شعبہ اردو: الحمد یونیورسٹی اسلام آباد کے زیراہتمام انٹر نیشنل اقبال کانفرنس

شعبہ اردو: الحمد یونیورسٹی اسلام آباد کے زیراہتمام انٹر نیشنل اقبال کانفرنس

  

ماہ نومبر میں ملک بھر میں اقبال ڈے کے حوالے سے کانفرنسیں ا ور سیمینار منعقد کرائے جارہے ہیں۔ گزشتہ دنوں الحمد اسلام یونیورسٹی ا سلام آبادمیں شعبہ اردو کے زیر اہتمام انٹرنیشنل اقبال کانفرنس کا انعقاد عمل میں لایا گیا۔جس مین ملک بھر سے بیرون ملک سے بھی اقبال شناسوں نے شرکت کی۔اس کی صدارت  ڈاکٹر فتح محمف ملک، جناب احسان اکبر اور جناب جلیل عالی نے کی۔ صدر شعبہ اردو جناب ڈاکٹر شیر علی نے نظامت کی اوراقبال کے حوالے سے منعقدہ کانفرنس کا تعارف پیش کیا۔ 

افتتاحی کلمات ادا کرتے ہوئے پریذیڈنٹ الحمد یونیورسٹی ڈاکٹر شکیل روشن نے اس کانفرنس مین سب شرکاء کو خوش آمدید کہتے ہوئے علامہ اقبال کے افکار پر روشنی ڈالی۔ 

ایران سے ڈاکٹر علی کاؤسی نژاد نے ”اقبال لاہوری“ کے حوالے سے اپنے معروضات پیش کرتے ہوئے کہا کہ اقبال کو ایران میں اقبال لاہوری کہا جاتا ہے۔اس حوالے فارسی میں سے کتاب بھی سامنے آچکی ہے۔ علامہ اقبال اپنے نظریات اور اسلامی مفکر ہونے کی وجہ سے ایرانی عوام میں جانے جاتے ہیں۔ ہم ایرانی اپنے تعلیمی اور تدریسی مراکز، لائبریریوں اوربڑی بڑی شاہراہوں کو اقبال سے منسوب کیے ہوئے ہیں۔بعض محققین کا خیال ہے کہ اقبال نے ایران انقلاب کی پیشین گوئی کی ہے۔ حتیٰ کہ ایران کے سپریم لیڈر آیۃ اللہ خامنہ ای نے اقبال کی شخصیت اور افکار پر گہری دلچسپی لیتے ہوئے ان کے حوالے سے ایک جامع تقریر کی جو کہ کتابی شکل میں شائع ہوکر سامنے آچکی ہے جس کا اردو ترجمہ ”اقبال مشرق کا بلند ستارہ“ کے نام سے اقبال اکیڈمی لاہور سے شائع ہوچکا ہے۔

ڈاکٹر اشرف کمال نے کہا کہ علامہ اقبال کام پیغام آفاقی نوعیت کا ہے جو صرف مسلمانوں تک ہی محدود نہیں بلکہ تمام انسانوں کیلئے ہے۔وہ بار بار اس بات کو سامنے لاتے ہیں کہ مادیت پرستی انسانی معاشرے کے لیے موت کی حیثیت رکھتی ہے اور روحانی حوالے سے تہی دامنی موجودہ دور کا ایک ایسا المیہ ہے جس پر جتنا بھی افسوس کیا جائے وہ کم ہے۔

تہران یونیورسٹی سے صدر شعبہ اردو ڈاکٹر علی بیات نے کہا کہ علامہ اقبال نے مولانا رومی کو اپنا پیرو مرشد مانا۔انھوں نے ایسے شخص کو پیرو مرشد منتخب کرنا مناسب سمجھا کہ وہ سمجھتے تھے کہ میں بھی عاشق رسول ہوں اور مولانا رومی بھی عاشق رسول ہیں۔ اقبال کی آبرو اور عزت اسلامی دنیا میں بہت زیادہ ہے۔

ڈاکٹر طارق ہاشمی نے کہا کہ علی کاؤسی نے ایران میں اقبال شناسی کے حوالے سے عمدہ بات کی۔ میرا خیال ہے کہ ہمیں اس حوالے سے ن م راشد کو نہیں بھولنا چاہئے جنھوں نے ایران میں اقبال کے حوالے سے دن منایا۔ 

ڈاکٹر نثار ترابی نے علامہ اقبال کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ”ذکر اقبال وفکر اقبال۔ لمحہ ئ فکریہ“کے عنوان سے فرمایا کہ حضرت انسان کیلئے بعض شخصیات بہت معتبر ہوتی ہیں۔ زندہ قومیں اپنے قائدین اور محسنوں کو یاد رکھتی ہیں۔

