حمزہ شہباز کی درخواست ضمانت پر سپریم کورٹ کا نیب کو نوٹس 

        حمزہ شہباز کی درخواست ضمانت پر سپریم کورٹ کا نیب کو نوٹس 

  

 اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) سپریم کورٹ نے حمزہ شہباز کی درخواست ضمانت پر نیب کو نوٹس  جاری کر تے ہوئے    سلمان شہبازسمیت شریک ملزمان کی عدم گرفتاری پر اظہار برہمی بھی کیا۔ جسٹس یحیی آفریدی نے ر یمارکس دیے کہ میرٹ پر ضمانت نہ مانگیں یہ پہاڑ سر کرنے والی بات ہوگی۔ جسٹس مشیر عالم نے کہا حمزہ شہباز سے منصوب اکاونٹس کا جائزہ لیا تو مشکل ہو جائے گی، بہتر ہوگا عدالت سے میرٹ پر کوئی آبزرویشن نہ لیں۔ سپریم کورٹ نے احتساب عدالت لاہورمیں حمزہ شہباز کیخلاف نیب مقدمات کی تفصیل طلب کرلی ہیں۔ عدالت نے استفسار کیا کہ ٹرائل کورٹ میں اب تک کتنے مقدمات زیر التوا ہیں؟ بتایا جائے ٹرائل کورٹ میں حمزہ شہبازکے کیس کا کیا نمبر ہے اور ٹرائل کورٹ میں اس کا نمبر کب آئے؟۔جسٹس یحیی آفریدی نے کہا ٹرائل کورٹ میں کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہ ہو۔ سپریم کورٹ حکم دے چکی ہے کہ نیب مقدمات کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر ہوگی۔ عدالت نے سلمان شہباز سمیت دیگر شریک ملزمان کی عدم گرفتاری پر بھی اظہار برہمی کیا۔ سپریم کورٹ نے سلمان شہباز سمیت تمام مفرور ملزمان کی جائیداد ضبطگی کی تفصیلات طلب کر لی ہیں۔ سپریم کورٹ نے استفسار کیا بتایا جائے مفرور ملزمان کی جائیداد تاحال ضبط کیوں نہیں کی گئی؟ عدالت نے جائیداد ضبطگی کی کارروائی میں تاخیر پر بھی نیب سے جواب مانگ لیا ہے۔جسٹس یحیی آفریدی نے وکیل نیب سے استفسار کیا کہ نیب کو گواہان کے بیانات ریکارڈ کرنے کے لیے کتنا وقت درکار ہے؟۔ایڈیشنل پراسیکیوٹر نیب عمران الحق نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ نیب 6 ماہ میں تمام گواہوں کے بیانات ریکارڈ کر لے گا۔ جسٹس مشیر عالم نے پوچھا کہ گواہوں کے بیانات میں اتنا وقت کیوں لگ رہا ہے؟ مقدمے کے دیگر ملزمان کو گرفتار کیوں نہیں کیا گیا؟۔جسٹس طارق مسعود نے کہا نیب کا یہی تو کام ہے ایک کو گرفتار کر کے باقیوں کو کھلا چھوڑ دیتے ہیں۔ آپ نے ملزم کو 2019 میں گرفتار کیاجائیدادیں ضبط کیوں نہیں ہو سکیں؟۔جسٹس یحیی آفریدی نے ہدایت کی کہ نیب کے تمام زیر التوا کیسز کی تفصیل عدالت میں جمع کرائیں۔ سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی ہے۔

سپریم کورٹ

 لاہور(نامہ نگار)احتساب عدالت نے منی لانڈرنگ ریفرنس میں میاں شہبازشریف کی اہلیہ نصرت شہباز کو عدالت میں پیش نہ ہونے پر اشتہاری قرار دے دیا ہے، عدالت نے ملزمان کے وکلا ء کو نیب کے گواہوں پر جرح کیلئے دوبارہ طلب کرتے ہوئے مزید سماعت12دسمبر تک ملتوی کردی،گزشتہ روز دوران سماعت میاں شہباز شریف نے عدالت میں ایک بار پھر اپنی خدمات کاذکرکیا،احتساب عدالت کے جج جواد الحسن نے کیس کی سماعت شروع کی تو منی لانڈرنگ ریفرنس میں شہباز شریف اورحمزہ شہباز سمیت دیگر کوجیل حکام نے عدالت میں پیش کیا،عدالت کو بتایا گیا کہ امجد پرویز اور ان کے جونیئرز سپریم کورٹ اسلام آباد میں مصروف ہیں، فاضل جج نے کہا کہ پھر ملزم جرح کریں، شریک ملزموں کے وکیل نے کہا کہ مرکزی ملزم کی جرح ہو گی تو باقی ملزموں کے وکیل جرح کریں گے، فاضل جج نے کہا کہ ملزم خود جرح کریں ورنہ جرح کا حق آج ختم کر دوں گا، 12 بجے تک کا وقت دے رہا ہوں، گواہوں پر جرح آج ہی ہو گی، 30 منٹ کے وقفے کے بعد کیس کی دوبارہ سماعت شروع ہوئی توفاضل جج نے استفسار کیا امجد پرویز ایڈووکیٹ کے ساتھی وکیل محمد نواز کہاں ہیں، جس پر جونئیر وکیل نے عدالت کو بتایا کہ محمد نواز چودھری ایڈووکیٹ بھی امجد پرویز کی معاونت کے لئے سپریم کورٹ گئے ہیں، فاضل جج نے کہا کہ یہ روایتی انداز میں کارروائی چلنا شروع ہو گئی ہے، میرے 80 فیصد مقدمات آخری مراحل میں پہنچ چکے ہیں، اگر میں 2 سے 3 ماہ اور یہاں رک گیا تو تمام کیسز نمٹا دوں گا، دوران سماعت عدالت نے ملزمان کے وکیل کے پیش نہ ہونے پر فاضل جج نے ریمارکس دیئے کہ ایسے تو یہ کیس کبھی نہیں چلے گا،جرح کے لئے آخری موقع دے رہا ہوں،فاضل جج نے کہا کہ بار بار طلبی کے نوٹس بھجوانے اور 30 روز کی مہلت دینے کے باوجود نصرت شہباز پیش نہیں ہوئیں  دوران سماعت شہباز شریف نے عدالت میں کہا کہ عدالتی حکم کے باوجود مجھے فزیوٹھراپسٹ نہیں دیا گیا، مجھے جیل میں طبی سہولیات بھی فراہم نہیں کی جا رہیں، جس پر عدالت نے جیل سپرنٹندنٹ کو آئندہ سماعت پر طلب کر لیاہے، میاں شہباز شریف نے مزید کہا کہ وہ 7بار ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوئے تاہم تنخواہ یا ٹی اے ڈی اے نہیں وصول نہیں کیا،1988ء سے اللہ کے فضل اور آپ کی دعاؤں سے انتخاب جیتتا رہا ہوں، پنجاب ہی عوام کی دل سے خدمت کی،ان کے خلاف جھوٹے مقدمات بنائے گئے،انہوں نے کرپشن نہیں کی،قیامت تک ثابت ہوجائے کہ میں نے کرپشن کی ہے تو سزا وار ہوں،میرے مخالفین نے سیاسی مقدمات بنائے جس پر فاضل جج نے میاں شہبا زشریف کو مخاطب کرکے کہا کہ آپ ایسی باتیں کر کے اپنا کیس اوپن نہ کریں، فوجداری ٹرائل کی کچھ قواعد ہوتے ہیں اس لئے ایسی باتیں نہ کریں، فاضل جج نے مزید کہا کہ میاں صاحب اپنا کیس ڈس کلوز نہ کریں یہ کام اپنے ترجمان کو کرنے دیں  عدالت نے مذکورہ بالااحکامات کے ساتھ کیس کی مزید سماعت آئندہ تاریخ پیشی تک ملتوی کردی  علاوہ ازیں عدالت میں شہبازشریف نے نواز شریف اور سلمان شہباز نے ٹیلی فون پر گفتگو کی اور سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جبکہ شہباز شریف نے کیسز کے متعلق بھی نواز شریف کو آگاہ کیا اس کیس میں عدالت کی جانب سے میاں شہباز شریف کی اہلیہ نصرت شہباز، بیٹی رابعہ عمران، سلمان شہباز، ہارون یوسف اشتہاری قرار دیئے جا چکے ہیں،ملزم طاہر نقوی اور علی احمد خان کو بھی اشتہاری قرار دیا جا چکا ہے،اس کیس میں ثار احمد،علی احمد خان،سید محمد طاہر نقوی،قاسم قیوم،راشد کرامت،مسرور انور،محمد عثمان فضل داد عباسی،محمد شعیب قمر،ہارون یوسف زئی بھی نامزد ملزموں میں شامل ہیں، ریفرنس میں یاسر مشتاق،محمد مشتاق،شاہد رفیق اور آفتاب احمد وعدہ معاف گواہوں میں شامل ہیں،اس موقع پر شہباز شریف کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ایم پی اے رابعہ فاروقی،مائزہ حمید،شمائلہ رانا ملک احمد خاں سمیت دیگر موجود تھے۔

اشتہاری قرار

مزید :

صفحہ اول -