سرائیکی کلچر ڈے منانے کیلئے تقریبات کی تیاریاں‘ شیڈول فائنل 

سرائیکی کلچر ڈے منانے کیلئے تقریبات کی تیاریاں‘ شیڈول فائنل 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


ملتان (سپیشل رپورٹر)سندھی کلچر ڈے کی طرح سرائیکی کلچر ڈے سرکاری سطح پر منایا جائے۔ وزیر اعلیٰ کی طرف سے سرائیکی شاعر شاکر شجاع آبادی کو بھیجے گئے گلدستے کا خیر مقدم کرتے ہیں مگر گلدستے سے زیادہ علاج کی ضرورت ہے۔ ان خیالات کااظہار سرائیکستان قومی کونسل کے صدر ظہور دھریجہ نے سرائیکی کلچر ڈے کے حوالے سے منعقد کئے گئے مشاورتی اجلاس (بقیہ نمبر18صفحہ 6پر)
کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سرائیکی رہنما حاجی رب نواز ملک،سرائیکی شاعر حافظ خدا بخش واقف ملتانی،حاجی غلام فرید کنیرا و دیگر موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہر سال 6مارچ کو سرائیکی کلچر ڈے منایا جاتا ہے لیکن تقریبات نئے سال کے آغاز سے ہی شروع ہو جاتی ہیں۔ پورے وسیب میں تقریبات منائی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ وسیب کی محرومی کے خاتمے اور وسیب کو تخت لاہور سے چھٹکارہ دلانے نعرے پر برسر اقتدار آنے والے تخت لاہور کو مزید مضبوط کر رہے ہیں اور مزید ترقی کے لئے لاہور کو اربوں روپے کا بجٹ دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شاکر شجاع آبادی کا بیرون ملک علاج کرایا جائے اور حاجی غلام فرید کنیرا کو علاج کیلئے مالی امداد دی جائے۔ ظہور دھریجہ نے کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان کے سینئر صحافی اور تاریخی کتاب ”سرائیکی تاریخ“ کے مصنف قیس مسیح دیروی کے قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب سے پانچ سو پاکستانی ڈی پورٹ ہو رہے ہیں۔ حکومت فوری توجہ کرے۔کھاد کی بوری میں 300روپے اضافہ کر دیا گیا ہے جو کہ تشویشناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی وی کے چیئرمین کی طرف سے بھاری پیکیج پررکھے گئے سفارشوں کی برطرفی کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ اسی طرح ہماری درخواست پر چولستان کے مسائل حل کرنے اور چولستان میں نیا ضلع بنانے کا فیصلہ بھی خوش آئند ہے۔اسی طرح اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کی طرف سے احمد پور شرقیہ کے طلبہ کیلئے بس سروس کے اجرا کی بھی خیر مقدم کرتے ہیں۔انہو ں نے کہا کہ پی ڈی ایم کے جلسے کے حوالے سے وزیر اعظم کا یہ کہنا غلط ہے کہ قانونی طور پر اجتماع پر پابندی ہے مگر روکیں گے نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قانون کو یہ بات دراصل آئین اور قانون کے خلاف ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ قانونی طور پر جلسے کی اجازت دیدی جائے تاکہ قانون کا مذاق بھی نہ ہو اور جمہوریت کا بھی بھرم رہ جائے۔
فائنل