جامعات کے خود ساختہ میرٹ!

 جامعات کے خود ساختہ میرٹ!

  

کورونا وائرس کے پیش نظر تعلیمی اداروں میں جاری علم وتحقیق کا رک جانا دنیا بھر میں تشویش کی حد تک پہنچ چکا ہے۔اب جبکہ سنٹرل ایشیا بالخصوص وطن عزیز میں علم وتحقیق کا عمل اپنی سمت کی جانب رواں دواں ہوا ہے تو سرکاری جامعات نے خود ساختہ میرٹ بنا کر نہ صرف ہونہاروں کوعلم وتحقیق کے عمل سے دور کردیا ہے بلکہ ان کی ذہنی قابلیت کوذہنی اذیت میں بھی تبدیل کردیا ہے۔اس حوالے سے یہ بھی مشاہدہ میں آیا ہے کہ اپنی ہی جامعات میں پہلے سے علم تحقیق میں مصروف۔طالب علموں کو امتحانات میں کامیابی کے بعد اپنی ہی جامعات میں ان کے داخکوں کو مسترد کتدیا ہے۔ حالانکہ علم وتحقیق کے فروغ کے وواعد وضوابط اور محکمانہ رولز کے مطابق ایسے طالب علموں کے اگلے ڈسپلن میں علم وتحقیق کا پہلے حق ہوتا ہے جوپہلے سے انسٹی ٹیوٹ میں داخل ہوں خیت یہاں تو کچھ سمجھ نہیں آرہا ہے اور اپنی غلطیوں پر پردہ ڈالتے ہوئے وصور۔وار حکومت کو بنا دیا جاتا ہے۔ ایک الزام یہ بھی ہے کہ سہورٹس کی سیٹیں فروخت بھی ہوتی ہیں خیر یہ کام حکومت کا ہے کہ وہ ہر جامعہ کئی سہورٹس سیٹ کا چیک اینڈ بیلنس کرے کیونکہ بہت ساری اسی کھیلیں ہیں جن کا قومی سطح پر وجود ہی نہیں اور نہ ہی لوکل سطح پر ان کو کروایا جاتا ہے مگر ان پر بھی داخلے ہوتے ہیں۔اس حوالے سے سرکاری انسٹی ٹیوشنز بد حالی کاشکار ہیں اور اپنی اجارہ داری کیلئے حکومت کی ہر رٹ کو من مرضی سے مسترد کرہے ہیں۔ اسی طرح کی ایک مثال صوبائی دارالحکومت کی بعض جامعات بنی ہوئیں۔

اس ضمن میں صوبائی دارالحکومت کی معروف سرکاری جامعات میں فرسٹ ائیر (گیارہویں جماعت) میں داخلوں کی غرض سے بدترین بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔سب سے زیادہ مالی و انتظامی بدعنوانی کا انکشاف گورنمنٹ کالج یونیورسٹیزمیں ہوا ہے۔ جہاں ہائیر ایجوکیشن کمیشن پاکستان، ہائیرایجوکیشن کمیشن پنجاب، ہائیرایجوکیچن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کے قوانین کے برعکس خودساختہ داخلہ پالیسی مرتب کی گئی۔جس سے سینکڑوں امیدواران ناقص داخلہ پالیسی کی زد میں آکر داخلوں سے محروم ہوگئے ہیں داخلے کے لیے بورڈز کے نتائج کو۔رد کرتے ہوئے اپنے خوساختہ امتحان کو پاس کرنا لازمی قرار دیا۔ انتظامیہ نے اس کے نتائج بھی خود اعلان کیے کسی تھرڈ پارٹی پر بھی اعتماد نہیں کیا اس تناظر میں یونیورسٹی نے لاکھوں پراسپیکٹس کی منہ مانگے داموں بے دریغ خرید وفروخت بھی کی اور اس مد میں کروڑوں روپے کمائے۔اس خودساختہ امتحان میں انتظامیہ نے ایچ ای سی،ایچ ای ڈی کی داخلہ پالیسی کو۔رد کرتے ہوئے امیدواران سے ڈسپلن چوائس کا حق بھی چھین لیا جس سے سنکڑوں بچے بورڈز میں نمایاں نمبرز لے کر بھی داخلہ کے حق سے محروم رہے۔اس ضمن میں امیدواران نے الزام عائد کیا ہے کہ یونیورسٹی ہر سال داخلوں میں مختلف نوعیت کی خود ساختہ پالیسیاں مرتب کرکے پہلے بھی الزامات میں گھیری رہی ہے اور متعدد افسران سزائیں بھی بھگت چکے ہیں۔ داخلوں پر انکوائری پر یونیورسٹی انتظامیہ پر الزامات ثابت ہوچکے ہیں۔ اس تناظر میں یونیورسٹی انتظامیہ کو کوئی پوچھنے والا نہیں جبکہ دیگر تمام سرکاری جامعات نے اوپن میرٹ پر داخلہ کیا ہے اور ڈسپلنز چوائس بھی دی ہے۔ اس کے بارے میں یونیورسٹی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی کے طور پر داخلہ پالیسی مرضی کی بنانے پر ہم کسی کو جواب دہ نہیں جہاں تک فرسٹ ائیرکے داخلوں کی بات ہے تو یہ بات درست ہے کہ کسی بھی امیدوار کو فارم ڈسپلنز کی چوائس کے ساتھ نہیں دیئے گئے اور نہ ہی اس کوکسی دوسرے ڈسپلن کے لیے کنورڈ کیا جاسکتا ہے باقی یونیورسٹیز کی کیا پالیسی ہے س کا ہم سے کوئی تعلق نہیں ہم نے داخلہ کے لیے الگ سے امتحان لیا جس کا الگ سے ایگری گیٹ بھی خود بنایا امتحان میں داخلے کا اہل چالیس فیصد ٹیسٹ نتائج کا رکھا گیا اور پچاس فیصد بورڈز امتحانات کے نتائج کا جبکہ باقی نمبر انٹرویوز کے رکھے گئے اس۔تناظر بہت سے ایسے بچے بھی ہیں جنہوں نے ہمارے لیے گئے امتحان میں ہچاس فیصد سے زائد نمبرز لیے مگر ایگری گیٹ پر پورا نہ اترنے پر ان کو داخلہ نہیں دیا گیا جہاں تک سپورٹس داخلوں کی بات ہے تو۔وہ ایسے ہی ہوتے ہیں البتہ ہم نے ٹرائیلز لیے ہیں۔ دوسری جانب امیدواران نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس ضمن پر سخت ایکشن لیا جائے۔

٭٭٭

ہونہار سٹوڈنٹس کوعلم وتحقیق کے عمل سے دور اور ان کی ذہنی قابلیت کواذیت میں بھی تبدیل کردیا گیا

سینکڑوں بچے نمایاں نمبرز لیکر بھی داخلہ کے حق سے محروم رہے

مزید :

ایڈیشن 1 -