قائمہ کمیٹی قومی اسمبلی پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کے وفد کادورہ مہمند ڈیم 

قائمہ کمیٹی قومی اسمبلی پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کے وفد کادورہ مہمند ڈیم 

  

مہمند(خصوصی رپورٹ)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی پلاننگ ڈویلپمنٹ اور سپیشل انیشی ایٹوکے وفد نے واپڈا کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع مہمند میں دریائے سوات پر زیر تعمیر مہمند ڈیم پراجیکٹ کا دورہ کیا۔  وفد کی سربراہی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین جنید اکبرکر رہے تھے، دیگر اراکان میں صالح محمد، سر دار محمد عرفان ڈوگر، نوید ڈیرو اور سید آغارفیع اللہ شامل تھے جبکہ ایم این اے ملک تاج انور نے قائمہ کمیٹی کی خصوصی دعوت پر دو رے میں شرکت کی۔ چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل مزمل حسین(ر)، جنرل منیجر مہمند ڈیم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ، کنٹریکٹرز اور کنسلٹنٹس کے نمائندے بھی اِس موقع پر موجود تھے۔دورے کے موقع پر وفدنے ڈ یم کے ڈائی ورشن ٹنلز، سپل وے، ڈیم ایکسز اور پاور اِن ٹیک سمیت مختلف حصوں کا تفصیلی دورہ کیا اور کام کی رفتار پر اطمینان کا اظہار کیا۔ اِس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے قائمہ کمیٹی کے چیئرمین جنید اکبر نے کہا کہ مہمند ڈیم ملک کی پانی اور توانائی کی ضروریات پوری کرنے کیلئے اہم منصوبہ ہے۔ اِسلئے اِس منصوبے کا مقررہ مدت میں مکمل ہونا اشد ضروری ہے۔ اْنہوں نے ہدایت کی کہ واپڈا منصوبے کی بروقت تکمیل کو یقینی بنائے۔قبل ازیں چیئرمین واپڈا نے مہمند ڈیم پراجیکٹ کا دورہ کرنے پروفدکا شکریہ ادا کیا اور کہا قائمہ کمیٹی اراکان کا یہ دورہ ملک کی معاشی اور معاشرتی ترقی کیلئے آبی وسائل سے بھر پور استفادہ کرنے کیلئے اِن کی دلچسپی اور سپورٹ کا عکاس ہے۔بریفنگ کے دوران وفد کو بتایا گیا مہند ڈیم ایک سی ایف آر ڈ یم (CFRD)ہے اور اپنی ساخت کے اعتبار سے دْنیا کا پانچواں بڑا ڈیم ہے۔ اِس وقت منصوبے کی 13 مختلف سائٹس پر تعمیراتی کام بیک وقت جاری ہے اور تسلی بخش رفتار سے آگے بڑھ رہا ہے۔ اِن سائٹس میں ڈائی ورشن ٹنلز، پاور اِن ٹیک، پاور واٹر وے، سپل وے، ری ریگولیشن پانڈ، لیفٹ بنک اری گیشن ٹنل، سوئچ یارڈ، پاور ہاؤس، مین ڈیم کے کناروں کی کھدائی، رابطہ سڑکیں اور پراجیکٹ کالونی شامل ہیں۔ اہم بات یہ ہے کورونا وبا کے باعث جہاں پوری دْنیا اِس سے متاثر ہوئی لیکن اِس پراجیکٹ پر کام جاری رہا۔وفد کو بتایا گیا مہمند ڈیم کا پہلا یونٹ 2025ء میں مکمل ہوگا۔ تکمیل پر مہمند ڈیم میں 12لاکھ ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ ہوگا،پشاور، چار سدہ اور نوشہرہ کے علاقوں میں سیلاب سے بچاؤ میں مدد ملے گی اور ایک لاکھ 60 ہزار ایکڑ موجودہ زرعی اراضی کیساتھ ساتھ 18 ہزار 237  ایکڑ نئی زمین زیر کاشت لائی جاسکے گی۔ مہمند ڈیم کے پاور ہاؤس کی پیداواری صلاحیت 800میگاواٹ ہوگی اور نیشنل گرڈ کو ہر سال دو ارب 86 کروڑ یونٹ ماحول دوست اور کم لاگت پن بجلی مہیا کریگا۔ اِس منصوبے سے پشاور شہر کو پینے کیلئے روزانہ 300 ملین گیلن پانی بھی فراہم کیا جائیگا۔ منصوبے کے سالانہ فوائد کا تخمینہ 51ارب 60کروڑ روپے لگایا گیا ہے۔ وفد کو مزید بتایا گیا پراجیکٹ ایریا میں مقامی لوگوں کی ترقی اور خوشحالی کیلئے 4ارب 50 کروڑ روپے کی خطیر رقم اعتماد سازی کے اقدامات کے طور پر خرچ کی جارہی ہے۔

مہمند ڈیم دورہ

مزید :

صفحہ آخر -