سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ میں حکومت پر تنقید، سینیٹر فیصل اور شیری رحمان میں جھڑپ 

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ میں حکومت پر تنقید، سینیٹر فیصل اور شیری رحمان ...

  

اسلام آباد(آئی این پی)سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے خزانہ میں حکومت پرتنقید کرنے پر سینیٹر فیصل رحمان اور شیری رحمان میں جھڑپ ہوگئی،چیئرمین کمیٹی طلحہ محمود نے کہاکہ کچھ ارکان سیاسی ایجنڈے کے تحت کمیٹی کو متنازعہ بنارہے ہیں جس کی مذمت کرتاہوں چیئرمین سینیٹ کوبھی اس حوالے سے خط لکھوں گا کمیٹی میں سب کواپنی سیاسی جماعت سے بالاترہوکر بات کرنی چاہئے۔چیئرمین کمیٹی کے میکپ پر ٹیکس میں اضافے کے ریماکس پر سینیٹر شیری رحمان نکمیٹی سے واک آوٹ کرگئیں۔کمیٹی نے سینیتر فاروق ایچ نائیک کو کریدیٹ کارڈجاری نہ دینے پر متعلقہ بینک کے خلاف انکوائری کرکے15دن میں ذمہداران کے خلاف  کاروائی کی ہدایت کردی۔ فاروق ایچ نائیک کے خلاف نیب انکوائری ہورہی ہے اس لیے  بینک نے کریڈیٹ کارڈ دینے سے معذرت کی ہے۔نیب کو کمیٹی میں طلب کرنے کے لیے چیئرمین سینیٹ کوخط  لکنے کافیصلہ کرلیاگیا۔پاکستان میں لگژری ایٹمز پر مکمل پابندی کی کمیٹی نے سفارش کردی تاکہ درآمدی بل کم ہوسکے۔سینیٹ قائمہ  کمیٹی برائے خزانہ کااجلاس سینیٹر طلحہ محمود کی سربراہی میں پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔سلیم مانڈوی والا نے کہاکہ ٹرسٹ کا ڈائریکٹر مجھے نہیں بننے دیا گیا کہاگیا اگر آپ  ڈائریکٹر  نہیں بن سکتے ہیں آپ کے خلاف نیب کی انکوائری ہورہی ہے۔ایس ای سی پی  ڈائریکٹر بنانے سے کیوں انکار کرتھاہیکس قانون میں ہے کہ اگر کسی پر نیب کی انکورائری ہورہی ہو تو وہ  ڈارئریکٹر نہیں بن سکتاہے۔اسٹیٹ بینک  بھی اسی وجہ سے بینک کے ڈائریکٹر نہیں بننے دیتے ہیں کہ اس کے خلاف نیب انکورائری ہورہی ہے نیب چلتے پھرتے کیس بنا دیتا ہے یہ کس قانون کے تحت یہ کرتے ہیں اگر اس طرح کا قانون ہے اس کو ختم کیاجائے۔ایس ای سی پی والے کہتے ہیں کہ نیب والے ہمارے لوگ اٹھاکر لے جاتے ہیں اس لیے ڈائریکٹر نہیں  بناسکتے ہیں۔ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر عنایت حسین نے کمیٹی کوبتایاکہ  یہ قانون ہے کہ جو ڈائریکٹر ہواس کے خلاف کوئی انکوائری نہیں ہونی چاہیے مگر اس کو تبدیل کردیا ہے کہ مجرم ثابت نہ ہو توکمپنی کا ڈائریکٹر بن سکتا ہے۔سینیٹرسلیم مانڈوی والا نے کہاکہ فاروق ایچ نائیک کو کریڈیٹ کارڈ اس وجہ سے نہیں دیا گیا کہ ان کے خلاف نیب انکوائری ہورہی ہے یہ لوگوں کی توہین ہے کہ ان کے ساتھ اس طرح کاسلوک کیاجائے۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر طلحہ محمود نے سینیٹر فاروق ایچ نائیک کوکریڈیٹ کارڈ کی سہولت نہ دینے پر اسٹیٹ بینک کے حکام کوانکوائری کرکے 15دن کے اندر رپورٹ کمیٹی کودینے اور ذمہ داروں  کے خلاف کاروائی کرنے کی ہدایت کردی۔سلیم ماندوی والا نے کہاکہ نجی بینک الفلاح نے ان کوکریڈیٹ  کارڈدینے سے انکارکیاہے۔ سینیٹرسعدیہ عباسی نے کہاکہ کمیٹی میں نیب حکام کو بلایا گیا مگر وہ نہیں آئے۔نیب والے لوگوں حراساں کرتے ہیں۔ میری فوت ہونے والی والدہ کے حوالے سے پوچھ گچھ کی جارہی تھی۔بینک سے ان کے اکانٹ کے بارے میں معلوم کیا گیا ہمارے فیملی کو حراساں کیا جارہاہے۔چیئرمین کمیٹی نے اگلے اجلاس میں نیب کوطلب کرنے کے لیے چیئرمین سینیٹ کوخط لکھنے کافیصلہ کرلیا۔ایس ای سی پی حکام نے کمیٹی کو بتایاکہ بہت سے ٹرسٹ ہیں جو سالوں سے نہیں بتارہے کہ ان کو فنڈز کہاں سے آرہے ہیں۔ڈائریکٹر بنانے کے حوالے سے رولز کو تبدیل کردیاہے چیئرمین نیب انکوائری کی منظوری دے تب  کوئی کمپنی کا ڈائریکٹر نہیں بن سکتا تھا۔اب کمپنی بیان حلفی دے گی کہ ان کے ڈائریکٹر پر کوئی الزام نہیں ہے۔ایک ہفتہ پہلے ان ریگولیشن کو تبدیل کردیا ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے بتایاکہ ان کومشیر خزانہ شوکت ترین کی کال آئی تھی اورانہوں نے کہاکہ وہ الیکشن کی وجہ سے اجلاس میں شریک نہیں ہوسکتے ہیں اوراجلاس کی تاریخ آگے کرنے کی درخواست کی ہے اس لیے سعودی عرب سے لون،ملک میں مہنگائی کے صورت حال اور منی بجٹ کے حوالے سے ایجنڈے کوموخر کردیتے ہیں جب وہ خود کمیٹی میں آئیں گے تو اس ایجنڈے پر بات کریں گے۔

سینیٹ کمیٹی کزانہ

مزید :

صفحہ آخر -