اسسٹنٹ کمشنر کی رپورٹ ناکافی، کیاس سسٹم پٹواری چلا رہا ہے: ہائی کورٹ

      اسسٹنٹ کمشنر کی رپورٹ ناکافی، کیاس سسٹم پٹواری چلا رہا ہے: ہائی کورٹ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 ملتان (خصو صی رپورٹر) عدالت عالیہ ملتان بنچ نے آر پی او ملتان کی جانب سے اے سی سٹی کی رپورٹ کے باوجود پٹواری کی رپورٹ طلبی کے احکامات کو کالعدم قرار دیکر شہری کو اس کی جائیداد حوالے کرنے اور قبضہ کی کوشش کرنے والے ملزموں کیخلاف کارروائی کرنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ عدالت عالیہ نے اس موقع پر ریمارکس دیئے ہیں کہ یہ کس قدر افسوسناک بات ہے کہ اے سی سٹی نے شہری کی جائیداد(بقیہ نمبر1صفحہ 6پر)
 پر قبضہ کو جائز قرار دیدیا ہے۔ مگر اس رپورٹ کو ناکافی تصور کیا گیا ہے جو دراصل پورے سسٹم کی ناکامی کی طرف اشارہ ہے۔ ایک پٹواری اس سسٹم میں اس قدر اہم ہے کہ اسسٹنٹ کمشنر کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے پٹواری سے رپورٹ طلب کی جا رہی ہے۔ عدالت عالیہ نے ریمارکس دیئے کہ بخوبی اندازہ ہے کہ پٹواری کیا کیا کام کرتا ہے اور کس کس کے دعوت ولیمہ اور سالگرہ کی تقریبات کا محنت سے انتظام کرتا ہے۔ اس طرح ہی چلتا رہا تو نظام بے حد کمزور ہو جائے گا۔ اے سی دراصل پٹواری‘ قانونگو‘ تحصیلدار کا باس ہے مگر اس باس کی رپورٹ کے باوجود محض ایک پٹواری کی رپورٹ کو مانگا جا رہا ہے۔ کیوں نہ آر پی او کو آج بلا لیا جائے۔ اس پر عدالت عالیہ میں پیش ہونے والے لیگل انسپکٹر افتخار نے موقف اختیار کیا کہ آر پی او کسی تقریب میں شرکت کے لئے لاہور گئے ہوئے ہیں تاہم اسسٹنٹ کمشنر کی رپورٹ کو درست مان لیا گیا ہے اور اس جاری شدہ خط کو بھی واپس لیا جا رہا ہے۔ جس کے بعد عدالت عالیہ نے رٹ درخواست کو نمٹا دیا۔ عدالت عالیہ میں رٹ درخواست دائر کرتے ہوئے شہری محمد جمیل کی طرف سے قانون دان منظور حسین بھٹہ نے موقف اختیار کیا کہ اس نے 22 نمبر چونگی کے قریب 27 مرلہ پلاٹ خریدا جس پر عدالتی احکامات کے بعد اس نے دس دسمبر 2016 قبضہ بھی کر لیا۔ بعد میں ملزمان عاشق‘ نیاز نے باہم ملکر اس پلاٹ پر قبضہ کی غرض سے حملہ کیا جس پر پولیس تھانہ قطب پور نے مقدمہ بھی درج کر لیا۔ اب پولیس کیخلاف ملزموں نے عدالت سے رجوع کر لیا۔ آر پی او کے حکم پر اے سی سٹی نے رپورٹ مرتب کی جو سائل کے حق میں تھی۔ تاہم اب اس رپورٹ کو مسترد کر کے آر پی او ملتان نے پٹواری سے رپورٹ لینے کا کہہ دیا ہے۔ حالانکہ اے سی سٹی کی رپورٹ بھی حلقہ پٹواری سے ہی لی گئی ہے۔ عدالت عالیہ نے اس پر اے سی کی رپورٹ کو کافی قرار دیدیا اور درخواست نمٹا دی۔