9 دسمبر1971 کا وہ واقعہ جب پاکستانی آبدوز کے حملے میں بھارتی بحریہ کے 18 افسران اور 176 سیلرز مارے گئے

9 دسمبر1971 کا وہ واقعہ جب پاکستانی آبدوز کے حملے میں بھارتی بحریہ کے 18 افسران ...
9 دسمبر1971 کا وہ واقعہ جب پاکستانی آبدوز کے حملے میں بھارتی بحریہ کے 18 افسران اور 176 سیلرز مارے گئے
سورس: Twitter/@PakistanNavy

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

کراچی(ویب ڈیسک) پاک بحریہ کی آب دوز ہنگور نے 1971ءپاک بھارت جنگ میں آج ہی کے روز (9 دسمبر) کو بھارتی آب دوز شکن بحری جہاز آئی این ایس ککری کو تارپیڈو حملے میں سمندر میں غرقاب جبکہ آئی این ایس کرپان کو نقصان سے دوچار کردیا تھا۔
ایکسپریس نیوز کی رپورٹ کے مطابق پاک بحریہ کے سن 65ءکی جنگ میں کامیاب مشن آپریشن ”دوارکا“ کا تسلسل سن 1971ءکی پاک بھارت جنگ میں بھی نمایاں رہا۔ 71ءکی جنگ میں پاکستانی سرفروشوں کے دشمن ملک کی افواج سے بیک وقت بری، فضائی اور بحری معرکے ہوئے۔
ان ہی غیرمعمولی حالات میں پاک بحریہ کی آب دوز ہنگور نے بھارتی بحریہ کے فریگیٹ آئی این ایس ککری کو تارپیڈو حملے میں غرقاب جبکہ دوسرے بھارتی بحری جہاز آئی این ایس کرپان کو بڑے نقصان سے دوچارکیا۔


جنگ عظیم دوم کے بعد یہ پہلا موقع تھا جب کسی آب دوز نے جنگی بحری جہاز کو غرقاب کیا، پاک بحریہ کے تباہ کن حملے میں بھارتی بحری جہاز ککری پر موجود 18 بھارتی افسران اور 176 سیلرز ہلاک ہو گئے تھے۔
9 دسمبر کو دشمن کو کاری ضرب لگانے کے بعد 13 دسمبر کو مشن کی تکمیل کے بعد وطن واپس لوٹی۔ بھارتی بحری جہاز ککری کا سمندر میں پاک بحریہ کے ہاتھوں غرقاب صرف ایک جنگی جہاز کی تباہی نہیں تھی بلکہ اس کے باعث بھارتی بحریہ کا مورال اورناپاک عزائم دونوں خاک میں مل گئے تھے۔
عظیم خدمات کے اعتراف میں انھیں 4 ستارہ جرأت، 6 تمغہ جرأت اور 14 امتیازی اسناد عطا کی گئیں جو پاک بحریہ کے کسی بھی یونٹ کو دیے جانے والے اعزازت کی سب سے بڑی تعداد ہے۔