ الیکشن کے بعد بلدیاتی الیکشن کروائیں گے۔انہوں نے کہا  مسلم لیگ ن کے 40رہنماایسے ہیں جنہوں نے سرکاری زمینوں پر قبضے کررکھے ہیں۔میں چاہتا ہوں اسمبلی میں سوالات کا جواب دوں لیکن مجھے بات بھی نہیں کرنے دی جاتی۔  مجھے فوج کی جانب سے ہر پالیسی پر مکمل حمایت حاصل رہی ہے۔ بنڈل آئی لینڈ وفاقی حکومت کی زمین ہے۔وزیر اعظم نے کہا  کورونا وائرس خطرناک ہوتا جارہا ہے،کوئی نہیں کہہ سکتا کہ مزید کیا تباہی پھیلائے گا۔ کورونا کو  عوام کی مدد کے بغیر  شکست نہیں دی  جا سکتی۔مکمل لاک ڈاون   پاکستان   جیسے ملک کے لیے تباہی   ہو گا ۔   وزیر اعظم نے کہا  تعمیراتی   شعبے میں بڑی تیزی سے   کام ہو رہا ہے   اس سے  پاکستان کی معیشت کو بہت مدد مل رہی ہے۔ وزیر اعظم  نے اعتراف کیا کہ فوری  طور پر  حکومت  سنبھالنے کے بعد آئی ایم ایف کے پاس نہ جانا  ہماری  سب سے بڑی  غلطی تھی۔دوسری  بڑی  غلطی اداروں کی اصلا حات کا عمل  شروع نہ کرنا تھا۔ اس  قسم کے مالی خسارے  میں  آ ئی  ایم  ایف کے پاس فوری جا نا چاہیے تھا۔ وزیراعظم  عمران خان نے کہا  ہے کہ منگلا اورتربیلا کے 5 عشروں بعد پاکستان کومہمند اوربھاشا کی صورت میں 2 بڑے ذخائرِآب(ڈیمز)میسر آئیں گے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں وزیراعظم عمران خان نے  مہمند ڈیم پرجاری تعمیراتی کام کے حوالے سے ویڈیو شیئرکی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ منگلا اورتربیلا کے 5 عشروں بعد پاکستان کو مہمند اور بھاشا کی صورت میں 2 بڑے ذخائرِ آب (ڈیمز)میسر آئیں گے۔ وزیراعظم آفس کے مطابق خیبرپختونخوامیں دریائے سوات پرواقع مہمند ڈیم کا تعمیراتی کام تیزی سے جاری ہے، تعمیرمکمل ہونے کے بعد مہمند ڈیم 800 میگا واٹ بجلی پیدا کرسکے گا، ڈیم کی تعمیرسے 16 ہزارایکڑ زرعی اراضی کو بھی سیراب کیا جاسکے گا۔وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان بحیثیت بانی رکن سارک تنظیم کوبہت زیادہ اہمیت دیتا ہے، کورونا وبا سے لڑنے کیلئے سارک ممالک کا مشترکہ تعاون ناگزیر ہے، سارک چارٹر کا مقصد جنوبی ایشیا میں تعاون اور سماجی و اقتصادی ترقی کا فروغ تھا،سارک تنظیم دنیا کی آبادی کے پانچویں حصے کی امنگوں کی ترجمان ہے، رکن ممالک کی علاقائی سالمیت اور باہمی احترام سے ہی تنظیم اور خطہ ترقی کرے گا۔   منگل کو سارک کے 36ویں یوم تاسیس پر اپنے خصوصی پیغام وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستانی حکومت اور عوام کی جانب سے سارک رکن ممالک کو مبار کباد پیش کرتا ہوں۔وزیراعظم نے کہا کہ سارک چارٹر کا مقصد جنوبی ایشیا میں تعاون اور سماجی و اقتصادی ترقی کا فروغ تھا۔ سارک تنظیم دنیا کی آبادی کے پانچویں حصے کی امنگوں کی ترجمان ہے۔انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی وبا کا دور یاد دلاتا ہے کہ مشترکہ مقاصد کیلئے مشترکہ تعاون ناگزیر ہے۔ وبائی دور میں خطے میں انسدادغربت کی مشترکہ جدوجہد کی شدت سے ضرورت ہے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان، سارک چارٹر کے اغراض ومقاصد کے حصول اور کامیابی کیلئے پرعزم ہے۔ رکن ممالک کی علاقائی سالمیت اور باہمی احترام سے ہی تنظیم اور خطہ ترقی کریں گے
