پاکستان کا آئی ٹی سیکٹر، یہ دوڑ ہمیں جیتنا ہو گی!

پاکستان کا آئی ٹی سیکٹر، یہ دوڑ ہمیں جیتنا ہو گی!

  

آج کے تیزی سے بدلتے ہوئے کارپوریٹ ماحول میں، انفارمیشن ٹیکنالوجی (IT) تبدیلی کا ایک اہم سہولت کار ہے۔ آئی ٹی انقلاب کے نتیجے میں پوری دنیا میں لوگوں کا طرز زندگی بدل گیا ہے۔ پوری دنیا میں حکومتیں اور نجی کاروبار آء ٹی کے حل پر کام کر رہے ہیں تاکہ ان کو پھلنے پھولنے میں مدد ملے۔ اس ٹیکنالوجی نے پاکستان میں تیزی سے بڑھتی ہوئی صنعت کے طور پر بھی ترقی کی ہے۔ پاکستان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی تیزی سے ترقی کرنے والا شعبہ ہے۔ معاشی خرابی کے دوران بھی، پاکستان کی آئی ٹی انڈسٹری کو مالی طور پر ایک کامیاب شعبہ سمجھا جانے لگا ہے۔ پاکستانی حکومت نے ملک میں آئی ٹی سرمایہ کاروں کو کئی فوائد فراہم کیے ہیں، جس کے نتیجے میں آئی ٹی سیکٹر کی ترقی ہوئی ہے۔ مگر ایک آئی ٹی کے سٹوڈنٹ کو آج بھی کوئی انو ویشن (innovation)لانے کے لیے بہت سے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔

دنیا میں چوتھا صنعتی انقلاب جاری ہے، جس میں روبوٹس، مصنوعی ذہانت، نینو ٹیکنالوجی، کوانٹم کمپیوٹنگ، بائیوٹیکنالوجی، انٹرنیٹ آف تھنگز، (آئی او ٹی) 3D پرنٹنگ، اور خود مختار گاڑیاں جیسے شعبوں میں ملازمین کی ضرورت ہوتی ہے اور یہی، روزگار کی اگلی لہر ہے۔

نوجوانوں کے لیے خاص طور پر ٹیلی ویڑن پر خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا تھاکہ حکومت اسکالرشپ اور کورسز کے ذریعے موجودہ مہارتوں کو فروغ دینے پر توجہ دے رہی ہے تاکہ نوجوانوں کو آمدنی اور کاروبار کے لحاظ سے خود کفیل بنایا جا سکے۔ نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا جیسے اعلیٰ درجے کی صلاحیتوں کے لیے نامزد کیا جائے گا، حکومت کی آئی ٹی سیکٹر میں پاکستانیوں کی ترقی کی خواہش خوش آئند ہے۔ سب سے بہترین بات یہ ہے کہ پاکستان کا آئی ٹی سیکٹر بلین آف ڈالرز کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن کے ساتھ ابھررہا ہے۔ پچھلے چار سالوں میں اس میں مسلسل اضافہ ہوا ہے، اور تجزیہ کار اگلے دو سے چار سالوں میں اس میں مزید چڑھاء و کی پیش گوئی کرتے ہیں۔ ہندوستان کی آئی ٹی انڈسٹری سے موازنہ کیا جائے تو پاکستان کی صرف شروعات ہو رہی ہے۔ ہندوستانی آئی ٹی انڈسٹری پاکستان سے تقریباً51 گنا بڑی ہے، جس کی اکتوبر 2021ء کی درآمد 35.47 بلین ڈالر ہے۔ 

معاشی ریگولیٹری قوانین مختلف طریقوں سے آئی ٹی سیکٹر کی ترقی کی راہ میں رکاوٹوں میں سے ایک ہیں۔ سٹارٹ اپ ہولڈرز، فری لانسرز کے لیے بینک اکاؤنٹ حاصل کرنا ایک مشکل کام ہے۔ دوسرا، غیر ملکی کرنسی کے کنٹرول کے طریقہ کار فری لانسرز کو غیر ملکی کرنسی کو آزادانہ طور پر منتقل کرنے سے روکتے ہیں۔ گورنمنٹ کے اچھے اقدامات کے باوجود اس طرح کے معاملات آئی ٹی سیکٹر کیلئے مشکلات پیدا کرتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں آئی ٹی کمپنیوں اور فری لانسرز کی اکثریت نے متحدہ عرب امارات، سنگاپور اور امریکہ میں بینک اکاؤنٹس کھولے ہیں۔ یہ بات بھی قابل ِ فخر ہے کہ پاکستان کی آئی ٹی انڈسٹری اب ہندوستان کی نسبت تیزی سے ترقی کر رہی ہے، مستقبل میں اس فرق میں قدرے کمی متوقع ہے۔

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -