امریکی ریاست جارجیا میں سینیٹ کی دو سیٹوں کیلئے 5جنوری کورن آف الیکشن 

  امریکی ریاست جارجیا میں سینیٹ کی دو سیٹوں کیلئے 5جنوری کورن آف الیکشن 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 واشنگٹن (اظہر زمان، بیورو چیف) امریکی ریاست جارجیا کے مخصوص قانون کی وجہ سے اس ریاست میں وفاقی سینیٹ کی دونوں سیٹوں کا 3 نومبر کے انتخاب کے بعد 5 جنوری کو دوبارہ ”رن آف“ الیکشن ہو گا جس کے بعد فیصلہ ہو گا کہ سو ارکان پر مشتمل سینیٹ میں ری پبلکن اور ڈیمو کریٹک پارٹیوں میں سے کس کو اکثریت حاصل ہو گی امریکہ میں ایوان بالا یا سینیٹ کو صدر سے زیادہ ملکی خزانے پر کنٹرول حاصل ہوتا ہے اس لئے سینیٹ میں برتری حاصل کرنے کیلئے جارجیا کی دونوں سینیٹ کی سیٹوں کا انتخاب قومی اہمیت کا حامل ہو گیا ہے امریکہ کی باقی ریاستوں میں سینیٹ کی سیٹ جیتنے کیلئے امیدوار کو اکثریت حاصل کرنی پڑتی ہے لیکن صرف جارجیا میں یہ قانون نافذ ہے کہ کسی امیدوار کو جیتنے کیلئے کم از کم پچاس فیصد ووٹ حاصل کرنے ضروری ہیں اگر المیا نہ ہو تو سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے دو امیدواروں کے درمیان دوبارہ انتخاب ہوتا ہے جسے ”رن آف“ الیکشن کہتے ہیں جن میں برتری حاصل کرنے والا امیدوار کامیاب قرار دیا جاتا ہے جارجیا کی دونوں سینیٹ کی سیٹیں ری پبلکن پارٹی کے پاس ہیں اگر ڈیمو کریٹک پارٹی 5جنوری کو یہ دونوں سیٹیں جیت لیتی ہیں تو دونوں پارٹیوں کو پچاس پچاس سیٹیں مل جائیں گی اور نائب صدر کملا ہیرس بالحاظ عہدہ چیئرمین سینیٹ بھی ہوں گی اور نازک مرحلے پر وہ اپنا ووٹ ڈیمو کریٹک پارٹی کو دے کر انہیں ا کثریت دلا سکتی ہیں جارجیا میں سینیٹ کی ایک سیٹ پر ری پبلکن امیدوار ڈیوڈ پر ڈیو کو ڈیمو کریٹک امیدوار جان اوسوف اور دوسری سیٹ پر ری پبلکن امیدوار کیلی لوفلر کو ڈیمو کریٹک امیدوار رافیل وارنک چیلنج کر رہے ہیں 5جنوری کے ان انتخابات کی اہمیت کے پیش نظر صدر ٹرمپ ری پبلکن امیدواروں کو جتوانے کیلئے خصوصی دلچسپی لے رہے ہیں اس مقصد کیلئے انہوں نے صدارتی انتخابات میں اپنی شکست کے بعد پہلی مرتبہ جارجیا پہنچ کر ری پبلکن امیدواروں کے حق میں ایک بڑی ریلی میں خطاب کیا یاد رہے کہ جارجیا کی ریاست میں پہلی مرتبہ ایک ڈیمو کریٹک صدارتی امیدوار جوبائیڈن کو کامیابی حاصل ہوئی ہے جن کو اگرچہ بہت معمولی اکثریت ملی ہے اس بناء پر توقع کی رہی ہے کہ ڈیمو کریٹک امیدوار سینیٹ کی دونوں سیٹیں جیت لیں گے۔ جارجیا ریلی سے خطاب کرتے ہوئے صدارتی انتخابات کے نتائج کو تسلیم کرنے کا اپنا موقف برقرار رکھا اور وہ مسلسل دعویٰ کرتے رہے کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے اور دراصل انہوں نے یہ انتخاب جیت لیا ہے۔
رن آف الیکشن

مزید :

صفحہ اول -