عمران خان

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)وزیراعظم عمران خان نے فرانس سے تعلقات ختم کرنے کے معاملے پر مسلم امہ سے مشاورت کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلے میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو اسلامی ممالک سے رابطوں کا ٹاسک سونپ دیا ہے۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) ممالک سے رابطوں کے بعد وفاقی کابینہ کو آگاہ کریں گے۔ وزیر اعظم عمران خان کی صدارت مین ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کابینہ نے  چیئرمین کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) اور ایم ڈی ہاؤس بلڈنگ فنانس کارپوریشن کی تعیناتی کی منظوری بھی دی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے  وزیر اعظم عمران نے کابینہ اراکین کو ہدایت کی ہے کہ عوام کو بتایا جائے اپوزیشن کے جلسوں سے کورونا پھیل رہا ہے،جلسے روکیں گے نہیں، اپوزیشن کوعوام کے سامنے ایکسپوز ہونے دیں وزیر اعظم نے کہاکہ اپوزیشن عوام کی جانوں سے کھیل رہی ہے، عوام کو بتایا جائے ان کے جلسوں سے کورونا پھیل رہا ہے۔ وزیر اعظم نے کہاکہ اپوزیشن غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کررہی ہیوزیراعظم عمران خان  کی زیرصدارت  منگل کو وفاقی کابینہ  کے  اجلاس  میں  کورونا وباء کی دوسری لہر،  13 دسمبر کو اپوزیشن کے لاہور میں جلسہ،فرانس سے تعلقات سمیت مختلف قومی امور پر غور  آئے جبکہ  فرانس کے ساتھ تعلقات کے معاملے پر عدالتی پٹیشن پر کابینہ اجلاس میں بات چیت کی گئی۔ کابینہ نے  وزیر خارجہ  شاہ محمود قریشی کو دوبارہ رابطوں کا ٹاسک   دیدیاہے۔کابینہ نے او آئی آئی میں اسلامو فوبیا پر قرار کی منظوری کو پاکستان کی کامیابی قرار دیدیا۔ اجلاس میں  کابینہ ارکان کا کہناتھاکہ   او آئی سی میں مسئلہ  کشمیر اور اسلامو فوبیا پر قرارداد وزیراعظم عمران خان کی کامیاب خارجہ پالیسی کا مظہر ہے۔وزیراعظم  عمران خان نے  توقع سے زیادہ امت مسلمہ کی ترجمانی کی ۔۔وزیر اعظم کے مشیر برائے اوورسیز پاکستانیز  زلفی بخاری نے کابینہ کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ  پاکستان کا مستقبل سیاحتی ترقی سے جڑا ہے۔پی ٹی ڈی سی میں اعلیٰ تربیت یافتہ لوگوں کی ضرورت ہے۔ذرائع کے مطابق  ایم کیو ایم کے    رکن امین الحق نے ایم کیو ایم کے رکن کی موت اور ٹرانسفارمیشن کمیٹی اجلاس میں نہ بلانے پر تحفظات اٹھائے۔وزیر اعظم عمران خان نے ایم کیو ایم کے تحفظات کو جائز قرار دیا اور ہدایت کی کہ،آئندہ ایم کیو ایم کو متعلقہ فورم میں ضرور بلایا جائے۔ اجلاس کے بعد بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ عدالت سے بھاگے ہوئے مجرم کی بیٹی ہمیں دھمکیاں دے رہی ہے،اپوزیشن والے ہوتے کون ہیں جو کہیں کہ حکومت کو گھر جانا چاہیے ہم اس وقت حکومت کو بچانے کی نہیں ملک کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں، کورونا کے باعث ہسپتالوں پر بوجھ پڑرہا ہے،اگر ہم نے ڈسپلن کا مظاہرہ نہ کیا تو حکومت کو سخت اقدامات اٹھانا پڑیں گے،سخت اقدامات سے معیشت پر برے اثرات مرتب ہوں گے،ہمیں ایس او پیز پر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہوگا وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے امور نوجوانان عثمان ڈار کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے  شبلی فراز نے کہا کہ پشاور واقعے کے بعد صوبوں کو آکسیجن گیس کے حوالے سے ہدایات دی گئی ہیں کہ اپنا ذخیرہ رکھیں تاکہ کمی کی صورت پر اس کو فراہم کیا جائے گا۔انہوں نے کہاکہ یہ اقدامات کسی حد تک کیسز کو کنٹرول کر سکتے ہیں، اگر اجتماعی غیر ذمہ داری کا ثبوت ہوتو پھر 22 کروڑ کے عوام میں ایک فیصد بھی متاثر ہوں تو زیادہ نقصان ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ عوام سے سنجیدہ طریقے سے درخواست ہے کہ اس کو آسان نہ لیں اور جتنی بھی احتیاطی تدابیر پر عمل اور بنیادی طور پر ماسک پہننا لازمی ہے۔ انہوں نے کہاکہ کورونا کے باعث ہسپتالوں پر بوجھ پڑرہا ہے،اگر ہم نے ڈسپلن کا مظاہرہ نہ کیا تو حکومت کو سخت اقدامات اٹھانا پڑیں گے۔ انہوں نے کہاکہ سخت اقدامات سے معیشت پر برے اثرات مرتب ہوں گے،ہمیں ایس او پیز پر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن چیزوں کو اپنی مرضی کے مطابق دیکھنا چاہتی ہے، وہ دیکھتی ہے کہ مولانا فضل الرحمن ہار جائیں تو وہ انتخاب دھاندلی زدہ تھا اور ان کا بیٹا جیت جائے تو وہ ٹھیک تھا، شاہد خاقان عباسی اپنے حلقے میں ہار جائے تو دھاندلی جبکہ دوسری جگہ سے جیت جائے تو وہ ٹھیک تھا۔۔ انہوں نے کہاکہ مولانا فضل الرحمان نے اسلام اور کشمیر کاز کی کیا خدمت کی ہے؟ مولانا فضل الرحمن کئی سال کشمیر کمیٹی کے چیئر مین رہے ہیں انہوں نے کشمیر کے لئے کیا کیا ہے؟ وزیراعظم نے کشمیر کے حوالے سے مدلل حکمت عملی اختیار کی،وزیر اعظم عمران خانے عالمی سطح کشمیرکا معاملہ اٹھایا اور اسلام فوبیا کو عالمی سطح پر اجاگر کیا ہے۔ معاون خصوصی عثمان ڈار نے بتایاکہ  وزیراعظم عمران خان (آج) بدھ کو سیالکوٹ کا دورہ کر رہے ہیں،وزیراعظم  17 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبوں  کا اعلان کریں گے۔عثمان ڈار نے کہاکہ کلین گرین پاکستان منصوبے کے تحت 5 نئے پارکس قائم کئے جائیں گے،پہلے مرحلے میں 4 لاکھ شہریوں کو پینے کا صاف پانی مہیا کیا جائے گا۔انہوں نے کہاکہ ٹریفک مسائل  کے حل کیلئے ٹریفک ری انجینئرنگ منصوبہ شروع ہوگا انہوں نے کہاکہ خواجہ آصف میں اگر اخلاقی جرات ہے تو استعفیٰ دیں اور مقابلہ کریں،اپوزیشن ملکی معیشت کو غیر مستحکم کرنے کیلئے جلسے کر رہی ہے۔
شبلی فراز

مزید :

صفحہ اول -