لاقانونیت اور عدم برداشت…… اور رجحان سامنے!

لاقانونیت اور عدم برداشت…… اور رجحان سامنے!

  

سیالکوٹ میں بہیمانہ قتل کے حوالے سے عدم برداشت اور قانون کو ہاتھ میں لینے کے معاشرتی عمل پر بحث جاری ہے لیکن اسی بے عملی کی دو اور مثالیں سامنے آ گئی ہیں، فیصل آباد میں دکاندار حضرات نے دو خواتین کو چوری کے شبہ میں نہ صرف حبس بے جا میں کھ کر تشدد کیا بلکہ بازار میں گھسیٹا،جس سے ان کے کپڑے بھی پھٹ گئے،جبکہ ایک اور واقعہ میں ایک خاتون کو بھتہ خوروں نے بھتہ نہ دینے پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی، اس سے اس  کے جسم کا65 فیصد حصہ جل گیا اور اسے تشویشناک حالت میں علاج کے لئے لاہور منتقل کیا گیا۔ہر دو واقعات منظر عام پر آنے کے بعد پولیس نے کارروائی کی۔ فیصل آباد میں دکان مالک سمیت پانچ افراد گرفتار کر لئے گئے،اور دوسروں کی تلاش  ہے،جبکہ خاتون کو جلانے کے جرم کے حوالے سے بھی دو افراد حراست میں ہیں۔ ہر دو جرائم کی نوعیت اگرچہ مختلف ہے تاہم ان میں مشترک جرم یہ ہے کہ قانون کو ہاتھ میں لیا گیا۔ بھتہ خوری تو یوں بھی جرم اور ظالمانہ فعل ہے۔ایک غریب خاتون کو روزی نہیں کمانے دی گئی اور جو چپ رہ کر بھتہ دیتے رہے،وہ محفوظ ہیں، جبکہ چوری کے الزام میں  مار پیٹ جیسا جرم واضح طور پر قانون کو گھر کی لونڈی سمجھنے کا معاملہ ہے۔یہ دونوں جرائم بھی ہمارا بھیانک چہرہ ہی سامنے لائے ہیں، اور ثابت کرتے ہیں کہ ہمارے معاشرے پر تشدد پسند اور قانون کو ہاتھ میں لینے کے عادی کتنا بڑھ چکے ہیں۔اس سلسلے میں یہ شکایت بھی ہے کہ قانون کے رکھوالوں کی لاپرواہی بھی ان جرائم میں معاون ہے۔اگر قانون کے لمبے ہاتھ ایسے لوگوں کی بروقت گردن ناپ کر کارروائی کریں تو بھی جرائم میں کمی کا امکان ہو سکتا ہے۔پے در پے ایسے واقعات نے واقعی جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے تو پھر اب اصلاح احوال کے لیے بھی مکمل غور کے بعد لائحہ عمل اختیار کرنا ہو گا،ریاست کا فرض ہے کہ وہ جرائم کی بیخ کنی کے لیے ہاتھ سخت کرے، توجہ سیاست پر مرکوز رکھنے کے ساتھ ساتھ یہ فرض بھی نبھایا جائے کہ یہ خطرناک رجحان ختم ہوں،اور ان کے لیے الفاظ نہیں سخت کارروائی ہی موثر ہو سکتی ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -