پھر سے ایک بچے کی لاش ملی ہے

پھر سے ایک بچے کی لاش ملی ہے
 پھر سے ایک بچے کی لاش ملی ہے

  

 لاہور میں کمسن بچے کو بداخلاقی کے بعد قتل کرنے کا یہ دوسرا جبکہ پنجاب میں گزشتہ چند روز کے دوران کمسن بچوں کے ساتھ پیش آنے والا یہ افسوس ناک ساتواں واقعہ ہے۔ بچوں کے ساتھ جنسی بد اخلاقی ایک ایسا بھیانک فعل ہے جسے سن کر روح بھی کانپ اٹھتی ہے، اب اس ملک میں بچوں کی لاشیں ملنا بھی معمول بن گیا ہے،، کبھی کوڑے کے ڈھیر پر تو کبھی سڑک کنارے تو کبھی کسی نالے میں تو کبھی کسی پانی کی ٹینکی میں۔ ان لاشوں کی عمریں تین سے دس سال کے درمیان ہوتی ہیں ایک روز قبل لاہور کے نواحی علاقے گرین ٹاون میں ایک سات سالہ بچے احسان کو بدفعلی کے بعد چھریوں کے وار کر کے قتل کر دیا گیا،جس کے ملزم محلے دار ہی پائے گئے اسی طرح کا ایک واقعہ14نومبر کو  لاہور کے علاقہ باغبانپورہ میں بھی پیش آیاجہاں ایک سات سالہ بچی نبیلہ کومحلے دار ملزم نے بداخلاقی کے بعداس کی معصوم چیختی آوازوں کو دبانے کی خاطر اسے ہمیشہ کے لیے ابدی نیند سلادیا اور ملزم رات بھر دکان سے ننھے ہاتھوں میں چیزیں لیکر واپس نہ پہنچنے والی بچی کی تلاش میں وارثان کے ساتھ تلاش بھی کر تا رہا اور بالاآخرپکڑا گیا۔

بچوں سے بداخلاقی تشدد  اور قتل کے واقعات  ملک بھر میں پیش آرہے ہیں اور ہر روز بچوں کو اغوا کرنے اور پھر انہیں جنسی بداخلاقی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کرکے لاش کا غائب کردینا یا کسی پلاٹ میں پھینک دینا معمول کے واقعات ہیں۔ انتہائی دکھ اور افسوس کا مقام یہ ہے کہ اس کے باوجود ہمارے  ملک میں قانون نافذ کرنے والے ادارے شائداس لیے خاموش ہیں کہ یہ بچے شائد ان کے اپنے بچے نہیں ہیں معاشرے میں جب بھی کوئی جرم تیزی سے پنپ رہا ہوتا ہے تو اس جرم کے پھیلنے اور تیزی سے بڑھنے کے اسباب کی تلاش کرنا اور بروقت ان اسباب کا سد باب کرنا ہی ایک ترقی یافتہ قوم کا شیوہ ہوتا ہے۔ دیکھا جائے تو ہمارے معاشرے میں جنسی ہوس کی سب سے بڑی وجہ مادر پدر آزاد معاشرہ، جنسی ویڈیوز اور غلط صحبت اور جہالت ہے، ہمارے مشاہدے میں ہے کہ اس قسم کے جرائم کا ارتکاب کرنے والے اکثر مجرمان غیر تعلیم یافتہ ہی تھے جو ننھے اور معصوم بچوں کو بہلا پھسلا کر اپنے ساتھ لے جاتے ہیں، اگر والدین اپنے بچوں کی درست خطوط پر تربیت کریں اور کسی بھی فرد سے کوئی چھوٹا موٹا تحفہ یا چیز نہ لینے دیں  اپنے ارد گرد کڑی نظر رکھیں تو میرے خیال میں یہ ناممکن نہیں کہ بچے کسی بھی شخص کے بہلاوے میں آئیں۔

بچوں کی جدید اور درست انداز میں تربیت ہی اس قسم کے جرائم کی حوصلہ شکنی کر سکتی ہے۔ کچھ سنگ دل ان کے کپڑوں کو قصور وار ٹھہراتے ہیں تو کچھ والدین کو کوستے ہیں، جو اصل قصور وار ہے وہ اس 'بلیم گیم' کے دوران اگلے شکار کی طرف چل دیتا ہے۔ایسے واقعات صرف بچیوں تک محدود نہیں ہیں بلکہ چھوٹے لڑکے بھی ان کا شکار ہوتے ہیں۔ ہماری بدقسمتی ہے کہ ایسے ہر واقعے کے بعد ہمارا دل دہلتا ہے، خبریں بنتی ہیں، ہیش ٹیگ چلتے ہیں، حکومت بھی کچھ اقدامات کرتی ہے، اور پھر ویسا ہی ایک اور واقعہ ہو جاتا ہے اور ہم پھر اسی گول دائرے میں چلنے لگتے ہیں، معاملے کے حل کی طرف نہیں آتے۔اخلاقی، تشدد، بداخلاقی کیسز میں مسلسل اضافہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔

حکومت کو ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے قانون بنا کر سخت ترین سزا کا اجرا کرنا ہوگا۔ایسے واقعات صرف سخت ترین سزا سے روکے جا سکتے ہیں۔ عبرتناک طریقہ سے سرِ عام پھانسی، سرِ عام قتل کرنا جس کی ایک صورت ہو سکتی ہے۔ قطع نظر اس سے کہ معاشرے پر اس کے مضر اثرات مرتب ہوں گے۔ ہاں البتہ مثبت اثرات ضرور مرتب ہوں گے۔ یہ سزا وحشیانہ اس وقت لگتی ہے جب مجرم کی نفسیات سے دیکھا جائے۔ معاشرے کے حوالے سے نہیں۔ قانون کا خوف جرم کے سدباب کا واحد ذریعہ ہے۔ جب وہ فطری، اخلاقی احساس، تعلیم و تربیت اور سماج کے دباؤ سے ماورا ہو جائے۔ ان مراحل کے بعد بھی نہ رکے، تو وہ سخت سزا کا مستحق ہے۔یہ بات بجا ہے کہ ہمارے ہاں اس کی سزا سرِعام پھانسی دینا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب اپنے مفاد کا قانون بن سکتا ہے تو عوام کے مفاد، بچوں کی حفاظت کے اقدامات، مجرم کے لیے سخت سزا کا قانون کیوں نہیں بن سکتا؟

مزید :

رائے -کالم -