جناب ڈاکٹر تقی عابدی نے اقبالیات کے موضوعات کی و سعت کیا ہے۔ڈاکٹر شیر علی صاحب اور تمام اراکین اور یونیورسٹی کو مبارک باد پیش کر رہا ہوں کہ بڑی کامیاب کانفرنس ہے۔ آج کی دنیا مقامِ آدمی کو نہیں سمجھ رہی ہے۔علامہ اقبال ایک آفاقی شاعر ہیں۔ صدیوں پہلے امیر خسرو نے انسان کے بارے میں وہی بات کہی تھی جو سات سو سال بعد وہی بات انسان کی تکریم کے لیے اقبال نے کی۔

پروفیسر ڈاکٹر محمد عارف خان برطانیہ سے شامل ہوئے۔ انھوں نے کہا ہمیں جو اس وقت ضرورت ہے وہ تفہیم اقبال کی ضرورت ہے میں آج تفہیم اقبال میں تذکرہ کروں گا ڈاکٹر رفیع الدین کا۔تمام ماہرین اقبال نے تفہیم اقبال میں عمریں لگائیں۔

مہمان خصوصی پروفیسر ڈاکٹر سعادت سعید نے کہا ترکی میں جو پارلیمنٹ قائم کی ہے یہ نئے دور میں خلافت کو ریپلیس کر رہی ہے اور ترکوں نے جو جمہوریت کا تصور دیا ہے یہ اس خلافت کی ری پلیسمنٹ ہے الٹی میٹ ایم آف اسلام از سپرچوئل ڈیموکریسی۔ کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ روحانی جمہوریت کی کوئی معنویت نہیں ہے۔

مہمان خصوصی پروفیسر ڈاکٹر انوار احمد نے کہا کہ اقبال کے حوالے سے ہر ایک کے پاس کیا کیا چیزیں ہیں اگر ایسی محفل میں طالب علم بھی ہوں اور ان کے سوالات بھی ہوں تو زیادہ بہتر ہوگا۔ ایک تو یہ ہے کہ جہاں کہیں ہمیں باہر بھی جانے کا موقع ملا تو ایک خوشی ہوتی تھی کہ بے شک علامہ اقبال کی وفات پاکستان بننے سے پہلے ہوگئی لیکن انھیں پاکستان کا قومی شاعر کہا جاتا ہے۔ ممکن ہے کہ وہ خود افغانستان کا قومی شاعر بننا چاہتے ہوں یا ایران کا بننا چاہتے ہوں یہ پاکستانیوں کے لیے اعزاز ہے کہ وہ پاکستان کا قومی شاعر تھا۔

مہمان خصوصی پروفیسر رفیع الدین ہاشمی نے کہا اس کانفرنس کا جو اہتمام شیر علی صاحب نے کیا ہے یہ بڑا خوش آیند ہے اقبال کو یاد کرنا اور اس کی یاد میں کانفرنس کرنا۔ اس موسم میں کئی ادارے اس قسم کی کانفرنسوں کا انعقاد کر رہے ہیں۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ کانفرنس کر لینا اور وہاں تقریریں کر لینا یا وہاں مضمون پڑھ دینا یہ کافی نہیں ہے۔

صدارتی خطبے میں پروفیسر جلیل عالی نے کہا کہ مجھے خوشی ہوئی کہ اس کانفرنس میں تدریسی باتوں کے بجائے فکر انگیز باتیں ہوئیں۔ مسائل کے حوالے سے باتیں ہوئیں۔

مجلس صدارت میں سے پروفیسر احسان اکبر نے کہا آدم کے وجود کے بارے میں یہ کہا گیا جس نے ایک آدمی کو مارا گویا اس نے سارے آدمیوں کو ماردیا۔ آدم تکریم رکھتا ہے۔ میں کوشش کر رہا ہوں کہ یہ بات کم مذہبی بنے۔ اقبال کا کہنا یہ ہے کہ انسان کو عالمی ذمہ داری کا مکلف اسلام کرتا ہے، حضور کی ذات کرتی ہے۔ یہیں پر عالمگیریت آنی تھی اور یہیں آئی۔

مجلس صدارت میں سے پروفیسر فتح محمد ملک نے اپنی گفتگو میں کہا کہ موضوع چونکہ ایک نہیں تھا بہت سے موضوعات پہ خیال انگیز گفتگو ہوئی۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس گفتگو سے آدمی زندگی بھر روشنی لیتا رہتا ہے لیکن آج ہم جس دور سے گزر رہے ہیں۔ ڈاکٹر شکیل روشن صاحب نے اقبال کی تعلیمات جو ملائیت کے خلاف ہے اور جو ملائیت کو اقبال کی ضد سمجھتے ہیں۔ ہماری آج کی اصلی صورت حال یہ ہے کہ اقبال کو ہمارے حکمران طبقے نے بالکل فراموش کردیا ہے۔

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -